تحریر: ثاقب اکبر مرحوم
علامہ اقبال کا نظریہ اجتہاد اسلام کی ترقی پسند روح کا غماز ہے۔اسلامی تعلیمات کی بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے تغیر پذیر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مثال کے طور پر اسلام کی اخلاقی تعلیمات ہیں جیسے سچ بولنا ہے، جھوٹ نہیں بولنا اورایسی دیگر اسلامی اقدار ،اسی طرح اسلام کے بنیادی عقائد مثلاً توحیدپرستی اور شرک کی نفی، اس میں تبدیلی ممکن نہیں۔ یونہی بعض ایسی چیزیںہیں جوخود انسان کی فطرت میں ہیں، جیسے انسان کا علم دوست ہونا، انسان کا جمالیات سے لگائو وغیرہ ،ان میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ انسان اپنے اندر سے جہالت سے نفرت کرتا ہے۔وہ تمام اقدامات اورقوانین جو انسانی معاشرے کو روزانہ کی بنیاد پر چلاتے ہیں ان میں تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے چونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں اورعلاقے مختلف ہونے کی بنا پر بھی تقاضے بدل جاتے ہیں۔
تغیر وثبات کے عناصر ساتھ ساتھ
قانون وزندگی کے بارے میں یہ تمام اشارے علامہ اقبال کی شاعری میں موجود ہیں اوریہی ان کے نظریہ اجتہاد کی بنیاد ہیں۔ تبدیلیوں کے ساتھ نئے احکام آتے ہیں اور نئے قوانین بنتے ہیں۔ یقینی طور پر وہ انسان کو اور معاشرے کو زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اپنا کردارادا کرتے ہیں۔ یہیں سے اس ترقی کا وہ راستہ کھلتا ہے جس کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ کیا ہے۔ یہ بات تو واضح ہوگئی کہ کیسی چیزیں تغیر پذیر ہیں اورکیسی چیزوں کو ثبات حاصل ہے۔ مجموعی طورپر ہم کہہ سکتے ہیں کہ بعض چیزوں کو ثبات حاصل ہے بعض چیزیں تغیرپذیرہیں۔
اجتہاد کے پس منظر میں ہم دیکھیں گے کہ بعض احکامات اورقوانین ایسے ہی ہیں۔مثال کے طور پر نبی پاکؐ کے زمانے میں ایک خاص طرح کا طرز حکومت تھا۔ آپؐ کے بعد خلافت کا سلسلہ چلا، اس میں تبدیلیاں آتی رہیں، البتہ تبدیلیاں بنیادی اصولوں کی بنا پر آنی چاہئیں۔ مثلاً نظام حکومت میں کوئی بھی تبدیلی ہواس میں عوام کی تائید اورشرکت ضروری ہے۔ سسٹم آف گورنمنٹ، انتظامی امور کو چلانا، ریکارڈ کومحفوظ کرنا ایسی چیزیں ہیں جن میں تبدیلی وقت اورحالات کے ساتھ ساتھ آرہی ہوتی ہے۔ اسی طرح زمینوں کی تقسیم ،ملکیت اور انتظام کے تصور میں بہت ساری تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں۔ وقت کے ساتھ ایسی چیزیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
رجعت پسند قوتوں کا مقابلہ
اسلامی قانون سازی کے تصور میں سپیس اینڈ ٹائم بنیادی مسئلہ ہے۔ علامہ اقبال نے اسی حوالے سے مسئلہ اجتہاد کو اجاگر کیا ہے۔
آج کی نوجوان نسل کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ قانون میں تبدیلی اور تغیر کے وقت بعض قوتیں رجعت پسندی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ نوجوانوں کو اس میں ایک بنیادی کردارادا کرنا ہوتا ہے تاکہ معاشرہ جمود کا شکار نہ ہونے پائے۔ اسی پس منظر میں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے :
آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
والدین تبدیل شدہ حقائق کو قبول کریں
والدین کو بھی معلوم ہوناچاہیے کہ ان کے اوربچوں کے زمانے میں فرق ہے۔ یہ تبدیلی ارتقا کی طرف ہے۔ہمارے نوجوان اگر بعض کام ایسے کرتے ہیں جو ہماری بنیادی اورانسانی اقدار کے خلاف نہیں ہیں تو انھیں کرنے دیے جائیں، خواہ مخواہ کے اعتراضات نہیں کرنے چاہئیں۔ مثلاً وہ کپڑے کس طرح کے پہنتے ہیں، کپڑوں کا رنگ کس طرح کا اختیار کرتے ہیں، موسیقی میں ان کے نئے رجحانات کیا آرہے ہیں یا لٹریچر میں وہ کیا نئی چیزیں پسند کرتے ہیں۔ ان امورمیں اسلام کے بنیادی اخلاقی اور سماجی اقدارکی نفی نہ ہو تو بزرگوں کو چاہیے کہ وہ ان تبدیلیوں کو ارتقا یامزاجوں کی تغیر پسندی کے پس منظر میں قبول کرلیں۔
اقبال کی نوجوانوں سے امیدیں
علامہ اقبال کی ساری امیدیں جوانوں سے وابستہ نظر آتی ہیں۔ ان کا شاہین کا تصور بڑا واضح ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے جاوید کے نام جو نظمیں لکھی ہیں درحقیقت ان میں جوان نسل کے لئے ایک اجتماعی پیغام ہے۔ وہ جوانوں کے لئے دعا کرتے ہیں:
جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کر دے
اسی طرح انھوں نے کہا ہے:
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
مجموعی طور پر دیکھا جائے توعلامہ اقبال نوجوان نسل کوجمودکے دور سے نکل کرآگے بڑھنے کے لئے انگیخت کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنے زمانے کے جمود کا غم کرتے ہوئے نوجوان نسل کو تبدیلی اورارتقا میں اپنا کردار ادا کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔
علامہ اقبال کی شاعری میں ہمیں اس بات کا بڑا واضح پیغام ملتا ہے کہ انسان مادی علم کی حدوں سے نکل کر چیزوں کی معنویت اورروحانیت پر بھی غور کرے۔ وہ کہتے ہیں:
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
یا مثلاً وہ کہتے ہیں:
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
وہ یہ بھی کہتے ہیں:
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
جو لوگ مادی مقاصد کے لئے علم حاصل کرتے ہیں وہ کرگس بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان کی ساری ہمتیں بازاری چیزوں کے حصول کے لئے ہوتی ہیں۔ وہ انہی پر جھپٹتے رہتے ہیں۔جبکہ شاہین پست پروازنہیں ہوتا، بلند پرواز ہوتا ہے ،اس کی نگاہ میں بڑی تیزی ہوتی ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک یہ چیزیں ترقی اورارتقا کی علامت ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
اقبال کا شاہیں ایسا رزق قبول نہیں کرتا جس سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسی امیدیں مت لگائیں، ایسی امداد مت قبول کریں جوآپ کی پرواز کو کوتاہ کردے۔
اقبال کا تصور تعلیم ارتقا پسندانہ اورجامع ہے۔اقبال کا خودی کا فلسفہ انسان کی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔
کائنات میں انسان کی حیثیت
میں کون ہوں؟مجھے کیا کرنا چاہیے؟کیا نہیں کرنا چاہیے؟انسان کو اپنے آپ سے یہ سوالات ضرور کرنا چاہئیں۔
قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ انسان تخلیق ہوا تو فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا لیکن شیطان ابلیس نے انکار کردیا۔جنت کے لئے پیدا ہونے والا انسان جب شیطان ابلیس کی گمراہی کا شکار ہوا تو اپنے مقام سے گر گیا۔ اسے پھر اٹھنے کے لئے اللہ پاک نے توبہ کے مواقع دیے ۔اس نے انسان سے کہا کہ گمراہ کرنے والے عناصر سے ہوشیار رہو، یہ عناصر تمھاری جنت میں داخل ہوسکتے ہیں ، تمھیں ان سے خبرداررہنے کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال نے آدم کی کہانی کے پس منظر میں انسان کے مقام کی اہمیت کو بڑی خوبصورت سے نظم بند کیا ہے ۔اسی کو پہچاننا اور سمجھنا ادراکِ مقام خودی ہے۔ یعنی جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میرا یہ مقام ہے کہ میں مسجود ملائک ہوں، اللہ تعالیٰ نے زمین پرمجھے اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تو وہ اپنے مقام کی حفاظت کرتا ہے۔ علامہ اقبال نے اس حوالے کہا ہے:
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
جب اللہ پاک نے زمین و آسمان،چاند،ستارے سب کچھ انسان کے لئے مسخرکردیا اورقرآن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں تو پھر انسان کو ان پر فریضۃ نہیں ہوناچاہیے بلکہ اپنی حیثیت اوراپنے مقام کا ادراک کرتے ہوئے عرفانِ خودی کی منزل حاصل کرنی چاہیے۔
اقبال کی انفرادیت
دنیا میں کوئی شاعر ایسا نہیں ہے جس کی فکر نے ایک عظیم الشان ریاست تخلیق کردی ہو۔ علامہ محمد اقبال کا کلام ہمارے کورس میں اگرچہ کسی حد تک موجود ہے لیکن ایک ایسا مجموعی رنگ نہیں ہے جیسا ہونا چاہیے تھا۔ہم پر اقبال کا بہت حق ہے، ہمیں اس حق کو ادا کرنا ہے۔ یہ حق اقبال کی شناخت کے بغیر ممکن نہیں ۔ہمیں اپنی نوجوان نسل تک اقبال کا پیغام پہنچانا ہوگا۔ اس کے لئے سنجیدگی کے مظاہرے کی ضرورت ہے ہر سطح پر نصاب میں اقبال شناسی کا ایک حصہ شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے مستقبل کو تابناک اورمحفوظ بنایا جاسکے ۔
اقبال سرحدوں سے ماورا
اقبال ایک عالمی سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ہم اگر ان سے محروم رہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا پیغام دنیا کی کسی دوسری قوم کے لئے تحرک بخش نہیں ہوسکتا۔آج بھی اقبال کا پیغام حرکت و انقلاب کا باعث بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ہمارے ہمسایہ ملک ایران کے انقلاب کو وہاں کی لیڈر شپ علامہ اقبال کی تعلیمات کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔دنیا بھر میں آج بھی علامہ اقبال سے روشنی حاصل کرنے والے لوگ، ممالک اوردانشور موجود ہیں لیکن پاکستان میں اس حوالے سے صورت حال افسوس ناک ہے۔