تحریر: سید اسد عباس
اس امر پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے کہ دنیا میں بسنے والی ایک دینی رشتے میں بندھی ہوئی مسلم آبادی کا سیاسی بیانیہ افتراق کا شکار رہا ہے۔ قومیتوں، نسلوں کی بنیاد پر تشکیل پانے والی مسلمان ریاستیں واضح دینی تعلیمات کے باوجود اپنی عصبیتوں سے نہ نکل سکیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد دینی رشتے اور مرکزی حکومت پر عرب قوم پرستی کو ترجیح دی گئی، جس کے نتیجے میں "سائیکس پیکو معاہدے” (Sykes-Picot Agreement) کے تحت پوری عثمانی ریاست چھوٹے چھوٹے قومی اور لسانی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ ہر حکومت کو اپنے اقتدار کا غم کھائے جاتا ہے۔ اکثر ممالک میں آمریت، بادشاہت کا دور دورہ ہے، مقتدر افراد اپنے ہی لوگوں کو فتح کرنے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے امت کے وسائل کو بے دریغ لٹایا جارہا ہے۔ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کبھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں، کبھی جہاز تحفے میں دیتے ہیں کبھی ناموس کو ان کے سامنے نچاتے ہیں تاکہ صاحب بہادر خوش ہو جائیں۔
امریکہ کے جتنے اڈے خلیج میں موجود ہیں شائد ہی دنیا کے کسی دوسرے علاقے میں موجود ہوں۔ ایک جانب عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جذباتی تقریریں، مذمتی قراردادیں اور اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں التجا کی زبان ہے تو دوسری طرف میدانِ عمل کی وہ تلخ حقیقتیں جہاں خود انحصاری ناپید ہے۔ کبھی سینٹو کا حصہ بنتے ہیں تو کبھی سیٹو میں گھستے ہیں، کبھی ابراہیم اکارڈ کا لالی پاپ چوستے ہیں تو کبھی جدید دفاعی آلات کی خریداری کو اپنے بقاء کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ مغربی اداروں سے تربیت حاصل کرکے سمجھتے ہیں کہ ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہوگیا، کچھ کشکول لیے عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے پر دستک دیتے دکھائی دیتے ہیں ساتھ یہ شعر گنگناتے ہیں:
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
گذشتہ دنوں مکہ کی مقدس سرزمین پر عالم اسلام کی تین اہم ریاستوں سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کے مابین ایک دفاعی معاہدہ ہوا ہے۔ کسی کو اس معاہدے میں اسلامی نیٹو دکھائی دے رہی ہے تو کسی کو اسلامی لشکر کی ابتداء۔ صحافتی و دانشور دنیا کے بھولے شہزادے سمجھ رہے ہیں کہ یہ اتحاد خطے میں امریکی سیکورٹی ڈھانچے کا نعم البدل ہوگا۔ خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں تاہم حقائق کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔ ان تینوں اہم مسلم ممالک کی امریکہ کے حوالے سے پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو کسی ایک نے بھی گذشتہ آٹھ دہائیوں میں امریکہ کی حکم عدولی نہیں کی ہے۔ سوویت افغان جنگ کے دوران امریکہ نے حکم دیا کہ مجاہدین درکار ہیں تو سعودیہ اور خلیجی ریاستوں نے انسانی و مادی وسائل کی بھرمار کردی۔ طالبان کے ساتھ جنگ کا میدان سجا تو ترکیہ نیٹو کی فوج میں شامل ہوکر افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ شام میں اقتدار کے خاتمے کا منصوبہ بنا تو ترکیہ اور خلیجی ریاستوں نے اپنا سارا وزن امریکی پلڑے میں ڈال دیا۔ اب اگر یہ سمجھا جائے کہ تینوں مل کر خلیج میں امریکی سیکورٹی انفراسٹکچر کی جگہ لیں گے تو یہ خیالی پلاؤ کی وہ دیگ ہے جو کبھی پک کر تیار نہیں ہوگی۔ امریکہ جو اس کا شائبہ بھی ہوا تو ان ممالک میں دھڑاں دھڑاں کی آوزایں سنائی دیں گی۔ اقتدار کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور ایوان ہائے اقتدار میں نئے چہرے دکھائی دینے لگیں گے۔
دوسری جانب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک مسلم ملک چالیس برس کی امریکی و عالمی پابندیوں کا سامنے کرنے کے بعد چھے ماہ سے خطے میں موجود امریکی دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، آبنائے ہرمز، باب المندب کا کہا کہ بند ہیں تو مطلب بند ہیں، امریکہ اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ ان بحری گزرگاہوں کو کھولنے پر قادر نہیں ہو سکا۔ رژیم چینج، دفاعی نظام کا خاتمہ، معیشت پر کنڑول تو ٹرمپ انتطامیہ کا خواب ہی رہ گیا۔ اب امریکہ نے اس بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ مسلم دنیا اور ایک مسلم ملک کے طرز عمل میں یہ فرق کیوں ہے؟ مسلم ریاستوں کی 80 سالہ خارجہ پالیسی اور ایران کی گزشتہ 6 ماہ کی مزاحمتی حکمت عملی کا موازنہ کیا جانا چاہیئے۔ یہ دراصل محض دو مختلف پالیسیوں کا موازنہ نہیں، بلکہ دو مختلف فلسفہ ہائے زیست کا موازنہ ہے۔
اگر ہم گزشتہ 80 برسوں کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو اسلامی دنیا کی اکثریت نے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری بیرونی طاقتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھی تھی۔ عرب لیگ کے اعلامیے ہوں یا بین الاقوامی ضمانتوں پر تکیہ، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلا "دفاعی اور ردِعمل پر مشتمل طرزِ عمل”۔ جب بھی کوئی بحران پیدا ہوا، امت کی حکمتِ عملی کا کل اثاثہ سفارتی احتجاج اور عارضی معاشی یا سیاسی تحفظات تک محدود رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خطے میں طاقت کا توازن مسلسل مخالفین کے حق میں جھکتا گیا اور اسلامی ممالک محض تحفظات کا اظہار کرنے والی اکائیاں بن کر رہ گئے۔ اس کے برعکس، ایران نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران جس حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس روایتی پیراڈائم سے مکمل انحراف کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران کی پالیسی کا بنیادی محور "فعال بازدارندگی” (Active Deterrence) اور اسٹریٹجک خود انحصاری ہے۔ کسی بیرونی طاقت کی ضمانت یا بین الاقوامی اداروں کے انصاف کا انتظار کیے بغیر، ایران نے براہِ راست اور غیر روایتی جواب دہی کے اصول کو اپنایا۔ اس نے ثابت کیا کہ سفارتی تحفظ کا بہترین ذریعہ بیرونی التجا نہیں بلکہ اندرونی صلاحیت اور واضح عزم ہے۔ اس فکری اور عملی فرق کو ذیل کے تین اہم ستونوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ غیر روایتی اتحاد بمقابلہ روایتی سفارت کاری: امت مسلمہ کی 80 سالہ تاریخ میں ریاستی اتحاد اندرونی اختلافات اور بیرونی دباؤ کے باعث ہمیشہ ناپائیدار رہے۔ اس کے برعکس، ایران نے "محورِ مقاومت” کے تحت علاقائی اور غیر روایتی طاقتوں کا ایک ایسا مربوط نیٹ ورک قائم کیا جس نے جنگ اور دفاع کی روایت کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
2۔ ردِعمل کے بجائے پیش بندی: مسلم ممالک کی 80 سالہ پالیسی کا بڑا حصہ نقصان ہو جانے کے بعد ردِعمل ظاہر کرنے تک محدود رہا۔ ایران کی حالیہ 6 ماہ کی حکمتِ عملی نے دکھایا کہ مخالف کی چالوں کو ناکام بنانے کے لیے پیش بندی اور خوف کا توازن قائم کرنا کس قدر ضروری ہے۔
3۔ سیاسی خودمختاری کا مظاہرہ: 80 سالہ سفارت کاری نے ثابت کیا کہ جب تک آپ کے پاس میدان میں طاقت موجود نہ ہو، میز پر بیٹھ کر کی گئی باتیں بے اثر رہتی ہیں۔ ایران کے حالیہ اقدامات نے بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے قومی و سٹریٹجک مفادات پر سمجھوتا کیے بغیر طاقت کے روایتی توازن کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے۔ گزشتہ 80 سال کے تجربات کا حاصل یہ ہے کہ محض قانون، اخلاقیات اور سفارتی اپیلیں کسی قوم کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتیں۔ ایران کے 6 ماہ کے اسٹریٹجک طرزِ عمل نے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں وہی آواز سنی جاتی ہے جس کے پیچھے پائیدار بازدارندگی اور عملی قوت موجود ہو۔ امتِ مسلمہ کو اگر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے، تو اسے جذباتی تقریروں اور بیرونی انحصار کے سراب سے نکل کر خود انحصاری اور طاقت کے اس حقیقت پسندانہ فریم ورک کو اپنانا ہوگا، جس کا مستقبل قریب میں کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔