تحریر: سید اسد عباس
امریکہ، مغربی ریاستوں اور ان کے حواریوں کو یقیناً معلوم ہوچکا ہوگا کہ ایران میں خلیجی بادشاہتوں اور عرب آمریتوں جیسی حکومت نہیں ہے جسے فقط سربراہ کو گرانے سے ختم کیا جاسکے۔ مغربی دنیا کا یہ مخمصہ بھی جاتا رہا کہ کسی ملک کی سیاسی، عسکری و علمی قیادت کو راستے سے ہٹانا جنگ جیتنے کا کامیاب حربہ ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی حالیہ کارروائی انہی غلط فہمیوں پر مبنی تھی۔ امریکیوں نے سمجھا کہ ایران شائد عراق، لیبیا اور شام جیسا کوئی ملک ہے جس کی قیادت کو راستے سے ہٹا کر اس ملک پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔
ایران نے جنگ کا پہلا اور دوسرا مرحلہ کامیابی سے عبور کرلیا ہے، قیادت کی شہادتوں، کمیونیکشن سسٹم پر حملوں، دفاعی نظام پر بمباری ایرانی مزاحمت اور استقامت کو منتشر کرنے میں ناکام ہوگئی۔ معاملہ اس کے برعکس ہوا، ایرانی آپسی اختلافات، معاشی مسائل بھلا کر ایک قوم بن گئے۔ ایران نے عظیم شخصیات کے نقصان کے باوجود عسکری و معاشی میدان میں امریکہ، اسرائیل نیز اس کے علاقائی حواریوں کو معاشی و وجودی بقاء کے مسئلہ سے دوچار کردیا ہے۔ ایران کی اس استقامت اور مزاحمت کو سمجھنے کے لیے ہمیں فقط ایران کے حکومتی و ادارہ جاتی نظام کو نہیں بلکہ اس کی معاشرتی بنت کو بھی سمجھنا ہوگا۔
گذشتہ دنوں ایران میں مقیم ایک تحقیقی ادارے کے سربراہ کی ایرانی ریاست اور معاشرے کے حوالے سے گفتگو سننے کا اتفاق ہوا، جو ایرانی معاشرے اور ریاست کو سمجھنے کے حوالے سے اہم گفتگو تھی۔ دانشکدہ اقبال کے سربراہ حسین باقری پاکستانی ہیں تاہم ایران میں پلے بڑھے، ان کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایرانی معاشرے کو بہت گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ حسین باقری نے یہ گفتگو ایک پاکستانی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کی، انھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا: ہمیں ایرانی معاشرے کو تین زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخی، گہرا اور طلب کا حامل معاشرہ نیز سیکورٹی پر استوار سیاسی مذہبی نظام۔
باقری صاحب کا کہنا تھا "ایران کے بارے میں بہت سے تجزیے اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ حکومت کو تو سمجھ لیتے ہیں لیکن ایرانی معاشرے کو سمجھنے میں غلطی کر دیتے ہیں۔ ایرانی معاشرہ نہ تو روایتی طور پر جامد ہے اور نہ ہی مکمل طور پر جدید اور ادارہ جاتی۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں گہرا تاریخی شعور، شدید سیاسی حساسیت اور وسیع انسانی وسائل موجود ہیں۔ ایران میں سماجی رویوں کی تشکیل ضابطوں کے بجائے یادوں سے ہوتی ہے۔ اجتماعی یادیں، تاریخی شکایات اور وقار و ناانصافی کا طاقتور احساس۔ جدید قانونی، سیاسی اور شہری اداروں نے اب بھی ذاتی تعلقات، غیر رسمی طریقہ کار اور باہمی بھروسے کی جگہ نہیں لی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے معاشرے کی صورت میں نکلتا ہے جہاں جذبات ضابطوں پر مقدم ہوتے ہیں، جہاں توقعات زیادہ ہیں لیکن اداروں پر اعتماد اتنا نہیں ہے”۔
حسین باقری کہتے ہیں "ایران میں سکیورٹی محض ایک پالیسی نہیں، بلکہ ایک ذہنیت ہے۔ ریاست کی پہلی ترجیح علاقائی سالمیت ہے۔ ادارے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ اچانک تباہی کو روکا جا سکے۔ سیاسی تبدیلی کی اجازت تو ہےتاہم حدود کے اندر۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نظام بے عیب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام کسی بھی قیمت پر لیبیا ، شام اور عراق جیسے نتائج سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے”۔
شائد یہی وجہ ہے کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد اس نظام نے بحران کو "سربراہ کی بقا” کے سوال سے ہٹا کر "اندرونی ہم آہنگی” کے سوال کی طرف منتقل کردیا۔ ایرانی آئین اقتدار کے خلا کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 111 یہ شرط عائد کرتا ہے کہ جب قیادت کا عہدہ خالی ہوجائے تو ایک عارضی کونسل قیادت کے اختیارات سنبھال لے گی، جب تک کہ مجلس خبرگان نئے لیڈر کا انتخاب نہ کر لے۔ ریاستی اداروں میں بھی قیادت کے خلاء کے حادثے کو ذہن میں رکھ کر نظام تشکیل دیا گیا ۔جس کے اثرات آج ہم ایرانی معاشرے میں دیکھ رہے ہیں۔ کسی بھی ادارے کا سربراہ شہید ہوتا ہے تو ادارے کی فعالیت پر اثر انداز ہوئے بغیر نیا سربراہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔
سیکورٹی ذہنیت چونکہ ایرانی اداروں کے لیے بقاء کا سوال ہے لہذا اس کے اثرات بعض اوقات سیاسی امور پر بھی پڑتے ہیں، جسے اکثر مغربی ذرائع ابلاغ میں اچھالا جاتا ہے۔ حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں سے قبل، انہی خبروں یا پراپیگنڈہ کے تناظر میں یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ عوام اور ملک کے منتظمین کے مابین ایک خلیج حائل ہو چکی ہے جو شائد تحریکوں کے مقابل ریاستی ردعمل کا نتیجہ ہے، تاہم سپریم لیڈر کی شہادت اور اس کے بعد عوامی ردعمل نے ثابت کیا کہ سیکورٹی فقط ریاستی اداروں کی منطق نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم اسی ذہنیت کی حامل ہے۔ جنگ کو شروع ہوئے تقریبا اکیس روز ہونے کو ہیں، کوئی رات ایسی نہیں جب ایران کے مختلف شہروں میں عظیم الشان اجتماعات نہ ہوتے ہوں۔
اکثر اجتماعات کے اردگرد بمباری بھی ہوتی ہے اس کے باوجود لوگ بچوں کے ہمراہ ان اجتماعات میں شریک ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اپنی اقدار، قومی وقار، تہذیب، خودمختاری کا تحفظ ہر مسئلہ اور ہماری زندگیوں سے زیادہ اہم ہے۔ میں سمجھتا ہوں امریکہ اور اسرائیل آج ایک ملک سے نہیں بلکہ ایک ایسی قوم سے الجھ بیٹھے ہیں جس کی دو عظیم بنیادیں ہیں۔ ایک جانب یہ قوم قدیم فارس کی تہذیب کی وارث ہے تو دوسری جانب کربلا کی امین ہے، یقیناً اب امریکا اور اسرائیل جنگ سے پہلے کی دنیا میں نہیں لوٹ سکتے، انھیں نئے مشرق وسطی سے نبرد آزما ہونا ہوگا جس میں ایران ایک طاقتور اور فیصلہ کن قوت کا حامل ملک ہوگا۔
بشکریہ اسلام ٹائمز