Skip to content
Dr Ali abbas naqvi

طوفان الاقصیٰ، قرآنی تعلیمات کی عملی تعبیر اور عالمگیر بیداری کا آغاز

7 اکتوبر 2023ء کی صبح تاریخ عالم کا ایک ایسا سنگ میل ثابت ہوئی، جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست کے طے شدہ معادلات کو تہ و بالا کر دیا۔ "طوفان الاقصیٰ” محض ایک عسکری کارروائی یا عارضی ردِعمل نہیں، بلکہ دہائیوں سے جاری جبر و استبداد، محاصرے اور قبلۂ اول کی بے حرمتی کے خلاف ایک منظم، جرات مندانہ اور تاریخ ساز عزم کی علامت بن کر ابھرا۔ اس معرکے نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ تاریخ کا دھارا محض ظاہری و مادی قوت سے نہیں، بلکہ ایمانی جذبے، عوامی ارادے اور حق کی خاطر دی جانے والی قربانیوں سے بدلتا ہے۔ یہ تاریخی پیش رفت دراصل فلسطین کے مظلوم عوام کو یاد رکھنے اور ان کے ساتھ عالمی سطح پر یکجہتی کو تازہ کرنے کا اہم ذریعہ بن کر ابھری۔ یہ معرکہ امت مسلمہ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ مظلوم کی حمایت کوئی ثانوی یا سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک صریح قرآنی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ "وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرَّجَالِ وَالنَّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ” (النساء: 75) "اور تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے (جو پکار رہے ہیں)؟”

اعلان بالفور سے حماس کو دہشتگرد قرار دینے تک

مجھے شاہ برطانیہ کی طرف سے آپ کو بتاتے ہوئے از حد خوشی ہو رہی ہے کہ درج ذیل اعلان صہیونی یہودیوں کی امیدوں کے ساتھ ہماری ہمدردی کا اظہار ہے اور اس کی توثیق ہماری کابینہ بھی کرچکی ہے: "شاہ برطانیہ کی حکومت فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حامی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن صلاحیت کو بروئے کار لائے گی، مگر اس بات کو مدِنظر رکھا جائے کہ فلسطین کی موجودہ غیر یہودی آبادی مسلمان اور مسیحی کے شہری و مذہبی حقوق یا دوسرے ممالک میں یہودیوں کی سیاسی حیثیت کو نقصان نہ پہنچے۔” میں بہت ممنون ہوں گا، اگر اس اعلان کو صہیونی فیڈریشن کے علم میں بھی لایا جائے۔
آپکا مخلص
آرتھر جیمز بالفور سیکریٹری خارجہ برطانیہ
2 نومبر 1917ء

قراردادی مسلمان اور جہادی مسلمان

تحریر: ثاقب اکبر

ویسے تو آج کے مضمون کو تفصیل کی ضرورت نہیں، سرخی میں جو اجمال آگیا ہے، وہی ساری داستان کہنے کو کافی ہے۔ بہرحال اس سے دل کو تشفی نہیں ہوتی، لہٰذا کچھ تو کہنا ہے۔ تو آئیے سابق اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مئیر کی ایک بات سے آغاز کلام کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ ان کی زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا، جب انھوں نے مسجد اقصیٰ کو آگ میں جلتے دیکھا۔

یوم القدس اور اسلامی مزاحمت کا نقطۂ نظر

تحریر: ثاقب اکبر

عالمی یوم القدس پر اسلامی مزاحمت کے مختلف قائدین کے بیانات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایک ہی جذبہ ہے جو حق پرست اور شجاع پیشہ مسلمانوں کے دلوں میں برپا ہے۔ وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل نابودی اور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اور دن بدن کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر بیداری کی ایک لہر موجود ہے۔ یقیناً اس بیداری میں ہر سال برپا کیے جانے والے یوم القدس کا ایک بڑا کردار ہے، جس کی بنیاد حضرت امام خمینیؒ نے رکھی تھی۔ آئیے ذیل میں اسلامی مزاحمت کے چند راہنمائوں کے بیانات پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جو یوم القدس ہی کی مناسبت سے سامنے آئے ہیں: