تحریر: سید اسد عباس
عید کی تعطیلات کے ایام میں مجھے ایک دیہاتی بیٹھک میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ بیٹھکیں پنجابی ثقافت کا بہت اہم حصہ ہیں۔ جس زمانے میں ٹی وی ریڈیو نہ تھا، یہی بیٹھکیں معلومات کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی تھیں۔ عموماً شام کے وقت کسی اہل علم اور صاحب حیثیت کے ہاں چند ہم فکر لوگ بلاناغہ جمع ہوتے، حقے اور چائے کے ادوار چلتے اور ہلکے پھلکے انداز میں دلچسپی کے امور پر گپ شپ لگائی جاتی۔ ان بیٹھکوں میں ہنسی مذاق، نوک جھونک کا سلسلہ بھی ہوتا، تاہم اس نشست میں ایک خاص چاشنی تھی، جس کے سبب مرد اس محفل کو ترک نہیں کرسکتے تھے۔ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ساتھ یہ سلسلہ اب معدوم ہوتا جارہا ہے، تاہم اب بھی بہت سے مقامات پر یہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ میں جس بیٹھک میں گیا، وہ ایک معروف نوحہ خوان شاعر کی بیٹھک تھی، حسب توقع ان کے ہمراہ ان کے سوزی موجود تھے۔ حقہ تو نہیں تھا لیکن سگرٹ کے کش لگائے جا رہے تھے اور ساتھ چائے چل رہی تھی۔
اچانک ایک سابق فوجی کو مخاطب کرکے ان سے بین الاقوامی حالات کے بارے میں سوالات کا آغاز ہوا۔ سابق فوجی نے ایک ماہر عالمی تجزیہ نگار کی مانند ایران امریکا جنگ سے متعلق بہت سے امور پر روشنی ڈالی۔ میری حیرت کی اس وقت انتہاء نہ رہی، جب انھوں نے خارگ جزیرے کا نام لیا۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ ایک سادہ دیہاتی آدمی خارگ جزیرے کے بارے میں کچھ آگاہی رکھتا ہوگا۔ سابق فوجی نے دشمن کے سینکڑوں فوجی زخمی کیے، خارگ جزیرے کے بارے اپنی ماہرانہ رائے دی اور پھر ڈیاگو گارسیا جزیرے پر حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ میں خارگ کا نام سن کر نہ سنبھل سکا تھا کہ ڈیاگو گارسیا کا نام سن کر تو میرے ہوش ہی اڑ گئے۔ یہ سوشل میڈیا کا کمال ہے، ہر شخص حالات حاظرہ سے اس قدر آگاہ ہے کہ کسی بھی محفل میں بیٹھ کر لمبا چوڑا لیکچر جھاڑ سکتا ہے۔
بہرحال فوجی صاحب کی کچھ باتیں سن کر مجھے ہنسی بھی آئی، تاہم آداب محفل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں چھپا گیا۔ اس محفل میں شرکت سے مجھے ایک بات کا تو بخوبی اندازہ ہوگیا کہ پاکستانی عوام عالمی سیاست اور بالخصوص ایران کے متعلق خبروں سے نا آگاہ نہیں ہیں بلکہ ممکن ہے، ان کے پاس ایسی معلومات بھی ہوں، جو آپ نے بھی نہ سن رکھی ہوں۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ کو تیس دن گزر چکے ہیں، اب حالت یہ ہے کہ "میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں، مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔” ٹرمپ جو یقیناً ایک سنجیدہ ذہنی مریض ہے، سمجھا تھا کہ وینزویلا کی مانند ایران مشن 48 گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا اور میں فاتح کی حیثیت سے ایرانی تیل پر بھی قابض ہو جاؤں گا۔ دوسرا سنجیدہ ذہنی مریض، جو اس کے ہمراہ اس حملے میں شامل ہوا نیتن یاہو ہے۔ اسے بھی لگا تھا کہ اب نہ حماس رہی، نہ حزب اللہ، انصار اللہ بھی نرم پڑ چکی، لہذا بہت اچھا موقع ہے کہ میں ایران کا بھی پتہ صاف کر دوں۔ ٹرمپ کو تو کافی حد تک سمجھ آگئی ہے کہ میں نے فضول میں یہ پنگا مول لے لیا ہے، جس کا اعلان کرنا باقی ہے۔
امریکی عوام نے بھی ٹرمپ کو یہ باور کروانا شروع کر دیا ہے کہ تم بادشاہ سلامت نہیں ہو، یہ امریکہ ہے اور یہاں مطلق العنانیت نہیں چلے گی۔ امریکا کی مختلف ریاستوں میں "نو کنگ” کے عنوان سے اسی لاکھ کے قریب افراد کے مظاہرے، ایران جنگ کے امریکہ اور یورپی ممالک تک پہنچنے والی معاشی اثرات، نیٹو کی اس جنگ سے دوری نے ٹرمپ کی آنکھیں کھول دی ہیں، تاہم دوسرے ذہنی مریض کو اب اپنی موت دکھائی دے رہی ہے اور وہ بوکھلاہٹ میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ وزیر دفاع پاکستان کے بقول جنگ اب آبنائے ہرمز کے کھلوانے کے ہدف تک پہنچ چکی ہے، جو اس جنگ سے پہلے بھی کھلی ہوئی تھی۔ امریکیوں اور اسرائیلیوں کو اندازہ نہ تھا کہ ایران اس قدر صدمات جھیلنے اور پہنچانے کی سکت رکھتا ہے۔ جنگ میں جانی و مالی نقصان ہونا ایک بدیہی امر ہے، تاہم اہم یہ ہوتا ہے کہ جنگ کو کس پیغام کے ساتھ روکا جاتا ہے۔ ایران کا جنگی پیغام واضح ہے "آنکھ کے بدلے سر۔”
اسرائیل اب اس خوف سے حملے نہیں روک رہا کہ اگر اس مقام پر جنگ روک دی تو اس کے پاس مشرق وسطیٰ میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جائے گا۔ عوام کو جتنا مرضی سمجھائے، دوہری شہریت کے حامل اسرائیلی اب کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ انھوں نے ڈیمونا، بئر سبع، حیفا، تل ابیب کے آسمانوں پر ایرانی ستارے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے ہیں۔ اتنے خطرات والی کشتی پر سوار رہنا آسان نہیں، بالخصوص کاروباری افراد تو جلد از جلد اپنا سامان اتارنے کی کوشش کریں گے۔ مجھے یقین ہے ٹرمپ دن میں دس مرتبہ اپنے دفتر والوں سے پوچھتا ہوگا کہ روس یا چین سے کوئی فون تو نہیں آیا۔ اس کا دل کرتا ہوگا کہ کاش میں برجام معاہدے کو ہی چلنے دیتا، جس کے اب بحال ہونے کی بھی توقع نہیں رہ گئی۔ پاکستان سے اسے امید ہے کہ وہ میرے مطالبات ایران سے منوا لے گا، جنھیں ایران جنگ سے قبل ہی مسترد کر چکا ہے۔
اس جنگ کے معاشی اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور ہر شخص پہلے ذہنی مریض کی جانب مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ اچھا بھلا سیانا ہونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا، اب سب کو علم ہوگیا ہے کہ یہ پاگل ہے۔ دوسرا مینٹل حقیقی مینٹل کیس ہے، جس کو فوری طور پر کسی پاگل خانے میں جمع کروانے کی ضرورت ہے۔ اس نے غزہ کو تہس نہس کر دیا، لبنان پر جارحیت کی، اب وہ ایران کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ اگرچہ ایران اسے مناسب ڈوز دے رہا ہے، تاہم ایسے پاگلوں سے کسی بھی چیز کی توقع رکھی جاسکتی ہے، جبکہ اس کے اردگر انواع و اقسام کے ہتھیار موجود ہوں۔ اقوام عالم کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ ان دونوں دیوانوں سے مایوس ہوچکے ہیں اور سبھی یہی چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا ان کی حجامت بنائے۔ بیانیہ کی زبان میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ جنگ عقلانیت اور انسانی سالمیت کی جنگ ہے، جو ایران تنہاء لڑ رہا ہے۔
بشکریہ اسلام ٹائمز