Skip to content

رہبر معظم  کی شہادت، اتحادِ امت کا نیا باب

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت ایک معجزہ اور کرامت ہے، جس نے امت میں یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ شیعہ مکتبِ فکر کے افراد کا غمگین ہونا ایک فطری بات ہے۔ تاہم جس طرح اہل سنت بھائیوں نے اس دکھ میں ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ رہبر کی شخصیت کسی خاص مسلک تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ پوری امتِ مسلمہ کے دھڑکتے ہوئے دل کی آواز تھے۔ اہل سنت مکتبِ فکر کے علماء، مشائخ اور عوام کی جانب سے جس والہانہ عقیدت اور دکھ کا اظہار سامنے آیا ہے، اس نے دشمن کی ان تمام سازشوں کو خاک میں ملا دیا ہے، جو برسوں سے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے میں مصروف تھے۔ یہ ہمدردی محض ایک جذباتی ردِعمل نہیں، بلکہ اس اعتراف کی دلیل ہے کہ اسلام کے وقار اور مظلومینِ جہاں کی حمایت کے لیے اٹھنے والی ہر آواز دراصل قرآن و سنت کی سچی ترجمان ہوتی ہے۔

آج کی صورتحال میں یہ اتحادِ امت ایک ایسی صورت اختیار کرچکا ہے، جہاں مسلکی اختلافات کی جگہ مشترکہ مقاصد اور ملی یکجہتی نے لے لی ہے۔ شہادت کے اس عظیم واقعے نے ثابت کر دیا کہ خونِ شہید میں وہ تاثیر ہے، جو بکھرے ہوئے طبقوں کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ یہ غم اب صرف ایک مکتبِ فکر کا نہیں رہا، بلکہ یہ پوری امت کا مشترکہ درد بن چکا ہے، جو ہمیں منزلِ مقصود یعنی غلبہِ اسلام اور آزادیِ قدس کی طرف لے کر جائے گا۔ اس بے پناہ عوامی محبت اور قلبی میلان کے پیچھے کئی اہم ترین عناصر کارفرما ہیں، جنھوں نے اتحادِ امت کے اس نئے باب کی بنیاد رکھی ہے:

۱۔ نظریاتی اساس، توہینِ مقدسات کی حرمت کا تاریخی فتویٰ
اتحادِ امت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمیشہ سے وہ "تکفیری بیانیہ” اور "مسلکی اشتعال انگیزی” رہی ہے، جسے استعماری طاقتیں ہوا دیتی آئی ہیں۔ اس زہریلے ماحول میں رہبرِ معظم کا وہ فتویٰ ایک "انقلابی موڑ” ثابت ہوا، جس میں انھوں نے صراحت کے ساتھ اعلان کیا کہ: "برادرانِ اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے، چہ جائیکہ بالخصوص زوجہ رسولؐ پر تہمت لگائی جائے، جس سے ان کے شرف و عزت پر حرف آتا ہو؛ بلکہ تمام انبیاء اور خصوصاً سید الانبیاءؐ کی ازواج کی توہین ممنوع ہے۔” اس فتوے نے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ پوری دنیا میں موجود انتہاء پسندوں کے ہاتھ کاٹ دیئے۔ اہل سنت علماء نے جب دیکھا کہ ایک بلند پایہ فقیہ اور سیاسی مقتداء اپنے پیروکاروں کو دوسروں کے مقدسات کے احترام کا پابند کر رہا ہے تو نفرت کی دیواریں گرنا شروع ہوئیں۔ اس فتوے نے یہ ثابت کیا کہ رہبرِ معظم کا مقصد کسی خاص فرقے کا غلبہ نہیں بلکہ "اسلامی وحدت” کا قیام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی شہادت پر ہر کلمہ گو خود کو سوگوار محسوس کر رہا ہے۔

۲۔ دشمن کی پہچان، "حق کا معیار” اور استعماری نشانہ
دشمن شناسی کا ایک زریں اصول ہے کہ اگر آپ کو اپنے دوست اور دشمن کی تمیز نہ ہو رہی ہو تو یہ دیکھیں کہ باطل قوتیں کس کے خلاف صف آراء ہیں۔ جب امریکہ، اسرائیل اور مغربی استعمار نے اپنی تمام تر اقتصادی پابندیاں، میڈیا وار اور عسکری سازشیں صرف ایران اور رہبرِ معظم کی ذات کی طرف موڑ دیں، تو عام مسلمان کے لیے یہ سمجھنا آسان ہوگیا کہ "حق” کہاں کھڑا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کا حالیہ مشترکہ حملہ دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ رہبرِ معظم ہی وہ واحد رکاوٹ ہیں، جو "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کی راہ میں حائل ہیں۔ عوام نے دیکھا کہ جو دشمن فلسطین میں بچوں کا قاتل ہے، وہی ایران کا بھی دشمن ہے۔ دشمن کا یہ ارتکازِ توجہ دراصل رہبرِ معظم کی کامیاب حکمتِ عملی کا اعتراف ہے۔

باطل ہمیشہ اسی دیوار کو گرانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے سب سے زیادہ مضبوط ہو۔ ان کی دانشمندانہ تدبیر نے دشمن کو اس نہج پر لا کھڑا کیا کہ اسے اپنی بقا کے لیے براہِ راست حملوں کا سہارا لینا پڑا۔ اس "مشترکہ دشمنی” نے مسلمانوں کے دلوں میں رہبر کے لیے وہ جگہ بنا دی، جو کسی پروپیگنڈے سے ممکن نہ تھی۔ پھر جب اس جدوجہد کے عروج پر شہادت کا باب رقم ہوا، تو اس نے "حق کے معیار” کو رہتی دنیا تک کے لیے امر کر دیا۔ رہبر کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ ان کی تدبیر محض دنیاوی غلبے کے لیے نہیں، بلکہ الہیٰ مشن کی تکمیل کے لیے تھی۔ شہادت نے اس نظریاتی جنگ کو ایک ایسا رخ دے دیا ہے، جہاں اب دشمن کے لیے کسی سازش کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

۳۔ قضیہ فلسطین، قول و فعل کا اتحاد
دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص اہل سنت عوام کے دل جیتنے میں سب سے بڑا کردار "مسئلہ فلسطین” پر ایران کے عملی موقف کا ہے۔ ۱۹۷۹ء سے لے کر آج تک، ایران نے کبھی بھی فلسطین پر سودے بازی نہیں کی۔ جہاں دیگر عرب ممالک "ابراہیم کارڈ” اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی طرف مائل ہوئے، وہاں رہبرِ معظم نے نیتن یاہو اور اس کی ناجائز ریاست کے خلاف اعلانِ جنگ جاری رکھا۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حماس اور جہادِ اسلامی سنی تنظیمیں ہیں، لیکن ایران نے مسلکی فرق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انھیں وہ ٹیکنالوجی اور اسلحہ فراہم کیا، جس نے آج اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ یہ رہبرِ معظم کی حکمتِ عملی کا ہی ثمر ہے کہ انھوں نے فلسطین کو صرف ایک عرب مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کا مرکز بنا دیا۔

انھوں نے اپنی تدبیر سے ثابت کیا کہ تہران کی دفاعی لائن غزہ اور لبنان کی گلیوں سے گزرتی ہے۔ جب حماس کی قیادت نے خود رہبرِ معظم کے احسانات کا اعتراف کیا، تو اہل سنت عوام کے ذہنوں سے یہ پروپیگنڈا ختم ہوگیا کہ ایران صرف شیعہ مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اس قول و فعل کے اتحاد پر مہر اس وقت لگی، جب اس جدوجہد میں شہادت کا عظیم عنصر شامل ہوا۔ رہبرِ معظم کی قیادت میں دی جانے والی قربانیوں اور میدانِ عمل میں ان کے ثابت قدم رہنے نے یہ ثابت کر دیا کہ فلسطین کے لیے ان کا عزم محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایمانی فریضہ ہے۔

۴۔ غیرت اور شجاعت، غلامی کے طوق کا خاتمہ
مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت اپنے حکمرانوں کی "کاسہ لیسی” اور امریکہ کے سامنے مصلحت پسندی سے نالاں رہی ہے۔ ایسے میں ایران کی قیادت نے ایک "متبادل رول ماڈل” پیش کیا۔ پچھلے ستر سالوں میں کسی مسلم ملک نے امریکہ کو اس طرح چیلنج نہیں کیا، جس طرح ایران نے کیا۔ ڈرونز گرانا، امریکی اڈوں پر میزائل داغنا اور براہِ راست اسرائیل کو نشانہ بنانا، یہ وہ اقدامات تھے، جن کی تمنا ہر غیرت مند مسلمان کے دل میں تھی۔ ان اقدامات نے امت کے اس دیرینہ احساسِ کمتری کو ختم کر دیا کہ مسلمان عالمی استعمار کے سامنے بے بس ہیں۔ جید اہل سنت علماء نے یہ محسوس کیا کہ ایران وہ واحد طاقت ہے، جو "کلمہ حق” بلند کرنے کی جرات رکھتی ہے۔ اس شجاعت نے مسلکی دوریاں ختم کر دیں اور علماء نے برملا کہنا شروع کیا کہ رہبرِ معظم صرف ایران کے نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے ہیرو ہیں۔

آج یہ شجاعت محض ایک ملک کا بیانیہ نہیں بلکہ پوری امت کی اجتماعی غیرت کی آواز بن چکی ہے۔ اس نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر ارادے بلند ہوں تو ٹیکنالوجی اور وسائل کی برتری ایمانی حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتی۔ اب یہ جذبہ سرحدوں اور مسلکوں کی قید سے آزاد ہو کر ایک عالمی اسلامی بیداری کی بنیاد بن رہا ہے۔ ان تمام عناصر کا منطقی نتیجہ ایک "متحدہ اسلامی بلاک” کی تشکیل کی صورت میں نکلنا چاہیئے، کیونکہ آج امتِ مسلمہ کے پاس اتحاد کا ایک ایسا تاریخی موقع ہے، جسے ضائع کرنا کسی المیے سے کم نہ ہوگا۔ اس لہر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک مستحکم پلیٹ فارم کا قیام اب ناگزیر ہوچکا ہے۔ وہ ریاستیں جو طویل عرصے سے استعماری قوتوں کی تابع داری میں اپنا وقار کھو چکی ہیں، انھیں اب اس ذہنی و سیاسی غلامی سے نجات حاصل کر کے ایک آزاد بلاک کا حصہ بننا چاہیے۔

یہ بلاک نہ صرف مسلمانوں کے سیاسی وقار کو بحال کرے گا بلکہ عالمی سطح پر امت کو ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر متعارف کروائے گا۔ جب ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان ایک مربوط معاشی اور دفاعی قوت بن کر ابھریں گے تو کسی صیہونی یا استعماری طاقت کو مسلم ممالک کی سالمیت پر حملہ کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔ درحقیقت شہادتِ رہبر نے امت کی رگوں میں وہ نیا خون دوڑا دیا ہے، جو بیداری کی علامت ہے، لہٰذا اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان عوامل کو بنیاد بنا کر غلامی کی زنجیریں توڑ دیں اور ایک خود مختار اسلامی معاشرہ تشکیل دیں، کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے، جو ہمیں دوبارہ خیرِ امت کے عظیم منصب پر فائز کرسکتا ہے۔

بشکریہ : اسلام ٹائمز