Skip to content

رہبر انقلاب کی شہادت، ایک عہد کی تکمیل یا نئے انقلاب کا آغاز؟

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

تاریخ کے افق پر کچھ ایسی شخصیات نمودار ہوتی ہیں جن کی زندگی ایک عہد کے لیے مثال بن جاتی ہے۔ جن کا قیام مشعل راہ ہوتا ہے اور جن کا سکوت کسی نئے انقلاب کا پیش خیمہ۔ رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ؒ محض ایک ریاست کے سربراہ یا سپریم لیڈر کا نام نہیں، بلکہ وہ گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے عالمی استکبار کے خلاف استقامت، بصیرت اور اسلامی بیداری کی ایک ایسی علامت رہے ہیں جس نے پوری دنیا کی سیاست کا رخ بدل دیا۔ ان کی شہادت یا اس دنیا سے رخصتی کی خبر یقیناً ایک عظیم عہد کی تکمیل کا تاثر دیتی ہے لیکن انقلابی فکر کے حاملین کے لیے یہ محض ایک فرد کا بچھڑنا نہیں بلکہ ایک نئے ولولے اور "خونِ شہادت” سے سینچی گئی ایک نئی تحریک کا نقطۂ آغاز ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ؒ کا دورِ قیادت تلاطم خیز موجوں سے لڑتے ہوئے کشتی انقلاب کو منجدھار  سےنکالنے سے عبارت ہے۔ انہوں نے امام خمینیؒ کے بعد جمہوری اسلامی ایران کو نہ صرف داخلی طور پر مستحکم کیا بلکہ اسے خطے کی ایک ناقابلِ تسخیر قوت بنا دیا۔ ان کا عہد اقتصادی پابندیوں، سائنسی ترقی (خاص طور پر ایٹمی اور دفاعی ٹیکنالوجی) اور "مزاحمتی بلاک” کی تشکیل کا عہد ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سیاسی تنہائی کے باوجود نظریاتی پختگی سے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جا سکتی ہے۔ ان کا دور ایک ایسی فکری قیادت کا دور تھا جس نے سیاست کو اخلاقیات اور دین سے جدا نہیں ہونے دیا۔

رہبر شہید  کی سیاسی و دفاعی بصیرت کا سب سے اہم امتحان اس وقت سامنے آیا جب عالمی استکبار اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے کرداروں نے سفارتی آداب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مذاکرات کے دوران بزدلانہ جارحیت کا راستہ اپنایا۔ ان کے دورِ قیادت میں ایران نے ثابت کیا کہ وہ اپنی خود مختاری پر ہونے والے کسی بھی حملے کا جواب ‘ضربِ حیدری’ سے دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ حال ہی میں ایران کی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی اور میزائل حملوں کے جواب میں، ایران کی دفاعی کارروائیاں کسی سویلین آبادی کے خلاف نہیں تھیں، بلکہ ان مخصوص فوجی اور انٹیلیجنس مراکز کے خلاف ہیں جہاں سے فتنہ انگیزی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ یہ جوابی حملے دراصل رہبرِ شہید کے اس فولادی عزم کا اظہار ہیں کہ مومن نہ تو کسی پر پہل کرتا ہے اور نہ ہی اپنی سرحدوں پر صیہونی یا سامراجی جارحیت کو برداشت کرتا ہے۔

محورِ مقاومت کی علمداری: فلسطین، یمن، عراق و کشمیر کا دفاع
رہبرِ انقلاب کے بابرکت عہد کی سب سے تابناک خصوصیت دنیا بھر کے مظلوموں، بالخصوص فلسطین، لبنان، یمن اور عراق کی بے دریغ اور غیر مشروط حمایت ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ‘مسئلہ فلسطین’ کو محض ایک علاقائی یا عرب تنازعے کے حصار سے نکال کر پورے عالمِ اسلام کے اولین اور ایمانی مسئلے میں تبدیل کر دیا۔ ان کی حکیمانہ قیادت میں جہاں حزب اللہ اور فلسطینی مقاومت نے عالمی استکبار کے غرور کو خاک میں ملایا، وہیں یمن کے غیور انصار اللہ اور عراق کی جری الحشد الشعبی جیسے مزاحمتی بلاک کو وہ فکری اور دفاعی توانائی ملی جس نے خطے میں صیہونی اور سامراجی بالادستی کے خواب چکنا چور کر دیے۔

اسی بصیرت کا ایک روشن پہلو کشمیر کے مظلوم عوام کی غیر مشروط حمایت ہے۔ رہبر انقلاب نے بارہا اپنے خطبات میں کشمیر کو امتِ مسلمہ کا ایک دکھتا ہوا زخم قرار دیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ ان کے نزدیک اسلام کی سرحدیں جغرافیائی نہیں بلکہ نظریاتی ہیں، اسی لیےانھوں نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا کہ جب تک دنیا کے کسی بھی کونے میں، چاہے وہ فلسطین ہو یا کشمیر، مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، تب تک حقیقی اسلامی انقلاب کا مشن مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی شہادت کے بعد بھی یہ فکری میراث حریت پسندوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی، کیونکہ رہبر عظیم الشان نے مظلوم کو یہ حوصلہ دیا کہ حق کی آواز کو مصلحتوں کی بنیاد پر دبایا نہیں جا سکتا۔

نئی نسل: انقلاب کا مستقبل اور حقیقی وارث
رہبرِ شہید نے اپنی دوراندیشی سے یہ بھانپ لیا تھا کہ کسی بھی انقلاب کی بقاء، نسل نو کی فکری تربیت میں پنہاں ہے۔ انہوں نے "بیانیہ گامِ دوم” (انقلاب کا دوسرا مرحلہ) کے ذریعے براہِ راست نوجوانوں کو مخاطب کیا اورانھیں اس عظیم مشن کا علمبردار قرار دیا۔ ان کے نزدیک نئی نسل صرف جذباتی پیروکار نہیں بلکہ علم، ٹیکنالوجی، اخلاقیات اور بصیرت سے لیس ایک ایسی فوج ہے جو عالمی استعمار کے پیچیدہ ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ رہبرِ شہید نے نوجوانوں میں خود اعتمادی کی وہ روح پھونکی ہے جوانھیں دشمن کی ثقافتی یلغار کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیتی ہے۔ چنانچہ ان کی شہادت کسی خلا کا باعث نہیں بنے گی، کیونکہ انھوں نے ہزاروں  ایسے "قاسم سلیمانی” تیار کر دیے ہیں جو ان کے افکار کو سرحدوں کی قید سے آزاد کر کے پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

رہبرِ شہید کی پوری جدوجہد کا محور یہ رہا ہے کہ یہ نظام محض ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ اس عالمی عدل و انصاف کے قیام کی تمہید بنے جس کا وعدہ اللہ نے قرآن میں کیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ یہ انقلاب "ظہورِ امامِ زمانہ (عج)” کے لیے زمینہ سازی کا نام ہے۔ ان کے نزدیک ہر شہادت، ہر مشکل اور ہر کامیابی دراصل اس بڑے مشن کی طرف ایک قدم ہے جس کی منزل امامِ مہدی (عج) کا عالمی ظہور ہے۔ چنانچہ ان کے بعد بھی یہ کارواں تھمنے والا نہیں، بلکہ یہ امانت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ "حق” کا غلبہ مکمل ہو جائے۔

شہادت: تحریک کی کمال و معراج اور عالمی بیداری
انقلابی تحریکوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی تحریک کا قائد اپنے خون کا نذرانہ پیش کرتا ہے، تو وہ مشن پہلے سے کہیں زیادہ مقدس، توانا اور عالمگیر ہو جاتا ہے۔ رہبرِ شہید نے اپنی پوری زندگی جس شہادت کی آرزو میں گزاری، وہ ان کے لیے منزلِ مقصود اور اس عظیم جدوجہد کی معراج ہے۔ ان کے بعد کا ایران یا عالمی انقلابی لہر کسی بھی قسم کے انتشار یا تذبذب کا شکار نہیں ہو سکتی، کیونکہ رہبر بے مثال نے "نظریہ ولایتِ فقیہ” کے تحت ایک ایسا مستحکم نظام وضع کر دیا ہے جو افراد کے بجائے الٰہی اصولوں اور فولادی اداروں پر قائم ہے۔ جس طرح شہیدِ قدس قاسم سلیمانی کے لہو نے کروڑوں نوجوانوں کے شعور کو بیدار کیا، اسی طرح رہبرِ انقلاب کی شہادت دشمن کے تمام مادی تخمینوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ایک ایسے عالمی انقلاب کاسرنامہ بنے گی جس کی وسعتوں کا ادراک ابھی باطل قوتوں کو نہیں۔

آپ کی مدبرانہ شخصیت نے عالمِ اسلام کو وہ ناقابلِ تسخیر دفاعی اور نظریاتی حصار عطا کیا ہے جسے توڑنا اب کسی عالمی طاقت کے بس میں نہیں۔ اگرچہ ایک عظیم رہبر کا ظاہری سایہ اٹھ جانا ایک بڑا ملی سانحہ ہے، مگر تاریخِ اسلام کی رگوں میں یہ حقیقت دوڑ رہی ہے کہ حق کی تحریکیں قربانیوں کے آبِ حیات سے ہی ابدیت پاتی ہیں۔ ان کی شہادت کسی خلا یا اختتام کا نام نہیں، بلکہ اس مشن کی شان دار تکمیل ہے جس کا خواب کربلا سے لے کر آج تک کے تمام شہداء نے دیکھا تھا۔ وہ "عہدِ استقامت” جو رہبرِ شہید نے جیا، وہ اب ایک گوشہ نشین فرد کی زندگی نہیں بلکہ ایک "عالمگیر نظریہ” بن کر کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ شمع جب بجھتی ہے تو روشنی فنا نہیں ہوتی، بلکہ ستاروں کی صورت میں پورے آسمانِ عالم پر پھیل کر سحرِ نو کا اعلان کرتی ہے۔ یہ کسی عہد کا خاتمہ نہیں، بلکہ عالمی سطح پر ایک عظیم تر اور فیصلہ کن انقلاب کا مقدس آغاز ہے۔ (ان شاء اللہ)

بشکریہ اسلام ٹائمز