Skip to content
nisartirmazi

مولوی ابراہیم مرحوم

مولوی ابراہیم صاحب مرسیاں، ضلع جالندھر (ہندوستان) سے ہجرت کرکے ہمارے گائوں شیخن میں آباد ہوئے تھے۔ راج گیری پیشہ تھا، جس میں وہ قابل رشک مہارت رکھتے تھے۔ کچھ زرعی زمین بھی تھی۔ ہمارے گائوں ’’شیخن‘‘ کی زیادہ تر آبادی اہل بیتؑ کے ماننے والوں پر مشتمل ہے۔ آزادی سے پہلے یہاں چند گھرانے ہندوئوں کے آباد تھے، جن کی جگہ بعد ازاں مولوی ابراہیم اور ان کی برادری کے افراد آباد ہوگئے۔ مولوی ابراہیم شروع ہی سے مذہب کی جانب انتہائی رغبت رکھتے تھے۔ قرآن کی تلاوت و نماز کی پابندی اور دیگر واجبات کی ادائیگی کو فریضہ اولین گردانتے تھے۔ مذہب کے اعتبار سے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ شیخن گائوں میں آباد ہوتے ہی مولوی صاحب نے اپنی ایک علیحدہ مسجد تعمیر کروائی اور خود اس کے امام جماعت اور تراویح سمیت تمام عبادت میں مولوی صاحب اپنی برادری کی راہنمائی کرتے تھے، کیونکہ اپنی برادری میں صرف موصوف ہی پڑھے لکھے تھے۔ اگرچہ مولوی صاحب نے صرف قرآن مجید ہی پڑھا تھا، مگر وہ اردو آسانی سے پڑھ لیتے تھے۔ ادھر تعصب کا عالم یہ تھا کہ شیعوں کے گھر کی کسی چیز کو اپنے لیے روا نہ سمجھتے تھے، کیونکہ مولوی صاحب راج گیری میں مہارت رکھتے تھے، اس لیے دور دور سے لوگ انھیں تعمیر کے لیے لے جاتے۔

nisartirmazi

حاجی محمد محسن

محسنین کی خدمات کا تذکرہ، دوسروں کے لیے مثال بنتا ہے۔ بعض لوگوں کو ایسی لابی میسر آجاتی ہے کہ وہ انہیں یاد رکھتی ہے اور بہت سے نیک لوگ ایسی سہولت میسر نہ آنے کی وجہ سے گمنامی کے اندھیروں میں چھپ جاتے ہیں۔ بعض کو تعصب کی وجہ سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بعض کے اپنے ہی اتنے لاپرواہ اور لاعلم ہوتے ہیں کہ اپنے ہیروز کو پہچان نہیں پاتے یا انہیں شعور نہیں ہوتا کہ جس منزل پر وہ پہنچے ہیں، ان کی بنیادیں کتنی گہری ہیں یا کتنوں کی محنتیں یا زحمتیں یا خون اس میں شامل ہے۔ ایسی ہی ایک ہمارے حلقوں میں غیر معروف شخصیت حاجی محمد محسن اصفہانی کی ہے، جو 1732ء میں پیدا ہوئے اور 1812ء میں خاک نشین ہوگے۔ ھوگلی امام بارگاہ چن سورہ میں آسودہ خاک ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری جائیداد مذہب، تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی۔

nisartirmazi

امیر علی شاہ مرحوم

بات گذشتہ صدی کی ہے۔ 24 فروری 1986ء کو لاہور میں ایک اجلاس ہوا تھا، جس میں چالیس کے قریب ملازمین و مزدور رہنماء جمع ہوئے تھے۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے اس کی میزبانی کی تھی۔ گفتگو کے نتیجے میں ایک کمیٹی بنی اور مجھ بندہ ناچیز کو اس کا رکن بنایا گیا تھا۔ کمیٹی کے ایک دو اجلاس ہوئے، مگر پھر عملاً یہ کمیٹی یک رکنی بن گئی۔ امامیہ ایمپلائز ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام سے ملازمین سے رابطے کا کام شروع کیا گیا۔ 2۔دیو سماج کے دفتر کا منفرد مزاج تھا۔ یہ دفتر تقریباً چوبیس گھنٹے کھلا رہتا تھا۔ شام کے وقت خوب رونق ہوتی۔ پورے لاہور سے کارکن آتے رہتے۔ معلومات حاصل کرتے، ذمہ داریاں قبول کرتے اور چلے جاتے۔ گپ شپ بھی چلتی رہتی۔ نئے لوگ قافلے میں شامل ہوتے رہتے۔ ہر آنے جانے والے سے میرا تعارف کروایا جاتا اور تعاون کے لیے کہا جاتا۔