تحریر: سید اسد عباس
ملک کے تیرہ معروف و پر اشاعت انگریزی و اردو اخبارات میں، ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے روز اول سے اب تک، تقریبا ایک ہزار آرٹیکلز شائع ہو چکے ہیں۔ ان ہزار آرٹیکلز میں سے 99.9 فیصد آرٹیکل امریکہ و اسرائیل مخالف اور ایران کے حق میں تحریر کیے گئے۔ ان تحریروں کے لکھنے والے پاکستان کے معروف صحافی، سابق جرنیل، سابق ائیر مارشلز، بیوروکریٹس، پروفیسر اور سیاستدان ہیں۔ بعض لکھاریوں نے جہاں اپنی تحریروں میں ایران کی بھرپور حمایت کی وہیں انہوں نے اس جنگ میں عرب ریاستوں کے کردار پر بھی تنقید کی۔ آج ایاز امیر نے دنیا اخبار میں شائع ہونے والی تحریر "امہ کا حال” میں لکھا:
"خاندانی بادشاہتوں کے پاس تیل کی دولت اتنی کہ گنی نہیں جاتی لیکن اپنی کمزوری کی بناء پر امریکہ کی محتاجی اتنی کہ حیرانی کی انتہا نہیں رہتی۔ ایرانی قوم تو انقلاب اور جنگ کے کندن سے گزری ہے‘ وہ اس جنگ کی تباہی سہہ جائے گی لیکن ہماری برادر بادشاہتوں کا کیا بنے گا؟ اُن کے تحفظ کا سارا دارو مدار امریکی اڈوں کے گرد گھومتا تھا۔ امریکی اڈوں کی وجہ سے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے۔ اُس سوچ کا بھانڈا تو ایران نے ایسے پھوڑا کہ برادر ملکوں کی بے بسی دنیا کے سامنے عیاں ہوگئی۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں سے امریکی اپنے اڈے نہ بچا سکے انھوں نے عرب بادشاہتوں کی فضاؤں کو کیا بچانا تھا۔”
ایسی بہت سی تحریریں ہیں جن کو طوالت کے خوف سے ترک کر رہا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ایران کی حمایت کرنے والے اور عرب ریاستوں پر تنقید کرنے والے ان لکھاریوں کو انسان حب الوطن قرار دے یا غدار سمجھے۔ یہی حال عملی سیاست کرنے والوں اور پاکستان کے خواص و عوام کا بھی ہے۔ جس روز میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے وفد کے ہمراہ ایرانی سفارتخانے گیا تو وہاں میں نے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کو دیکھا جو ایرانی سفیر سے رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی رحلت پر تعزیت کے لیے جوق در جوق تشریف لا رہے تھے۔ اب اس عمل کو کیا عنوان دوں۔ اگر ایران کی حمایت میں لکھنے، اس سے اظہار ہمدردی کرنے، اس کے لیے ڈونیشن اکٹھا کرنے، اس کے مخالفین پر نقد کرنے سے انسان حب الوطن نہیں رہتا تو پاکستان میں حب الوطن کون رہ جائے گا؟
ہوش مصنوعی سے جب میں نے حب الوطنی کا معنی پوچھا تو اس کا جواب کچھ یوں تھا۔ آئین و قانون کی پاسداری، قومی مفاد کو ترجیح دینا، تعمیری تنقید، سماجی ذمہ داری و انسانی فلاح کے کاموں میں شمولیت، ملکی وقار اور شناخت پر فخر کرنا، بحرانی کیفیت میں یکجہتی حب الوطنی کے بنیادی مظاہر ہیں۔ جیمینائی نے مزید لکھا حب الوطنی صرف جذباتی نعروں یا جھنڈا لہرانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک "ذمہ دارانہ طرزِ عمل” کا نام ہے۔ جو شخص اپنے شعبے (چاہے وہ پڑھائی ہو، ملازمت ہو یا کاروبار) میں پوری ایمانداری، محنت اور تندہی سے کام کرتا ہے، وہ اپنے ملک کی ترقی میں سب سے بڑا حصہ ڈال رہا ہوتا ہے اور وہی اصل معنوں میں محب وطن ہے۔مجھے ہوش مصنوعی کے اس جواب سے اتفاق ہے۔
میرا مقصد تحریر اگرچہ پورا ہو چکا ہے تاہم میں بات کو مزید کھول کر بیان کرتا ہوں، ہم انسان مختلف طرح کی وابستگیوں، عقائد اور نظریات کے حامل ہیں۔ ہماری معاشرے سے پہلی وابستگی بحیثیت انسان ہے، اس کے بعد بحیثیت مسلمان، اس کے بعد ہم مسلکی، لسانی، قومی وابستگیاں رکھتے ہیں۔ ان وابستگیوں کا اظہار اگر ملک کے آئین و قانون کے دائرے میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، مزید برآں اگر حب الوطنی کے قبل ازیں ذکر کردہ مظاہر کو ٹھیس نہ پہنچے تو کسی پر غدر کا فتوی لگانے میں ہمیں عجلت سے کام نہیں لینا چاہیئے۔
گذشتہ دنوں راولپنڈی میں شیعہ علماء اور فیلڈ مارشل پاکستان جنرل عاصم منیر کے مابین ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے حوالے سے بہت سی اختلافی باتیں سامنے آئیں۔ یہ افطار ڈنر 18 مارچ کو رکھا گیا جس میں 23 شیعہ علماء موجود تھے۔ روزنامہ جنگ کے لکھاری مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق اس ملاقات کا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور حساس مذہبی امور پر براہِ راست بات چیت کرنا تھا۔ ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آیت اللہ خامنہ ای سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ ان سے تین بار مل چکے ہیں، خامنہ ای ان سے محبت رکھتے تھے اور وہ خود بھی ان کی شہادت پر وہی دکھ محسوس کرتے ہیں جو شیعہ برادری محسوس کرتی ہے۔ فیلڈ مارشل نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکہ ایران تنازع میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور اِنشا اللہ ایران ایک کامیاب قوم بن کر ابھرے گا۔
مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق گفتگو کے دوران جب گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے واقعات کا ذکر ہوا تو فیلڈ مارشل جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ فوجی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں اور فوجیوں کو شہید کرتے ہیں، وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں اور اگر وہ پاکستان سے محبت نہیں کرتے تو انہیں ملک چھوڑ دینا چاہیئے۔ کچھ شیعہ علماء نے اسی روایت کو ذرا مختلف الفاظ میں بیان کیا اور چیف صاحب کے آخری جملے کو شیعہ قوم کی توہین قرار دیا۔ ممکن ہے سننے والوں کو غلط فہمی ہوئی ہو تاہم شیعہ علماء کا یہ دربار زیادہ مطمئن نہ تھا۔ اگر اس دربار میں تمام مسالک کے علماء موجود ہوتے تو بات شائد اتنی حساس نہ ہوتی، مگر نہ چاہتے ہوئے آخری الفاظ کا غلط تاثر چلا گیا۔
حب الوطنی کے وہ مظاہر جو میں نے قبل ازیں بیان کیے یعنی ملک کے آئین و قانون کی پاسداری، تعمیری تنقید، سماجی ذمہ داری و انسانی فلاح، ملکی وقار اور شناخت پر فخر، بحرانی کیفیت میں یکجہتی نیز ملک کی تشکیل میں شیعہ قوم کے کردار سے بھلا چیف صاحب سے بہتر کون واقف ہو سکتا ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر ایران جنگ کے حوالے سے جو متوازن کردار ادا کر رہا ہے اس کی تعریف وزارت خارجہ ایران نے بھی کی۔ ہمیں اسی طرح سماجی توازن اور اعتدال کی بھی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی قوم یکجہتی کے ساتھ اس مشکل دور سے سرخرو ہوکر نکلے۔ فرقہ وارانہ اور تعصب پر مبنی بیانیہ کو روکنے کی ضرورت ہے۔ یہ فتوی بازی کا وقت نہیں۔
بشکریہ اسلام ٹائمز