Skip to content

قرض کی پیتے ہو مے، ناچتے ہو رات دن

تحریر: سید اسد عباس

بھائی جان کے حالات خراب ہیں، انھوں نے جو پیسے ہمیں ادھار دے رکھے تھے، اچانک واپس مانگ لیے ہیں۔ یہ تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر بنتے ہیں، جو اسی ماہ ہمیں واپس کرنے ہیں۔ ان میں سے 45 کروڑ ڈالر کی رقم مالی سال1996-97ء میں بطور قرض لی گئی تھی جبکہ باقی رقوم 2018ء اور 2019ء میں بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ کے طور پر حاصل کی گئیں۔ ان رقوم پر ابتدا میں تقریباً تین فیصد جبکہ بعد ازاں چھ سے ساڑھے چھ فیصد تک سود ادا کیا جاتا رہا۔ چھوٹو نمبر ایک کا کہنا ہے، اچھا ہوا بھائی جان نے قرض واپس مانگ لیا، کیونکہ اس رقم پر شرح سود مسلسل بڑھ رہی تھی اور دوسرا بھائی جان تھوڑے تھوڑے عرصے بعد سود کی رقم کو اچانک بڑھا دیتے تھے۔ ہم اب کسی اور سے کم سود پر قرض پکڑ لیں گے۔ چھوٹو نمبر دو کا کہنا ہے کہ آج ہم ایک ایسے نازک دور سے گزر رہے ہیں، جہاں ایک طرف خطے میں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے، ایران، امریکا اور پورا مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، تیل کی بڑھتی قیمتیں پاکستان کے عام آدمی کی زندگی کو جھلسا رہی ہیں، مہنگائی نے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں اور ایسے میں بھائی جان، جنھیں ہم نے ہمیشہ بڑے بھائی کا درجہ دیا، اس کڑے وقت میں اپنے 3 اعشاریہ 5 ارب ڈالر واپس مانگ رہے ہیں۔

یہ چھوٹو تھوڑا زیادہ جذباتی ہوگیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو ہمیشہ صرف دوست نہیں، ایک قریبی عزیز سمجھا۔ حکومت کسی کی بھی رہی ہو، عمران خان کی یا شہباز شریف کی، عسکری قیادت میں جنرل باجوہ ہوں یا موجودہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سب نے اماراتی قیادت کو غیر معمولی عزت دی۔ ان کے صدور اور ولی عہد جب بھی پاکستان آئے، ان کے طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے شاہین انھیں حصار میں لے لیتے، جنگی جہاز سلامی دیتے اور یہ منظر پاکستانی قوم فخر سے دیکھا کرتی۔ ایئرپورٹ سے لے کر ایوانِ صدر تک ایسا پروٹوکول دیا جاتا جیسے کوئی اپنا بزرگ گھر آیا ہو۔ کئی مواقع پر خود پاکستانی قیادت نے ذاتی طور پر گاڑی ڈرائیو کرکے مہمان نوازی کا ایسا اظہار کیا، جو صرف سفارت نہیں بلکہ محبت کی زبان تھی۔ یہ تعلق صرف حکمرانوں تک محدود نہیں تھا۔ دبئی، ابوظہبی، شارجہ اور دیگر اماراتی شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کی بنیادوں میں پاکستانی مزدور کے ہاتھوں کی محنت شامل ہے۔

ان شاہراہوں کی چمک میں پاکستانی انجینئر، مستری، الیکٹریشن، ڈرائیورز اور کارباری طبقے کا حصہ بھی روشن حقیقت ہے۔ لاکھوں پاکستانیوں نے وہاں صرف ملازمتیں نہیں کیں بلکہ اپنی جوانیاں کھپا دیں۔ پھر صرف محنت ہی نہیں، سرمایہ بھی پاکستان نے دیا۔ پاکستانی سرمایہ کاروں نے دبئی کی ریئل اسٹیٹ، تجارت، ہوٹلنگ اور خدمات کے شعبوں میں اربوں ڈالر لگائے۔ چھوٹو نمبر دو بہالپور میں صحرائی پرندوں کے شکار کو بھول گیا۔ اماراتی شہزادوں کی ڈاریں بہالپور میں اترتی ہیں اور اپنی دھرتی سمجھ کر اس ملک میں آزادانہ شکار کرتی ہیں۔ چھوٹو یہ بھی بھول گئے کہ جن کی شکل دیکھ کر آپ انھیں مسلمان سمجھ رہے ہیں اور ان سے اسلامی رواداری و ہمدردی کی توقع رکھتے ہیں، انھوں نے یہ رواداری اپنی زبان بولنے والے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ بھی نہیں کی۔ وہ دیکھتے رہے کہ غزہ برباد ہوگیا، مگر ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا۔

چھوٹو نمبر دو کو  بڑا دکھ ہے کہ آپ ٹرمپ کی آمد پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں، غیر معمولی تحائف اور شاہانہ استقبال کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے غریب بھائی سے مشکل حالات میں ادھار واپس مانگ رہے ہیں۔ چھوٹو نمبر دو یہ باتیں کہتے کہتے رو دیا۔ اسے کیا معلوم کہ دنیا کے حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ عین ممکن ہے، تایا جی بھی آپ سے ادھار واپس مانگ لیں۔ آپ اس وقت تقریباً 138 ارب ڈالر کے مقروض ہیں اور تایا جی کا قرض تقریبا 30 ارب ڈالر ہے، جو انھوں نے سی پیک کی تعمیر کے لیے آپ کو دیا۔ تقریباً 12 ارب ڈالر تائی آئی ایم ایف کا بھی قرضہ ہے۔ ماموں ورلڈ بینک کا قرضہ تقریباً 18 ارب ڈالر، خالہ ایشیائی بینک کا قرضہ تقریباً 15 ارب ڈالر ہے۔ خالو پیرس کلب کے ہم نے تقریباً 8 ارب ڈالر دینے ہیں۔

دعا کریں دوسرے بھائی جان کو اپنے سیف ڈیپازٹ کے 5 ارب ڈالر نہ یاد آجائیں۔ اگر انھوں نے بھی اپنے پیسے واپس مانگ لیے تو زرمبادلہ تو اچانک غائب ہو جائے گا، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ پہلے چھوٹو کی چھوٹی سی گاڑی کی ٹینکی ساڑھے پانچ ہزار میں فل ہو جایا کرتی تھی، یہ پیڑول بھی بھائی جان ہمیں ادھار دیتے تھے، اب چھوٹو کی چھوٹی سی ٹینکی بھی دس ہزار میں فل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھائی جان کا ادھار بھی دوگنا ہو جائے گا۔ اللہ کرے بھائی جان کے حالات اتنے خراب نہ ہو جائیں کہ وہ ہمیں ادھار تیل دینا بھی بند کر دیں۔ چھوٹو اس کے بدلے میں ان کی گاڑی کو ٹاکی شاکی مار دیا کرے گا۔

بشکریہ: اسلام ٹائمز