Skip to content
Dr Ali Abbas

انصاراللہ کی تکفیر اور پیغام پاکستان پر دستخط

آج یہ کھیل روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکا ہے کہ اگر غزہ میں مسلمانوں کا خون بہے تو مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، یمن کے مظلوم و غیور عاشقِ رسولؐ مزاحمت کریں تو ان پر کفر کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے اور آلِ سعود و امریکی مفادات کی جی حضوری کر لی جائے تو اسی کو عینِ اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مذہب کے نام پر صادر ہونے والے شرعی فتوے نہیں بلکہ دربارِ اقتدار اور سامراجی طاقتوں کو خوش کرنے کیلئے "حسبِ فرمائش سرٹیفکیٹ” ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مستبد حکمرانوں کو اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کیلئے مذہبی جواز کی ضرورت پڑی ہے، ایسے ہی ریالوں اور ڈالروں پر پلنے والے درباری فتووں نے جنم لیا ہے۔

انصار اللہ یمن شہر ماٰرب کے دروازے پر

تحریر: ثاقب اکبر

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمن کی عوامی رضاکار فوج ماٰرب شہر سے تقریباً دو کلو میٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے۔ مرکز شہر سے یہ فاصلہ پانچ کلو میٹر رہ گیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سید عبدالمالک حوثی کی قیادت میں جارحین کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے تاریخ میں ایک نیا باب مکمل کرنے کو ہیں۔ امریکی سرپرستی میں 6 سال سے زیادہ عرصہ سے مسلط کردہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کو ہے۔ آج (27 اپریل2021ء) صبح سے خبر رساں ادارے یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ یمنی افواج ماٰرب شہر کی طرف بڑھتے ہوئے اس وقت تومۃ العلیا کو آزاد کروا چکی ہیں۔