اسرائیلی تسلط کے 74 سال اور آستین کے سانپ

Published by سید اسد عباس تقوی on

سید اسد عباس
آج یعنی 5 مئی 2022ء کو اسرائیل اپنا یوم آزادی منا رہا ہے۔ اب نہیں معلوم یہ آزادی اس نے کس سے حاصل کی ہے۔ تسلط اور غاصبانہ قبضے کو یوم آزادی قرار دینا اسرائیلیوں کی منافقت کی بین مثال ہے۔ کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہی ہوتے، یہاں اس کے پاؤں بھی ہیں، سر بھی اور باقی بدن بھی۔ اسرائیل کے اسی جھوٹ کو اگر دنیا پرکھ لے تو اسے اس ریاست کے دیگر کاموں میں کوئی شک و شبہ نہیں رہنا چاہیئے۔ آج اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور وہاں موجود صہیونی آبادشدگان نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا۔ نمازیوں کو زد و کوب کیا، ان پر ربڑ کی گولیاں چلا کر 15 کے قریب فلسطینیوں کو زخمی کیا جبکہ متعدد گرفتار کیے گئے۔ مغربی کنارے میں موجود فلسطینیوں کی تنظیم الفتح نے مغربی کنارے کے تمام فلسطینیوں کو الاقصیٰ کی جانب مارچ کے لیے آمادہ رہنے کا کہا ہے، جبکہ حماس نے کہا ہے کہ صہیونی آبادکاروں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے ہمراہ مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملہ کرنا ایک ننگی جارحیت، براہ راست مداخلت ہے، جو کسی بڑے سانحہ کو جنم دے سکتی ہے۔ اسے کے لیے صہیونی حکومت ذمہ دار ہوگی۔

او آئی سی کی عالمی فلسطین کانفرنس نے آج ایک بیان دیا اور کہا کہ آج فلسطینی ہر زمانے سے زیادہ مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنے کے قابل ہیں۔ فلسطینی 15 مئی کو اسرائیلی قبضہ کی یاد میں یوم نکبہ مناتے ہیں جبکہ اسرائیلی یہ دن عبرانی کیلنڈر کے مطابق منا رہے ہیں۔ دنیا اسرائیل کو اس کے یوم قبضہ پر مبارکباد دے، یہ تو مسلمانوں کے لیے قابل تحمل ہے، لیکن بے حمیت مسلمان راہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات پوری امت مسلمہ اور فلسطینیوں کے لیے نہایت تکلیف دہ ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے تہنیتی پیغام میں اسرائیلی صدر کو لکھا:
’’مجھے یقین ہے کہ جدید دور میں ہمارے روابط اور باہمی تعاون سے ایسی راہیں کھلیں گی، جو ہمارے دوطرفہ مفادات اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مفید ہوں گی۔‘‘

یہ رجب طیب اردوغان خلیفۃ المسلمین بننے والوں کی فہرست میں پہلے نمبر کے امیدوار ہیں۔ دیگر امیدواروں میں جزیرہ العرب کے کچھ قبائلی سردار بھی ہیں، جو یقیناً جب بیدار ہوں گے تو اپنی محبوبہ کو فلسطینیوں کے حقوق غصب کرنے لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کرنے، گذشتہ 74 برسوں سے فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے اور گولہ باری کرنے کے اعلیٰ اقدامات پر مبارکباد دیں گے۔ محبوبہ سے تازہ تازہ تعلقات اسی امر کے متقاضی ہیں، ہوسکتا ہے کہ کچھ خفیہ خط و کتابت سے ایسا کر بھی چکے ہوں۔ ہمیں عالم اسلام کے ان خائن حاکموں سے بھی شکوہ نہیں رکھنا چاہیئے، یہ نام نہاد مسلمان دین اور دین داری سے اپنا تعلق اسی وقت توڑ گئے تھے، جب انھوں نے برطانوی سامراج کے ساتھ مل کر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے معاہدے کیے تھے۔

ضرورت تو مسلمان عوام کو بیدار ہونے کی ہے کہ وہ پہلے اپنی آستینوں میں چھپے سانپوں کو شناخت کریں۔ لباس اور زبان سے دھوکہ نہ کھائیں۔ اسلام کسی خاص وضع قطع، لباس اور زبان کا نام نہیں بلکہ یہ تعلیمات اور نظریات کا مجموعہ ہے، ہر وہ شخص جو ان تعلیمات اور نظریات سے دور ہے، خواہ وہ کچھ بھی ہو، مسلمان نہیں ہے۔ عرب ہونا مسلمان ہونے کی علامت نہیں ہے۔ نہ ہی ترک ہونا اسلام کی علامت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ او آئی سی جو مسلمان ریاستوں اور ان کے خائن حکام کے ہاتھوں یرغمال ہوچکی ہے، کو ایک عوامی تنظیم بنایا جائے۔ اگر او آئی سی کو یرغمالیوں سے چھڑوانا ممکن نہیں تو مسلم دنیا کے غیور قائدین اور اسلامی تنظیمیں ایک ایسی تنظیم کی بنیاد رکھیں، جو پوری امت مسلمہ کی حقیقی آواز ہو۔ وہ خواب جو ہم نے او آئی سی کو تشکیل دیتے ہوئے دیکھے تھے، وہ یہ عوامی اسمبلی پورے کرے۔

ایران کے قائدین، حزب اللہ کے سربراہ، یمن کے رہبر، الاخوان کے امیر، حماس کے سربراہ، ترکی، تیونس، الجزائر، افغانستان، عراق، شام، پاکستان، مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک، انڈونیشیا، ملائشیاء کے غیور مسلمان اور ان ممالک میں موجود اعلائے کلمۃ الحق کے لیے قائم سیاسی، سماجی، مذہبی اور فلاحی تنظیمیں اپنے آپ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور امت کے حقوق کے دفاع کی تحریک کی بنیاد رکھیں۔ میری نظر میں اسلامی ممالک کے عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ اور تعلق ہی اب مسلم دنیا کے مسائل کو حل کرسکتا ہے۔ امید تو او آئی سے سے بھی تھی، تاہم اس تنظیم کے بانیان کو جس انداز سے تہ تیغ کیا گیا اور اس کے بعد اس پر خائنین کا تسلط کروایا گیا، اسے دیکھ کر انسان اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ہمیں براہ راست عوامی روابط کی ضرورت ہے۔ ہمیں بیوروکریٹک سٹائل کے بجائے تنظیمی انداز سے آگے بڑھنا ہوگا، تاکہ مسلم حقوق کے تحفظ کی یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو اور امت کو درپیش مسائل حل ہوسکیں۔

بشکریہ : اسلام ٹائمز