تحریر: سید اسد عباس
آپ نے بازار سے گزرتے ہوئے کبھی کانچ کی شیشیوں کے ٹکرانے کی آواز سنی ہے؟ یہ ہمارے معاشرے کا زیادہ پرانا معاش نہیں ہے، چند برسوں سے بازاروں میں یہ لوگ دکھائی دینے لگے ہیں، جو چلتے پھرتے اپنی دکان چلا رہے ہوتے ہیں۔ لوہے کا ایک ہلکا سا سٹینڈ اس میں تیل کی چند بوتلیں اور کندھے پر ایک کپڑا۔ وہ ہوٹلوں، پارکوں، بازاروں سے گزرتے ہوئے اپنی شیشیوں کو ایک خاص انداز سے جھٹکتے ہیں، جس سے شیشیاں ٹکرانے کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ اردگرد کے لوگوں کو فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ مالش والے بھائی ہیں۔ میں نے آج تک کسی کو ان سے مالش کرواتے نہیں دیکھا، ممکن ہے دیہاتی علاقوں یا چھوٹے شہروں میں لوگ ان سے مالش کرواتے ہوں۔ یہ طبقہ فقط بازاروں میں نہیں ہوتا، صحافتی دنیا میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں۔ صحافتی مالشیوں کے پاس تیل کی شیشیاں نہیں ہوتیں بلکہ ان کی تحریروں کے عناوین تیل کی شیشیوں کا کام کرتے ہیں۔
مجھے ایک عرصہ سے اخبار بینی کا شوق ہے، بالخصوص اخبار کا ادارتی صفحہ ضرور دیکھتا ہوں، انگریزی ہوں یا اردو اخبارات، آپ کو مالشی عناوین کی بھرمار دکھائی دیتی ہے۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں، جو حقائق لکھتے ہیں، معاشرے کے حقیقی مسائل پر بات کرتے ہیں یا حکومتی پالیسیوں پر مناسب انداز سے تنقید کرتے ہیں۔ مالشی عناوین اور ان میں موجود باتیں پڑھ کر ہونے والا دکھ اب میرے اندر کا ناسور بن چکا ہے۔اکثر سوچتا ہوں کہ خدا نے آپ کو قلم کی نعمت سے نوازا ہے، آپ معاشرے کے شعور میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، آپ معاشرے کے حقیقی مسائل پر روشنی ڈال سکتے ہیں، تاہم آپ چاپلوسی، بے جا خوشامد، واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔
ہماری اخباری دنیا کا ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ اکثر اخبارات رات میں شائع ہوتے ہیں اور اگلے روز قارئین کے ہاتھو ں میں پہنچتے ہیں۔ اس وقت تک دنیا ایک سو اسی ڈگری تک بدل چکی ہوتی ہے۔ ایسے میں شیشیوں والے لکھاریوں کی تحریریں ایک مزاحیہ لطیفے کا روپ دھار لیتی ہیں۔ "پاکستان کا لمحہ عروج، اسلام آباد میں تاریخ رقم، دنیا کی امامت کا دیر پا کام، امن کا داعی، سفارتکاری کا بازیگر” یہ آج کے کالموں کے چند عناوین ہیں۔ مذاکرات کار گھروں میں پہنچ گئے اور یہ یہاں کھڑے آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔
بات فقط عناوین تک محدود نہیں، تحریر کی اندرونی حالت بھی قابل رحم ہوتی ہے۔ اکثر ان کو پڑھتے ہوئے میری نظروں کے سامنے ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں پایا جانے والا ایک کردار رقص کرنے لگتا ہے۔ آپ نے بھی یقیناً اسے دیکھا ہوگا۔ افسر یا چوہدری صاحب کی کال آجائے تو چند لوگ اردگرد ہاتھ باندھ کر بغور مالک کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ چوہدری صاحب کے چہرے سے پریشانی ظاہر ہوئی تو یہ پریشان ہو جاتے ہیں، انھوں نے "اوہ ہو” کہا تو یہ بھی کف افسوس ملنے لگتے ہیں، پھر اچانک چوہدری نے قہقہ لگایا تو یہ بھی ہنسنے لگتے ہیں۔ نہ انھیں معلوم ہے، کیا بات ہو رہی ہے، کس سے بات ہو رہی ہے، بس انھوں نے فقط مالک کی آشیرباد حاصل کرنی ہے۔
اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے چند تحریروں کو ملاحظہ کریں، میں ان حضرات کے نام نہیں لکھتا، فقط تحریر کا لطف اٹھائیں: فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم کی مشترکہ سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان فوری جنگ بندی ممکن ہوئی، جس سے نہ صرف آبنائے ہرمز دوبارہ کھل گئی بلکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہونے سے انسانیت کو سکون نصیب ہوا۔ ایک اور صاحب لکھتے ہیں: پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں انتہائی ماہرانہ سفارت کاری کے ذریعے ایران میں تعلیمی و صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانے والی ہولناک جنگ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کے الٹی میٹم سے محض 90 منٹ قبل پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی یہ جنگ بندی ایک معجزے سے کم نہیں، جس نے ثابت کیا کہ پاکستان تنے ہوئے رسے پر چلنے والے ماہر بازی گر کی طرح بیک وقت امریکہ، ایران، سعودی عرب اور چین کا اعتماد حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک صاحبہ کہتی ہیں: عالمی امن کو درپیش تیسری عالمی جنگ کے خطرات کے دوران پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں غیر معمولی سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ایران جیسے اہم ممالک کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل کا کردار ادا کیا ہے۔ ان رہنماؤں کے اسٹرٹیجک تدبر نے پاکستان کے دہشت گردی سے جڑے پرانے تاثر کو ایک امن دوست اور ذمہ دار ریاست میں بدل دیا ہے، جس نے ثابت کیا کہ پیچیدہ علاقائی تنازعات کا حل صرف مکالمے میں ہی ممکن ہے۔ مثالیں بہت زیادہ ہیں، آپ کو مزید زحمت نہیں دینا چاہتا۔
یقیناً امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کی قیادت کا اہم کردار ہے، پاکستان نے گذشتہ ایام میں ایک مشکل سفارتکاری کی ہے، ایک جانب امریکہ، سعودیہ اور عرب امارات تھے تو دوسری جانب اس کا جنوبی ہمسایہ ایران، چین۔ اس صورتحال میں مناسب طرز عمل اپنانا واقعاً ایک مشکل کام تھا جبکہ آپ چند ممالک کے مقروض بھی ہوں، تاہم پاکستان نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا، جس میں یقیناً پاکستان کا اپنا بھی فائدہ ہے۔ اس حوالے سے ملکی قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے، مگر یہ تاثر دینا کہ جنگ ہم نے روکی، ہم نہ ہوتے تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا، یہ مبالغہ آرائی ہے۔ ثانیاً بھارت کا اس سفارتی عمل سے دور رہنا اس امر کا غماز نہیں کہ وہ دنیا میں بالکل تنہا رہ گیا ہے، یہ بھی مبالغہ ہے۔ لکھاری قومی شعور اور فکر کا مربی ہے، وہ غلط پالیسیوں کا ناقد ہے، وہ کلیدی معاشرتی مسائل کے حوالے سے عوامی وکیل ہے۔ خدا نے اسے یہ قوت معاشرے کی اصلاح کے لیے بخشی ہے، جسے مثبت اور مناسب انداز سے استعمال کرنا چاہیئے۔ اس شعبے کو مالش کے لیے استعمال کرنا قلم اور تحریر کے تقدس کے خلاف ہے۔
بشکریہ اسلام ٹائمز