تائیوان چینی سفارتکاری کی ایک انوکھی مثال

Published by سید اسد عباس تقوی on

سید اسد عباس
اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکہ فوجی جواب دے گا، یہ کہنا تھا بائیڈن کا، جو اس وقت جاپان کے دورے پر ہیں۔ اس پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوراً وضاحتی بیان آیا کہ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ ہم ’’ون چائینہ پالیسی‘‘ کو قبول کرتے ہیں۔ ہم نے اس پر دستخط کیے ہیں، لیکن یہ سوچنا کہ (تائیوان) اسے طاقت سے لیا جاسکتا ہے، یہ درست نہیں ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ’’ون چائینہ پالیسی‘‘ کے مطابق تائیوان چین کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ امریکہ تائیوان کو دفاعی ہتھیار مہیا کرتا ہے، تاہم اس نے کبھی بھی اس بات کا کھل کر اظہار نہیں کیا ہے کہ وہ چین کے تائیوان پر حملے کی صورت میں کیا ردعمل دے گا۔ بائیڈن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب Quad یعنی امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا کا ایک اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔ وائٹ ہاوس انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہمیں بائیڈن کی جانب سے ایسے بیان کی توقع نہیں تھی، انھوں نے وضاحت کی کہ امریکہ کی تائیوان کے بارے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

چند ہی گھنٹوں میں چین نے بائیڈن کے اس بیان کا جواب دیا۔ انھوں نے بائیڈن کے اس بیان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بیان کی مذمت کی اور کہا کہ چین کسی بیرونی قوت کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ چین کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ چین کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور مفادات پر کوئی لے دے نہیں ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ ہم امریکہ سے کہتے ہیں کہ وہ فوراً ’’ون چائینہ کے اصول‘‘ کی پاسداری کرے، تائیوان کے مسئلے پر اپنے الفاظ اور اقدامات میں احتیاط سے کام لے، نیز تائیوان میں علیحدگی پسندوں کو کوئی پیغام نہ بھیجے، تاکہ خلیج تائیوان میں حالات پرامن رہیں اور امریکہ چین تعلقات بھی بہتر رہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تائیوان چینی ساحل سے 117 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم مختلف جزائر ہیں، جن میں تائیوان، پینگھو، کنمن، مسٹو اور چند چھوٹے جزائر ہیں، جو مشترکہ طور پر تائیوان کہلاتے ہیں۔ ان جزائر کی آبادی تقریباً 23 ملین ہے۔ تائیوان بنیادی طور پر دو کیمونسٹ جماعتوں ریپبلک آف چائنہ اور پیپلز ریپبلک آف چائینہ کے مابین ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ تائیوان پہلے پہل ہالینڈ کی کالونی بنا، ہان چائنیز نسل نے اس خطے کے کچھ علاقے پر 1661ء سے 1683ء تک حکومت کی۔ اس کے بعد چنگ خاندان کا تائیوان کے جنوبی علاقوں پر اقتدار قائم ہوا۔ پہلی چین جاپان جنگ کے نتیجے میں 1895ء میں تائیوان اور پینگھو جاپان کے زیر قبضہ چلے گئے۔ ریپبلک آف چائنہ نے 1912ء میں تائیوان میں چنگ حکومت کا تختہ الٹ دیا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اتحادی افواج کا ساتھ دیتے ہوئے تائیوان میں موجود جاپانی افواج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ یوں پچاس برس کے بعد پورے تائیوان پر چینی قبضہ ہوگیا۔

1945ء میں جنگ عظیم دوئم کے بعد چین میں ROC ریپبلک آف چائینہ اور PRC پیپلز ریپبلک آف چائینہ کے مابین سول جنگ کا آغاز ہوا، جس کا اختتام PRC کی کامیابی کی صورت میں سامنے آیا۔ ROC تائیوان کی جانب چلی گئی اور وہاں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ ROC کے سربراہ کو منگ تنگ نے چالیس برس تک تائیوان پر حکومت کی۔ ROC  اپنے آپ کو مین لینڈ چائینہ اور تائیوان کی قانونی حاکم سمجھتی ہے، یعنی وہ اس امر کی دعویدار نہیں ہے کہ تائیوان چین سے الگ کوئی خطہ ہے، تاہم تائیوان میں ایسی کچھ قوتیں موجود ہیں، جو تائیوان کو ایک خود مختار علاقہ قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب جاپان نے تائیوان کو چھوڑا تو اس نے اس علاقے کو چین کے سپرد نہیں کیا بلکہ تائیوان کے عوام کے سپرد کیا ہے۔ بہرحال 1980ء میں تائیوان میں جمہوری اصلاحات کی گئیں، جس سے 1996ء میں صدارتی انتخابات ہوئے اور تائیوان ایشیاء میں چوتھی بڑی صنعتی طاقت کے طور پر ابھرا۔

1971ء میں PRC نے اقوام متحدہ میں ROC کی جگہ لی اور متعدد خود مختار ریاستوں نے چین پر PRC کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ ROC کی حکومت کو 2000ء تک 15 ریاستوں نے قبول کیا ہے، حتی کہ امریکہ کا تائیوان میں کوئی سفارت خانہ نہیں ہے، بلکہ ایک انسٹی ٹیوٹ عارضی سفارت خانے کے طور پر کام کرتا ہے۔ مین لینڈ چائینہ کا کہنا ہے کہ ہم دونوں ایک چین کا حصہ ہیں، جہاں دو الگ الگ نظام ہیں۔ چین نے اگرچہ کبھی بھی تائیوان میں قائم حکومت میں مداخلت نہیں کی، لیکن چین میں بر سر اقتدار پارٹی تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتی ہے۔ چین کے موجودہ صدر زی جنگ پنگ کا کہنا ہے کہ تائیوان اور چین کا اتحاد بدیہی ہے، تاہم اس کے لیے کسی قسم کی قوت کا استعمال بعید از قیاس ہے۔

مین لینڈ چائنہ میں بر سر اقتدار جماعت کسی بھی ایسی ریاست کے ساتھ سفارتی، تجارتی یا کسی بھی قسم کے تعلقات استوار نہیں کرتی، جو ROC کے حق حاکمیت کو قبول کرتی ہے، تاہم تائیوان کے ساتھ معاشی اور ثقافتی تبادلے پر اعتراض نہیں کرتی۔ جیسا کہ سطور بالا سے ظاہر ہوا کہ تائیوان کا مسئلہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ تائیوان کے عوام دو نظریاتی دھڑوں میں منقسم ہیں، ایک گروہ خود کو چین کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم وہ نہ فقط تائیوان بلکہ مین لینڈ چین پر بھی اقتدار کو اپنا حق سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ ملک کی آزادی کا قائل ہے۔ مین لینڈ چین میں بر سراقتدار جماعت تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتی ہے اور اپنی ’’ون چائینہ پالیسی‘‘ کے تحت اس نے تمام دنیا سے روابط قائم رکھے ہوئے ہیں۔

مین لینڈ چائنہ میں بر سر اقتدار جماعت کا خیال ہے کہ تائیوان کا مسئلہ فوجی طاقت سے حل نہیں کیا جانا چاہیئے بلکہ یہ مسئلہ پرامن ذرائع سے حل کیا جائے۔ چین سفارتکاری کے ذریعے تائیوان پر اپنے حق حکومت اور اقتدار کو ثابت کیے ہوئے ہے۔ وہ دنیا کے ممالک کو تائیوان کے ساتھ اقتصادی اور ثقافتی تعلقات سے نہیں روکتا، تاہم ایک الگ ریاست کے طور پر سفارتی تعلقات قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ شاید اسی کو چین میں مسائل کو سرد خانے میں ڈالنے کی پالیسی کہا جاتا ہے۔ امریکہ 1979ء سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کر رہا ہے، تاہم تائیوان میں وہ اپنا سفارتخانہ قائم نہیں کرسکتا اور نہ ہی تائیوان میں برسر اقتدار جماعت امریکہ میں اپنا سفارتخانہ قائم کر سکتی ہے۔

بشکریہ : اسلام ٹائمز