Skip to content
سید ثاقب اکبر

اقبال کا نظریۂ اجماع اور عالم اسلام میں اس کا عملی ارتقاء۔۔۔ایک جائزہ

علامہ اقبال کے نزدیک "اجماع” اسلامی قانون کا ایک بنیادی اور اہم ترین مآخذ ہے، جو تاریخی وجوہات اور ملوکیت کے تسلط کے باعث صدرِ اسلام کے بعد ایک مستقل ادارے کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ عصرِ حاضر میں اقبال نے اجماع کی تعبیر یہ کی ہے کہ کسی خطے یا ملک کی نمائندہ قانون ساز اسمبلی شریعت کے مقاصد اور عصری تقاضوں کی روشنی میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کرے۔ عالمِ اسلام میں اس نظریے کا عملی ارتقاء ایران کے ادارے "شورائے نگہبان” اور پاکستان کی "اسلامی نظریاتی کونسل” کی شکل میں سامنے آیا، اگرچہ ایران میں شورائے نگہبان کی توثیق قانون سازی کے لیے لازمی ہے جبکہ پاکستان میں کونسل کی حیثیت بنیادی طور پر مشاورتی ہے۔ جدید دور میں اس اجتہادی و تشریعی سفر کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ روایتی فقہی نصاب کی اصلاح کی جائے اور "مقاصدِ شریعت” (دین، جان، مال، عقل اور نسل کی حفاظت) کو بنیادی رہنماء اصول بنایا جائے۔ عالمِ اسلام میں جمہوری روح کی بیداری اور مجالسِ قانون ساز کا قیام اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ منتقل شدہ حقِ اجتہاد کے ذریعے فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک جامع، آفاقی اور تحرک زا اسلامی قانون تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

سید ثاقب اکبر

اقبال اور عشق رسولؐ

عشق دراصل وسیع، ہمہ گیر اور لا متناہی انسانی جذبوںکی پرواز کا نام ہے اور یہ بقا کی طرف ایک سفر ہے اسی میں رمز تخلیق انسانی اور انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز پنہاں ہے یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو تمام وابستگیوں سے کاٹ کر ایک سے متصل کر دیتی ہے اور اس میں ارتکاز کی ایک حالت پیدا ہوجاتی ہے۔یہاں تک کہ تمام مادی کائنات انسان کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہے ،گویا ایک عاشق کے لیے اس کی یہی کیفیت مادی زندگی کی فنا اور وسیع تر روحانی زندگی کے آغاز سے عبارت ہے ۔جب عشق کی کیفیات انسان کے اندر پھوٹ پڑتی ہیں تو وہ اس کی مادی زندگی کے لیے صورِ اسرافیل بن جاتی ہیں جیسا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں:
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صورِ اسرافیل

اقبال اور ملا کی تنگ نظری

تحریر: ثاقب اکبر

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم لکھتے ہیں: ’’علامہ اقبال ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ اکثر پیشہ ور ملا عملاً اسلام کے منکر، اس کی شریعت سے منحرف اور مادہ پرست دہریہ ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ایک مقدمے کے سلسلے میں ایک مولوی صاحب میرے پاس اکثر آتے تھے۔ مقدمے کی باتوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت یہ تلقین ضرور کرتے تھے کہ دیکھیے ڈاکٹر صاحب آپ بھی عالم دین ہیں اور اسلام کی بابت نہایت لطیف باتیں کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کی شکل مسلمانوں کی سی نہیں، آپ کے چہرے پر ڈاڑھی نہیں۔ میں اکثر ٹال کر کہہ دیتا کہ ہاں مولوی صاحب آپ سچ فرماتے ہیں۔