Skip to content

عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کی خبریں

عراقی اور امریکی حکام نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ رواں برس کے اختتام تک عراق سے امریکی زمینی دستوں کی واپسی پر دونوں حکومتوں کے مابین اتفاق رائے ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ اس طرح کے اعلانات گذشتہ برس سے جاری ہیں۔ 2020ء میں اعلان کیا گیا تھا کہ امریکا ستمبر 2020ء تک اپنے 2500 سو فوجیوں میں سے 2200 فوجیوں کو واپس بلا لے گا، تاہم ایک برس گزرنے کے بعد بھی اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ 

امریکہ پر حاکم نظام اور مظلوم امریکی عوام(1)

دنیا میں مختلف اداروں کی طرف سے امریکہ پر حاکم نظام کے بارے میں وحشت ناک رپورٹیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ امریکی ریاست جو کچھ امریکہ سے باہر انجام دیتی ہے اور مختلف ممالک یا خطوں میں جو استعماری حربے اختیار کرتی ہے، ان پر بات ہوتی رہتی ہے، البتہ امریکی عوام پر یہ نظام جو ظلم ڈھاتا ہے، اس پر بات کم ہوتی ہے۔

انسانی حقوق اور امریکہ کا حقیقی چہرہ

دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا علم بردار امریکہ ہے اور دنیا میں انسانی حقوق کو سب سے زیادہ پامال کرنے والا بھی امریکہ ہی ہے۔ دنیا میں انسانوں کا سب سے زیادہ قتل عام امریکہ ہی نے کیا ہے۔ انسانوں کے قتل عام کے لیے وحشت آفریں ہتھیار امریکہ نے ہی بنائے ہیں اور امریکہ ہی نے بیچے ہیں۔ امریکی معیشت کا سب سے زیادہ انحصار ہتھیاروں کی فروخت پر ہی ہے۔

پاکستان کی پارلیمان میں آزاد روح کا خطاب

30 جون 2021ء کو اسلام آباد میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان خطاب کر رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پارلیمان میں قائداعظم کی آزاد روح کی آواز گونج رہی ہے۔ خود عمران خان نے قائداعظم کا ذکر ان الفاظ میں کیا: "قائداعظم غلام ہندوستان میں ایک آزاد انسان تھے۔” پاکستان کی تشکیل کا پس منظر اور اس سلسلے میں پاکستان کے بانیوں کا ویژن بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا:

داعش کی ماں کب تک خیر منائے گی؟

افغانستان کے بعد امریکا کو عراق سے بھی اپنے پر پرزے سمیٹنے ہوں گے، امریکہ نے عراق سے اپنی واپسی کے پروانے پر دستخط اس روز کیے جب اس نے عراقی سرزمین پر عراقی رضاکار فورس کے کمانڈر ابو مہدی المہندس اور القدس بریگیڈ کے  معروف سربراہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کیا۔ یہ جنوری 2020ء کی بات ہے۔ الحشد الشعبی نے ایک برس انتظار کیا کہ امریکا ہماری سرزمین کو قانونی انداز سے چھوڑ جائے۔ پارلیمان کی قراردادوں، سیاسی شخصیات کے بیانات کے باوجود امریکہ ٹس سے مس نہ ہوا۔

ایف اے ٹی ایف، آئی ایم ایف قوموں کیلئے شکنجہ

ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے 27 میں سے 26 مطالبات پر عمل درآمد، قانون سازی اور اقدامات کے باوجود پاکستان کو مزید ایک برس کے لیے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان سے مزید سات مطالبات بھی کیے گئے ہیں، جو کہ منی لانڈرنگ پر مزید سخت اقدامات لینے سے متعلق ہیں، پاکستان نے ان سات مطالبات پر ایک سال میں عمل درآمد کرنا ہے۔

عمران خان کا امریکا کو جرات مندانہ جواب

پس منظر اور پیش منظر:
دنیا بھر میں ایک امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او کے پروگرام ’’ایکزیوس‘‘ کے میزبان صحافی جوناتھن سوان کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو کی دھوم ابھی باقی تھی اور عمران خان کا  جملہ ’’Absolutely not‘‘ ہرگز نہیں، دل و دماغ پر دستک دے رہا تھا کہ ایسے میں ان کا ایک اہم مضمون واشنگٹن پوسٹ میں سامنے آیا، جس میں رہا سہا پردہ بھی چاک کر دیا گیا اور امریکہ کو فوجی اڈوں کی نئی فرمائش پر صاف انکار کی وجوہات خود وزیراعظم کی طرف سے سامنے آگئیں۔

معاہدہ ابراہیم تمام معاہدوں کی ماں کیسے؟

ڈاکٹر ولید فارس امور مشرق وسطیٰ کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ وہ ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خارجہ پالیسی سے متعلق مشیر رہ چکے ہیں اور درون خانہ ان کے بہت سے رازوں سے واقف ہیں۔ ڈاکٹر ولید نے تقریباً ایک برس قبل ایک کالم ’’یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ابراھیم: تمام معاہدوں کی ماں ‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔ اس آرٹیکل میں ان کا کہنا تھا کہ ’’اب تک جو کچھ میں جانتا ہوں، وہ یہ ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ڈیل کی ایک طویل تاریخ ہے اور اس کے زیادہ وسیع تر پہلو ہیں، جن کا انکشاف دستخط کے بعد مرحلہ وار ہوگا۔‘‘

فتح مبین کانفرنس امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

یہ کانفرنس امام اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ۱۹ جون ۲۰۲۱ کو نیشنل پریس کلب میں منعقد ہوئی جس میں سینیٹر تاج حیدر، راہنما مسلم لیگ صدیق الفاروق ، علامہ امید شہیدی ، علامہ سید ثاقب اکبر ، پیر سعید احمد نقشبندی ، علامہ مفتی گلزار احمد نعیمی ، سید ناصر شیرازی اور عارف الجانی نے خطاب کیا۔

کیا عراق سے امریکا کے ذلت آمیز انخلا کے دن آ پہنچے ہیں؟

3 جنوری 2020ء کی صبح بغداد ائیرپورٹ سے نکلتے ہوئے ایران اور عراق کے دو محبوب کمانڈروں اور ان کے ساتھیوں کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایما پر شہادت کے بعد ایران نے اپنے انداز سے انتقام لینے کا اعلان کیا اور عراق کی پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے امریکی افواج کو عراقی سرزمین چھوڑ جانے کے لیے کہا۔ عراقی عوام امریکا کے ہاتھوں جس قتل و کشتار کے سمندر کو عبور کرکے آئے ہیں، اس کی کی مثال پوری تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی۔

افغانستان سے امریکی انخلاء، مطالبے اور پاکستان کی مشکلات

گیارہ ستمبر 2021ء تک نیٹو افواج کو افغانستان چھوڑنا ہے، تاہم امریکہ اس خطے کو ترک نہیں کرنا چاہتا۔ ظاہراً اس کے مدنظر افغانستان میں امریکا مخالف شدت پسندی کو روکنا ہے، مگر درحقیقت وہ چین، روس اور ایران کی خطے میں پالیسیوں نیز اقتصادی پیشرفت سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ خلیج میں موجود امریکی اڈے دور ہیں، لہذا امریکی عسکری ادارے پینٹا گون کی خواہش ہے کہ اسے افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں ہی سر چھپانے کی جگہ مل جائے، جہاں سے وہ افغانستان اور خطے میں ہونے والی اقتصادی و تزویراتی سرگرمیوں سے آگاہ رہ سکے۔