تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس دنیا کے تمام ممالک کو ایک ایسا عالمی فورم فراہم کرتا ہے، جہاں ریاستیں نہ صرف اپنے قومی مفادات کا دفاع کرتی ہیں بلکہ عالمی نظام کے خدوخال پر بھی گفتگو کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں، جب مشرقِ وسطیٰ شدید جنگی کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے، معاشی پابندیوں کا حربہ عروج پر ہے اور یکطرفہ امریکی بالادستی کے مقابلے میں کثیر القطبی دنیا کی تشکیل کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب ایران پر مغرب کا سیاسی اور اقتصادی دباؤ عروج پر ہے۔ یہ خطاب محض ایک رواں سفارتی تقریر نہیں تھی، بلکہ یہ ایرانی ریاست کے تزویراتی، دفاعی اور اخلاقی اصولوں کا ایک جامع منشور تھا۔ اس تحریر میں ایرانی صدر کی تقریر کے کلیدی اقتباسات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مغربی دوہرے معیارات، ایرانی ایٹمی پالیسی، طاقت کے فلسفے اور علاقائی سلامتی کے بارے میں تہران کے حقیقی بیانیے کو نکھار کر سامنے لایا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے ایرانی صدر نے روایتی جیو پولیٹیکل بیانیے یا سخت سیاسی ردِعمل کے بجائے عالمگیر اخلاقی قدروں اور تمام آسمانی ادیان کے آفاقی اصولوں سے اپنی بات شروع کی: "جو بات تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے، وہ دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرو۔ تمام آسمانی مذاہب اور انسانی عقل اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انسانی شرافت، سچائی اور احسان ہی اصل قدریں ہیں جو انسان کو محترم بناتی ہیں۔” اس نقطہ نظر کے انتخاب کے پیچھے ایک گہری حکمتِ عملی کارفرما تھی؛ مغرب کے اس دیرینہ پراپیگنڈے کو ناکام بنانا جو ایران کو ایک تشدد پسند یا غیر منطقی ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔ عالمگیر اخلاقی قدروں کا فریم ورک اپنا کر ایران نے خود کو اخلاقی تفوق پر فائز کیا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ اس کی جدوجہد کی بنیاد محض سیاسی مفادات نہیں بلکہ انسانی وقار اور عالمی عدالت کا قیام ہے۔
خطاب کا سب سے اثر انگیز اور مرکزی حصہ مغرب کے دوہرے معیارات اور بین الاقوامی اداروں کی بے حسی کو بے نقاب کرنا تھا۔ ایرانی صدر نے دنیا کے سامنے یہ تلخ حقیقت رکھی کہ جو ملک دہائیوں سے ریاستی اور عالمی دہشت گردی کا شکار رہا، جس کے سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام حتی سکول کی بچیوں کو شہید کیا گیا، اسی پر معاشی اور سیاسی پابندیاں مسلط کی جاتی ہیں۔ اسرائیل کو مغرب کی جانب سے دی جانے والی بے جا چھوٹ اور ایران کے خلاف کارروائیوں کے تضاد کو انھوں نے ان الفاظ میں بے نقاب کیا: "میں دہرانا چاہتا ہوں: جوہری بم اسرائیل کے پاس ہے، لیکن معائنہ کار ایران میں موجود ہیں۔ اسرائیل لوگوں کا قتل عام کرتا ہے، مگر پابندیاں ایران پر لگائی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے، جسے سن کر انسان کو ہنسی آتی ہے۔ اسرائیل قتل و غارت کرتا ہے، لیکن پابندیاں ہم پر لگتی ہیں۔ ایسی پابندیاں جو درحقیقت غریبوں، بیماروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔”
یہ الفاظ محض ایک جذباتی بیان نہیں تھا، بلکہ اقوامِ متحدہ اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی جیسے اداروں کے غیر جانبدارانہ کردار پر ایک کاری ضرب تھا۔ ڈاکٹر پزشکیان نے ثابت کیا کہ اقتصادی پابندیاں ایرانی حکومت کو نہیں بلکہ عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں، جو کہ درحقیقت "معاشی دہشت گردی” کی ایک شکل ہے۔ ایران نے دنیا کو یہ شیشہ دکھایا کہ جب تک انسانی حقوق کو جغرافیائی سیاست اور اقتدار کی رقابت کا آلہ کار بنایا جائے گا، پائیدار امن ممکن نہیں ہوسکتا۔ ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے ایرانی صدر کا موقف سائنسی مساوات اور شفافیت کا مظہر تھا۔ انھوں نے زور دیا کہ پرامن ایٹمی سائنس اور تکنیک دنیا کے تمام ممالک کا مساوی حق ہے اور یہ چند طاقتور ممالک کا خصوصی استحقاق نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی نوعیت کو واضح کرتے ہوئے اور رہبرِ شہید کے فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "ایران نے کبھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی خواہش نہیں رکھی اور نہ کبھی رکھے گا۔ یہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے اور ہمارے رہبرِ اعلیٰ کی واضح ہدایت ہے کہ ہم تباہی کا ذریعہ بننے والے ہتھیار نہیں چاہتے۔”
اس موقف سے ایران نے عالمی برادری کو تکنیکی اور مذہبی یقین دہانی کرائی اور مغربی الزامات کی قلعی کھول دی۔ اس تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مغرب کا اصل مسئلہ ایٹمی بم کا خطرہ نہیں، بلکہ وہ سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا ہے، تاکہ دیگر اقوام کو خود مختار بننے سے روکا جاسکے۔پزشکیان نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے تصور اور اس کی حد بندیوں پر گہرا ردِعمل دیا۔ انھوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ محض فوجی طاقت سے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ "اپنی طویل تاریخ کے دوران ایران نے ایک واضح حقیقت سیکھ لی ہے۔ طاقت سے عاری دنیا خطرناک ہوتی ہے، لیکن ایسی دنیا جو صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہو، وہ کبھی پائیدار سلامتی حاصل نہیں کرسکتی۔ ہمیں ایسی دنیا نہیں بنانی چاہیئے، جہاں طاقت، قانونی حیثیت کی جگہ لے لے۔ پابندیاں، سفارت کاری کی جگہ لے لیں، دہشت گردی، سیاست کی جگہ لے لے اور جنگ، بات چیت کی جگہ لے لے۔”
امریکی صدر کے بیانات اور دھمکیوں کا ردِعمل دیتے ہوئے ڈاکٹر پزشکیان نے اسے "غنڈہ گردی اور جبر کی منطق” قرار دیا اور امریکی رویئے پر سخت تنقید کی۔ "ڈاکٹر پزشکیان نے کہا انھیں معلوم ہونا چاہیئے کہ دھمکیاں ہماری قوم کو مزید متحد اور مضبوط بناتی ہیں اور ایرانی مزاحمت کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ ایرانی قوم جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گی اور جارحین کو اپنے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کرے گی۔ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن سب جان لیں ہم طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے۔” ان الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ایران اپنے دفاعی استحکام پر کسی صورت سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ بیرونی دباؤ اور دھمکیاں ایرانی قوم میں مزید یکجہتی کا باعث بنتی ہیں اور ایران صرف برابری اور باہمی احترام کے فریم ورک کے تحت ہی سفارت کاری کا قائل ہے۔ ایران نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر یکطرفہ امریکی بالادستی کے خاتمے اور ایک ایسے کثیر قطبی عالمی نظام کی وکالت کی جہاں تمام اقوام کو برابر حقوق حاصل ہوں۔
ڈاکٹر پزشکیان نے خطے میں سلامتی کے قیام کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا: "ایران دنیا کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ ہم دنیا کو کسی اور جنگ کی طرف نہیں، بلکہ امن اور انصاف کی طرف بلاتے ہیں۔ یا تو ہم مل کر امن و سلامتی قائم کریں گے یا پھر ہمیں مل کر بدامنی اور عدم تحفظ برداشت کرنا پڑے گا۔ جو امن سب کے لیے نہ ہو، وہ امن نہیں ہے اور جو انصاف سب کا احاطہ نہ کرے، وہ انصاف نہیں ہے۔” اس بیان کا تزویراتی پیغام بالکل واضح ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی اور معاشی استحکام کا کوئی بھی خاکہ ایران کو منہا کرکے یا تنہاء کرکے تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ خطے کا امن مشترکہ ذمہ داری اور اجتماعی تعاون کا مرہونِ منت ہے۔ راقم کی نظر میں ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا یہ خطاب اخلاقی اقدار، قومی حمیت، تزویراتی استقامت اور سفارت کاری کا ایک جامع شاہکار تھا۔ تجزیاتی نقطہ نظر سے، اس خطاب نے ایک طرف ایران کو ایک ذمہ دار، قانون پسند اور مذاکرات کے لیے پرعزم ریاست کے طور پر پیش کیا، تو دوسری طرف امریکی بالادستی اور مغربی غنڈہ گردی کا سامنا کرتے ہوئے ملکی خود مختاری اور دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ یہ خطاب عالمی برادری کے لیے مغربی نظام کے دوہرے معیارات کا آئینہ تھا، جبکہ ایرانی قوم اور دنیا کی آزاد منش اقوام کے لیے خودداری اور مزاحمت کا ایک مضبوط تاریخی پیغام۔