Skip to content

انقلابِ اسلامی ایران اور مہدویت، رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی نظر میں

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی
صدر نشین البصیرہ پاکستان

انسانیت کی تاریخ میں بعض لمحات ابدی خوشیوں اور الہیٰ وعدوں کی تکمیل کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ فروری کا مہینہ جہاں ایران میں انقلابِ اسلامی کی 47 ویں سالگرہ کی نوید لے کر آتا ہے، وہیں ایامِ شعبانیہ کی برکتیں اور 15 شعبان المعظم، بقیۃ اللہ الاعظم حضرت امام مہدی (عج) کی ولادتِ با سعادت کے انوار پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی نگاہ میں یہ دونوں مناسبتیں ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ بانیِ انقلاب حضرت امام خمینیؒ نے جس الہیٰ مشن کا آغاز کیا، وہ درحقیقت اسی عالمی عدلِ مہدی (عج) کے لیے "پرچم برداری” اور "زمینہ سازی” کا فریضہ ہے۔

عالمی استکبار کا تسلط اور ظہورِ مہدی (عج) کی امید
آج کی دنیا پر مسلط نظام ایک ایسے ظلم اور ناحق تسلط کی تصویر پیش کر رہا ہے، جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ اس حوالے سے رہبرِ معظم فرماتے ہیں: "عالمی استکبار کے سرغنہ ہر روز انسانیت کے سامنے جھوٹ اور فریب کے نئے دفتر کھول رہے ہیں۔ انسانیت کی شریف ترین اور عزیز ترین اقدار کو مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا کر پامال کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر جاری یہ ناحق خونریزی اور استحصال ایک عام انسان کو مایوسی کی تاریک دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔”(۱) آپ کے نزدیک اس گھٹن زدہ ماحول کا سب سے المناک پہلو مغربی ممالک کی نوجوان نسل کی بدحالی ہے۔ وہ نوجوان نسل، جس نے دینی روایات کی خو نہیں ڈالی اور خود کو اخلاقیات کا پابند نہیں بنایا، جب وہ انسانی زندگی کے اس بدترین ماحول کو دیکھتی ہے تو ناامید ہو کر "لایعنیت” (Nihilism) کی طرف کھچی چلی جاتی ہے۔ زندگی کے ظواہر سے بیزاری اور وقتی شہوات میں غرق ہونا دراصل اسی باطنی مایوسی کا نتیجہ ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کے بڑے دانشور اور سخنور بھی اس لایعنیت کا شکار ہو رہے ہیں۔

مگر وہ قوم جو مہدویت کی فکر سے جڑی ہے، وہ جانتی ہے کہ یہ ظلم و ستم کا دور دائمی نہیں بلکہ ایک ختم ہونے والا سلسلہ ہے اور وہ دور آنے والا ہے، جب حق کا غلبہ، طاقت، فساد اور ظلم کے تمام سلاسل کو نیست و نابود کر دے گا اور انسانی زندگی کے افق کو عدل کے نور سے منور کر دے گا۔(۲) امامِ زمانہ (عج) کے ظہور کا انتظار کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسانی زندگی کے انجام کے بارے میں دل امید سے لبریز ہو۔ یہ وہ دور ہوگا، جب حق کا غلبہ ہوگا، جو فساد اور ظلم کی تمام چوٹیوں کو نیست و نابود کر دے گا اور انسانی زندگی کے افق کو عدل کے نور سے منور کر دے گا۔ رہبرِ معظم واضح فرماتے ہیں "ہم تب ہی حقیقی معنوں میں "منتظر” شمار ہوسکتے ہیں، جب ہم اس عظیم انقلاب کے لیے زمینہ فراہم کریں۔ مہدیِ موعود (عج) کے ظہور کے لیے زمینہ سازی کا مطلب احکامِ اسلامی پر عمل اور قرآن کی حاکمیت کا قیام ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ "بخدا تمھاری آزمائش کی جائے گی اور تمھیں چھانا جائے گا۔” ایرانی قوم نے قرآن کی حاکمیت کے لیے جو پہلا قدم اٹھایا ہے، وہ دراصل اسی بڑے امتحان کا حصہ ہے، جو ولیِ عصر (عج) کے مریدوں کو درپیش ہے۔”(۳)

انقلابِ اسلامی، الہیٰ وعدوں کی تکمیل اور استقامت کا راستہ
رہبرِ معظم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انقلابِ اسلامی کا راستہ دراصل نصرتِ الہیٰ کے وعدوں پر ایمان اور دشمن کے سامنے استقامت کا راستہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں: "صدیوں سے مادی طاقتوں کی یہ کوشش تھی کہ دینِ مقدس اسلام کو انسانی زندگی کے منظرنامے سے خارج کر دیا جائے۔ تاہم انقلابِ اسلامی نے اس کاوش کو پاش پاش کر دیا۔ آج اسلام ایک مقتدر حاکمیت کے ساتھ عالمی سطح پر ظاہر ہوا ہے اور دنیا بھر کی ملتوں کو اپنی طرف جذب کر رہا ہے۔ ایران میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی نے مسلمانوں کے مردہ دلوں کو زندہ کر دیا ہے اور اسلام کے خلاف کی جانے والی تمام زہریلی تبلیغات کو مٹا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استکبار اور دشمنانِ دین کے خلاف مقابلے کا ایک نیا محاذ "جمہوریہ اسلامی” کی صورت میں قائم ہوچکا ہے۔ اس کامیابی کے بعد دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں میں ایک نئی روح پھونک دی گئی۔(۴)

آقای رہبر مزید فرماتے ہیں: "آج الہیٰ وعدے ہمیں پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک ایسی مزاحمت کرنے والی اور بہادر قوم ہیں، جس نے تمام سازشوں کا جوانمردی سے سامنا کیا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں، جو حوادث کی بھٹی میں تپ کر کندن بنے ہیں اور شہداء کے لہو نے ہماری بنیادوں کو مضبوط کیا ہے۔ ایرانی ملت نے اپنے ملک کو عالمی لٹیروں اور ان کے کارندوں کے چنگل سے چھڑا کر اپنے اختیار میں لیا ہے۔ مسلط کردہ جنگ ہو یا معاشی محاصرہ، اس ملت نے ہر امتحان میں ثابت قدمی دکھائی۔ اگر ہم اسی اتحاد اور وفاداری کے ساتھ امامِ عظیم الشان (خمینیؒ) کے نقشِ قدم پر چلتے رہے اور عالمی استکبار سے نہ ڈرے، تو خدا کے فضل سے بقیہ اہداف بھی پورے ہوں گے۔ ان اہداف میں سب سے اہم استکبار کے ڈھانچے کا بکھر جانا ہے۔ یہ وہ الہیٰ وعدہ ہے، جو بلا شک پورا ہو کر رہے گا، چاہے دنیا کے بہت سے لوگ اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ یہی وہ امید ہے، جو انتظارِ فرج کے دوران اسلامی تعلیمات نے ہمیں سکھائی ہے۔”(۵)

انقلاب اسلامی کے خلاف سازشوں کے حوالے سے رہبر معظم فرماتے ہیں: "دشمن آج معاشی اور سماجی مشکلات کو انقلاب کے کھاتے میں ڈالنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، تاکہ عوام کو بدظن کرسکے، لیکن ایک ہوشیار ملت جانتی ہے کہ یہ مشکلات بعض عہدیداروں کی انفرادی کوتاہیاں تو ہوسکتی ہیں، مگر انقلاب سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انقلاب اس ملت کی عزت کا پرچم ہے، جسے وہ امامِ زمانہ (عج) کے حوالے کرنے کے لیے پرعزم ہے۔(۶) طاقتور ممالک دنیا کو ظلم سے بھرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم عدل و قسط کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ جو تحریک عدل کے لیے ہو، وہ اللہ کی نصرت سے ضرور کامیاب ہوتی ہے۔ دنیا عدل و قسط کی طرف بڑھ رہی ہے اور انتظارِ فرج کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہم ایک عظیم کشائش (فرج) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پھر ہم کیوں ڈریں اور کیوں تردید کا شکار ہوں؟”(۷)

اسلامِ نابِ محمدی اور عالمی عدلِ مہدی (عج) کا افق
رہبرِ معظم کے نزدیک اسلامی جمہوریہ کا قیام الہیٰ وعدوں کی عملی تفسیر ہے۔ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم جدوجہد اور صبر کرو گے تو تمھیں وہاں سے طاقت ملے گی، جہاں سے گمان بھی نہ ہوگا۔ اس حساس خطے میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ دین اور فقہ کی بنیاد پر ایک ایسی حکومت قائم ہوسکے گی، جو عالمی طاقتوں کو للکارے گی۔ جب اللہ نے یہ "ناقابلِ یقین کام” مکمل کر دیا، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ "عظیم کام” یعنی ظہورِ مہدی (عج) بھی یقیناً وقوع پذیر ہوگا۔ یہ انقلاب دکھاتا ہے کہ ایک ملت کی استعداد کیسے ابھر سکتی ہے اور وہ اپنے دفاع کی طاقت کیسے حاصل کرسکتی ہے۔(۸) رہبر معظم کے بقول انقلابِ اسلامی نے مہدویت کی فکر کو نئی جلا بخشی ہے۔ دشمن اسی "اسلامِ انقلابی” اور "اسلامِ امام” سے خوفزدہ ہیں، جو زندگی بخش ہے۔ حقیقی اسلام وہی ہے، جسے امام خمینیؒ نے "اسلامِ نابِ محمدی” قرار دیا۔ ہماری ملت اپنے ایمان کے بل بوتے پر کھڑی ہے اور عالمی خطرات اسے نہیں جھکا سکتے۔ آج جو بیداری مسلمانوں میں نظر آرہی ہے، وہ ایک "الہیٰ صنعت” ہے۔ گذشتہ دہائیوں میں "نہ شرقی نہ غربی” کے نعرے نے ثابت کر دیا کہ صرف اللہ پر توکل ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔(۹)

ظہورِ مہدی (عج) کے عالمگیر ثمرات اور حتمی نتائج کے بارے میں رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں کہ جب امامِ زمانہ (عج) ظہور فرمائیں گے، تو وہ نتائج جو آج ہم ایک محدود سطح پر انقلاب کی صورت میں دیکھ رہے ہیں، وہ پوری کائنات پر محیط ہوں گے۔ اس دور کے ثمرات میں سب سے پہلے کامل عدل و قسط کا قیام ہوگا، جہاں دنیا کو ظلم و جور سے پاک کر دیا جائے گا۔ انسانی عقلیں اپنے کمال کو پہنچیں گی اور لایعنیت کا خاتمہ ہوگا۔ عالمی استکبار کے وہ ڈھانچے جنھیں آج ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا ہے، حق کی طاقت کے سامنے بکھر جائیں گے۔ یہ وہ "عظیم فرج” ہے، جس کی طرف پوری انسانیت بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے ہم معتقد ہیں کہ یہ انقلاب ظہورِ مہدی (عج) کا پیش خیمہ ہے اور یہ ملت اپنے تمام دکھوں کے باوجود "عزت کے پرچم” کو تھامے ہوئے ہے، تاکہ اسے صاحبِ امر (عج) کے مبارک ہاتھوں میں دے سکے۔(ان شاء اللہ)

رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے مطابق انقلابِ اسلامی ایران کوئی محدود علاقائی واقعہ نہیں، بلکہ یہ عالمی عدلِ مہدی (عج) کے عظیم منصوبے کا نقطۂ آغاز اور "اسلامی حاکمیت” کا عملی نمونہ ہے۔ اس فکر کا بنیادی ستون یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں عالمی استکبار نے انسانیت کو جس مایوسی اور اخلاقی پستی (لایعنیت) کی دلدل میں دھکیلا ہے، اس کا واحد علاج "انتظارِ فرج” کی وہ فعال سوچ ہے، جو انسان کو جمود کے بجائے حرکت اور مزاحمت کا درس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں اسلامی نظام کا قیام درحقیقت "زمینہ سازی” ہے، تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جا سکے کہ قرآن و فقہ کی بنیاد پر ایک ایسی مقتدر حکومت قائم کی جا سکتی ہے، جو مادی طاقتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دے۔ لہذا انقلابِ اسلامی کی بقا اور عزت دراصل ظہورِ مہدی (عج) کے عالمگیر انقلاب کا دیباچہ ہے؛ یہ ایک ایسی مشق ہے، جو مومنین کو اس عظیم دن کے لیے تیار کر رہی ہے، جب پوری کائنات پر عدل و قسط کا پرچم لہرائے گا اور انسانیت اپنی عقل و شعور کے کمال کو پہنچے گی۔

حوالہ جات
اہل قم سے ملاقات میں خطاب (20 فروری 1992ء)
اہل قم سے ملاقات میں خطاب (20 فروری 1992ء)
اہل قم سے ملاقات میں خطاب (20 فروری 1992ء)
جشنِ "دہہ فجر” کی تقاریب میں شریک غیر ملکی مہمانوں سے ملاقات میں خطاب (7 فروری 1993ء)
اہل قم سے ملاقات میں خطاب(20 فروری 1992ء)
مشرقی آذربائیجان کے عوام سے ملاقات میں خطاب (28 فروری 2003ء)
جشنِ "دہہ فجر” کی تقاریب میں شریک غیر ملکی مہمانوں سے ملاقات میں خطاب (7 فروری 1993ء)
ادارہ "دار الحدیث” اور "قرآن و حدیث ریسرچ انسٹیٹیوٹ” کے محققین اور عملے سے ملاقات میں خطاب (11 جون 2014ء)
بسیج کے ایک گروہ سے ملاقات میں خطاب(24 نومبر 1999ء)