تحریر: سید اسد عباس
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت اسرائیلی دورے پر ہیں، انھوں نے بڑے فخر سے اس امر کا اظہار کیا کہ اسرائیل پہنچنے پر ان کا استقبال اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ نے کیا۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کریں گے، جو کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا پہلا خطاب ہوگا۔ اسرائیلی اپوزیشن نے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ خصوصی اجلاس کے لیے عدلیہ کے سربراہ کو مدعو نہ کرنا ہے۔ ہندوستانی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران ہندوستان اور اسرائیل کے مابین مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے ہونے کی توقع ہے، جن کے تحت سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور آئس بریکر میزائل سسٹم خریدے جائیں گے۔
مالی سال 2024-25ء میں ان ممالک کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم (دفاعی سودوں کے علاوہ) تقریباً 3.62 سے 3.75 ارب ڈالر کے درمیان رہا۔ اس میں بھارت کی جانب سے اسرائیل کو برآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر، جبکہ اسرائیل سے درآمدات تقریباً 1.6 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ 2022-23ء میں یہ تجارت اپنے عروج پر تھی، جب یہ 10.77 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ سال 2025ء کی ہندوستانی برآمدت جو کہ 2.1 ارب ڈالر تھیں، میں قیمتی پتھر و جواہرات (615 ملین ڈالر)، برقی آلات (224 ملین ڈالر)، نامیاتی کیمیکلز (97 ملین ڈالر)، معدنی ایندھن (90 ملین ڈالر)، ٹیکسٹائل اور ملبوسات (87 ملین ڈالر)، اناج (88 ملین ڈالر) اور پلاسٹک (82 ملین ڈالر) تجارتی حجم کا حصہ ہیں۔
اسرائیل سے درآمد کی جانے والی اشیاء میں الیکڑانک و ہائی ٹیک آلات (432 ملین ڈالر)، دفاعی سامان جو کہ بڑے سرکاری سودوں کے علاوہ ہے(128 ملین ڈالر )، زرعی کیمیکلز و کھاد (110 ملین ڈالر) نیز آپٹیکل و طبی آلات (125 ملین ڈالر) قابل ذکر ہیں۔ بھارتی کمپنی "اڈانی گروپ” نے اسرائیل کی اہم حیفا بندرگاہ (Haifa Port) کو 1.18 ارب ڈالر میں حاصل کیا ہے، جو کہ ایک بڑی تجارتی پیشرفت ہے۔ بھارت اسرائیل روابط کا ایک جیوپولیٹیکل پہلو بھی ہے، آج ہندوستانی اخبار و ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر ایک بھارتی سفارتکار کا کالم شائع ہوا، جس کا عنوان ((How Israel Once Defied Its Biggest Ally To Secretly Help India Against Pakistan ہے۔ انیل ترگونایت اپنے مضمون میں لکھتے ہیں، ہمارے اسرائیل سے تعلقات اس وقت سے ہیں، جب ہمارے مابین کوئی سفارتی معاہدہ نہیں تھا۔
وہ 1971ء جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: "1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کو خفیہ طور پر اہم فوجی ساز و سامان فراہم کیا، جس میں 105 ملی میٹر مارٹر، گولہ بارود اور خصوصی تربیت شامل تھی۔ یہ مدد رسمی سفارتی تعلقات کی عدم موجودگی اور اپنے ہی سپر پاور اتحادی امریکہ کی مخالفت کے باوجود کی گئی۔ یہ وہ وقت تھا، جب دنیا نے بھارت سے منہ موڑ لیا تھا۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق اس وقت کی اسرائیلی وزیراعظم گولڈا میئر نے ایک اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی کے ذریعے امداد فراہم کی اور مستقبل میں بھی تعاون کا وعدہ کیا۔ اسرائیل نے پاکستان کے خلاف لڑنے والی بنگالی گوریلا فورس "مکتی باہنی” کی بھی مدد کی، جس نے بالآخر بنگلہ دیش کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ اس واقعے کا ریکارڈ اندرا گاندھی کے پرنسپل سیکریٹری پی این ہکسر کے انتہائی احتیاط سے محفوظ کیے گئے کاغذات میں موجود ہے، جن کی بنیاد پر امریکی صحافی گیری باس نے اپنی کتاب The Blood Telegram لکھی۔”
انیل ترگونایت مزید لکھتے ہیں: "1980 کی دہائی کے اوائل میں، اسرائیل نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے لیے بھارت کو کہوٹہ ایٹمی پلانٹ تباہ کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔ اسرائیل نے اپنے لڑاکا طیاروں کے لیے بھارتی فضائی حدود کے استعمال اور ایندھن بھرنے کی سہولیات کی اجازت بھی مانگی تھی۔ یہ منصوبہ صرف پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے خوف (جو کہ ایک بھرپور جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا تھا) اور امریکہ کے شدید دباؤ کی وجہ سے روک دیا گیا، کیونکہ امریکہ اس وقت افغانستان میں اپنی کارروائیوں کے لیے اسلام آباد پر انحصار کر رہا تھا۔ اس کے باوجود، اسرائیل کی یہ پیشکش ایک جرات مندانہ جغرافیائی و سیاسی اقدام تھا، جو "اسلامی بمب” اور مغربی ایشیاء پر اس کے اثرات کے حوالے سے اسرائیل کے اپنے خدشات پر مبنی تھا۔ یہ پورا واقعہ تاریخ کے ان عظیم لمحات میں سے ایک ہے، جہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "اگر ایسا ہو جاتا تو کیا ہوتا؟”
انیل ترگونایت لکھتے ہیں: "آپریشن سندور” میں اسرائیل کا تعاون محض سفارتی نہیں تھا بلکہ یہ اس مشترکہ ادراک کا عکاس تھا کہ دہشت گردی ایک تہذیبی خطرہ ہے۔ اسی تاریخ کی بنا پر، وزیراعظم نیتن یاہو نے حال ہی میں تجویز دی کہ جیسے جیسے بھارت اقوام متحدہ میں ایک مستقل قوت بن رہا ہے، اسرائیل واشنگٹن کے بجائے نئی دہلی پر زیادہ انحصار کرسکتا ہے۔ یہ محض زبانی بات نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور مستحکم طاقت کے طور پر بھارت پر گہرے بھروسے کی علامت ہے۔” ایک بھارتی سفارتکار کی گواہی اور پیش کردہ اعداد و شمار یہ واضح کرتے ہیں کہ اسرائیل کی پاکستان سے دشمنی کی بنیادیں 70 کی دہائی تک پھیلی ہوئی ہیں، شائد اس کی وجہ پاکستانی افواج یا پائلٹس کی عرب اسرائیل جنگوں میں شرکت ہو، تاہم ایک بات واضح ہے کہ اسرائیل پاکستانی ایٹم بمب کو اسلامی بمب سمجھتا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔ بات فقط 70 اور 80 کی دہائی کی نہیں، آپریشن سندور گذشتہ برس کا واقعہ ہے۔
بلوچستان سٹڈی پراجیکٹ کے بارے مشاہد حسین سید نے لکھا کہ یہ "موساد” اور "را” کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ ان معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے کئی دشمن ہیں اور وہ باہمی طور پر متحد ہونے کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ اسرائیل کے راستے سے ایران کی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے تو اس کا اگلا نشانہ حتمی طور پر پاکستان کا ایٹم بمب ہوگا۔ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ نیز ان کی خفیہ ایجنسیوں کے مشترکہ منصوبے پاکستان کے لیے ایک بڑا سکیورٹی رسک ہیں۔ پاکستان کو اپنے سیاسی، معاشی نیز سکیورٹی سے متعلق مسائل کو نہایت سنجیدگی سے سدھارنے کی ضرورت ہے۔ دشمن مسلسل منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں منقسم پاکستان کسی بھی بدخواہ کے لیے (خاکم بدہن) ترنوالہ ثابت ہوگا۔
بشکریہ اسلام ٹائمز