تحریر: سید اسد عباس
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نے خارگ جزیرہ پر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، ہمارا اگلا ہدف خارگ میں موجود تیل کی تنصیبات ہو سکتی ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی حملوں میں جزیرے پر 15 دھماکے سنے گئے ہیں۔ ان حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ایک بحری اڈے، ایئر پورٹ کنٹرول ٹاور اور ہیلی کاپٹر ہینگر کو نشانہ بنایا گیا۔ جزیرہ خارگ خلیج فارس کے شمالی حصے میں واقع ہے اور انتظامی طور پر ایران کے صوبہ بوشہر (Bushehr) کا حصہ ہے۔
یہ جزیرہ ایرانی ساحل سے تقریباً 25 سے 28 کلومیٹر (16 سے 17 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس جزیرے کے ارد گرد سمندر کی گہرائی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے بڑے بڑے بحری جہاز (Oil Tankers) یہاں آسانی سے لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ جزیرہ خارگ خود تیل کا بڑا پیدا وار کنندہ نہیں ہے، لیکن یہ ایران کا سب سے بڑا برآمدی ٹرمینل ہے۔ ایران کے کل خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90% سے 95% حصہ اسی جزیرے سے ہو کر گزرتا ہے۔
اس ٹرمینل کی تیل لوڈ کرنے کی کل صلاحیت تقریباً 70 لاکھ (7 million) بیرل یومیہ ہے، اگرچہ حالیہ پابندیوں اور حالات کی وجہ سے اصل برآمدات اس سے کم رہی ہیں۔ عام حالات میں یہاں سے تقریباً 15 لاکھ سے 17 لاکھ بیرل خام تیل روزانہ برآمد کیا جاتا ہے تاہم، حالیہ رپورٹس کے مطابق جنگ کے خدشے کے پیش نظر فروری 2026ء میں یہ مقدار وقتی طور پر بڑھا کر 30 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ اس جزیرے پر تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 3 کروڑ (30 million) بیرل ہے۔
ایک امریکی فوجی افسر کے مطابق اس وقت ٹرمپ کو ایران میں زمینی کارروائی کے حوالے سے مختلف آپشنز پیش کیے جارہے ہیں۔ جیمز اسٹاورڈس کہتے ہیں کہ اسپیشل فورسز کسی بھی کارروائی کے لیے مشن کی بہت سی تفصیلات کو طے کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں زمینی کارروائی کے تین آپشنز ہو سکتے ہیں، ایک افزودہ یورینیم کا حصول یا اسے تباہ کرنا، دوم خارگ جزیرے پر قبضہ، سوم انٹیلی جنس عناصر کے ذریعے ایران میں بغاوت کا آغاز۔ جیمز ان تینوں امکانات کی تفصیلات پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
ہم نہیں جانتے یورینیم کہاں چھپایا گیا ہے، اسے تباہ کرنے یا حاصل کرنے کے لیے سائنسی ماہرین کی موجودگی ضروری ہے ورنہ اس کی تباہی ایٹمی تابکاری کو پھیلانے کا باعث ہو سکتی ہے۔ جیمز کے مطابق یہ مشن اگرچہ ناممکن نہیں ہے تاہم اس میں بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ خارگ جزیرے پر قبضہ کے حوالے سے جیمز کا کہنا ہے کہ بمباری کے ذریعے اس جزیرے پر موجود تنصیبات کو تباہ کرنا اور ایران کو تیل کی دولت سے محروم کرنا بہت آسان ہے تاہم امریکہ نے اب تک ایسا نہیں کیا بلکہ وہ اس جزیرے اور اس کے وسائل پر قبضے کو ترجیح دے سکتا ہے۔
جیمز کہتے ہیں اسپیشل آپریٹرز کا ایک ہر اول دستہ اور اس کے بعد آرمی کی ’82 ویں ایئر بورن ڈویژن’ جیسی اعلیٰ روایتی افواج اس جزیرے کا کنٹرول سنبھال سکتی ہیں۔ جیمز کے مطابق یہ ہدف قابل حصول ہے۔ تیسرا مشن سی آئی اے اور موساد کے ذریعے قابل عمل کیا جاسکتا ہے۔ جیمز کے مطابق سی آئی اے کے پیش رو ادارے ‘آفس آف سپیشل سروسز’ نے دوسری جنگ عظیم میں فرانسیسی مزاحمت کاروں کے ساتھ بالکل یہی کیا تھا، جو جنگ کی کوششوں کا ایک اہم حصہ تھا۔
رمضان جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں نیز اسرائیلی سرزمین پر بہت سے کامیاب حملے کیے ہیں، اسی طرح آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کے لیے مکمل طور پر بند ہے جس کے سبب عالمی مارکیٹ میں تیل کا بحران جنم لے چکا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس سے اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی عوام اور قائدین نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کے مقابل سر نگوں ہونے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ٹرمپ کے دھمکی آمیز لہجے میں بھی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ اس وقت مزید امریکی میرینز کو خلیج فارس کی جانب بھیج رہا ہے۔
اگر امریکی افواج خارگ جزیرے پر قبضہ کی کوشش کرتی ہیں تو وہ یقیناً ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کا نشانہ بنیں گی۔ اگر خارگ پر موجود تیل کی تنصیبات کو تباہ کیا جاتا ہے تو یہ نہ فقط ایران بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگا، جس کے جواب میں یقینا ایران خلیجی ممالک میں موجود تیل کے ڈپوز، ریفائنریز اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا جس سے دنیا میں معاشی بحران کے مزید گھمبیر ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
جنگ رجز خوانی، دھمکیوں اور نعرہ بازی سے آگے بڑھ کر ایک انسانی المیہ کا روپ دھار رہی ہے، جس سے دنیا کی ایک بڑی آبادی متاثر ہوگی۔ امریکہ اب تک اس جنگ پر تقریبا 19 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، قطر کو یومیہ 600 ملین کا نقصان ہو رہا ہے، خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے 104 ڈالر فی بیرل پر پہنچ چکی ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، انفراسٹرکچر کی تباہی، لوگوں کی نقل مکانی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے مختلف معاشروں پر اثرات نیز ماحولیاتی اثرات اس سب پر مستزاد ہیں۔
اگر یہ جنگ مزید طول کھینچتی ہے تو اس کے انسانی اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے لیے چند بنیادی شرائط رکھی ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی خود مختار ریاست کا حق قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ مطالبات حسب ذیل ہیں اس بات کی یقینی دہانی کہ ایران دوبارہ جارحیت کا شکار نہیں ہوگا۔ بین الاقوامی برادری ایران کے ریاستی حقوق کو تسلیم کرے۔ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ (Reparations) ادا کیا جائے۔
ایران اپنی مزاحمت اور کامیاب حملوں کے سبب آج اس پوزیشن میں ہے کہ جنگ بندی کے لیے اپنے مطالبات پیش کرے، امریکہ اور اسرائیل کی کوشش ہوگی کہ وہ جنگ بندی کے لیے قدرے بہتر پوزیشن میں آئیں۔ اسی بہتر پوزیشن کے حصول کی کشمکش میں جنگ چودھویں روز میں داخل ہوچکی ہے اور نہیں معلوم کب ایسی بہتر پوزیشن حاصل ہوتی ہے جسے دونوں فریق قبول کریں۔ عالمی برادری اب اس پوزیشن میں نہیں کہ فریقین کو جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میز پر لا سکے۔ بات ریفائنریز اور توانائی کے وسائل تک پہنچی تو بہت سے دیگر ممالک غیر جانبدار نہیں رہ پائیں گے۔ واللہ اعلم
بشکریہ : اسلام ٹائمز