ہندوستان کا متنازعہ وقف ترمیمی بل2024ء
تحریر: سید اسد عباس ہندوستان کی وزارت دفاع کے پاس 17.95 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جبکہ ریلوے کے پاس تقریباً 12 لاکھ ایکڑ اراضی ہے۔ وقف بورڈ 9.4 لاکھ ایکڑ…
تحریر: سید اسد عباس ہندوستان کی وزارت دفاع کے پاس 17.95 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جبکہ ریلوے کے پاس تقریباً 12 لاکھ ایکڑ اراضی ہے۔ وقف بورڈ 9.4 لاکھ ایکڑ…
تحریر: سید اسد عباس اپنی گذشتہ تحریر بعنوان "مولانا مودودی کا تصور حکومت عقل و خرد کے پیمانے پر” میں راقم نے قارئین کے لیے بیان کیا کہ مولانا مودودی اس بات…
تحریر: سید اسد عباس مولانا مودودی اپنی کتاب "اسلامی ریاست فلسفہ، نظام کار اور اصول حکمرانی” میں رقمطراز ہیں: "قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ خلق…
تحریر: سید اسد عباس اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے اتوار 4 مئی 2025ء کو ہونے والے اجلاس میں حماس کے خلاف فوجی کارروائی کو وسعت دینے کے ایک وسیع تر…
تحریر: سید اسد عباس مذکورہ بالا قول مختلف شخصیات سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کا قدیم ترین موجد یونانی ڈرامہ نگار ایسکلیس کو تصور کیا جاتا ہے۔ جدید دور…
تحریر: سید اسد عباس مذہب جس کے لیے قرآن کریم میں دین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، زندگى کا علم ہے۔ یہ ایسا علم ہے، جو انسان کو انسان…
تحریر: سید اسد عباس انروا جو کہ غزہ، مغربی کنارے، شام، لبنان، اردن اور مصر میں فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپ چلاتی ہے، اس نے اپنی 163 ویں رپورٹ، جو…
تحریر: سید اسد عباس برصغیر کے معاشرے میں ہندو، سکھ اور مسلمان صدیوں سے مل جل کر رہ رہے تھے۔ ان کے مابین اگرچہ مذہبی عقائد پر اختلاف موجود تھا…
تحریر : سید اسد عباس "گومبے بن مانسوں کی جنگ” جانوروں کی تاریخ کا بہت انوکھا واقعہ ہے، جو انسانوں کے علم میں آیا۔ یہ جنگ تنزانیہ کے گومبے چشمے…
اس مثبت اسلامی انقلاب کو ناکام بنانے کے لیے دنیا بھر کی استعماری طاقتوں نے سر توڑ کوششیں کیں، مگر انہوں نے منہ کی کھائی۔ اس سے انقلاب اسلامی کو پڑھنے، سمجھنے اور حقائق تک پہنچنے کے راستے ہموار ہوئے۔ ہمارے پیارے ملک میں جو بھی اسلامی حکومت کے لیے سعی کر رہا ہے، اس کی نظر میں انقلاب اسلامی ایران ہی باعث تقویت ہے۔ انقلاب اسلامی ایران تیزی سے گولڈن جوبلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اللہ کرے، یہ مبارک موقع دیکھنے کے لیے ہم بھی زندہ ہوں۔
رمپ اپنی جارحیت سے نتائج حاصل کرنے کیلئے دنیا میں موجود امریکی اثر و رسوخ کو بھرپور طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے ان اقدامات سے امریکا کو عالمی سطح پر فائدہ ہوگا یا نقصان، اس دیوانگی کو کیسے روکا جا سکتا ہے، یہ اہم سوالات ہیں، جنکا جواب چین کے پاس ہے۔ آیا چین عالمی سطح پر سپر پاور کا تشخص حاصل کرنے کیلئے اپنے وسائل کا ایسے ہی استعمال کرتا ہے، جیسے امریکا کر رہا ہے۔؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومتی وسائل کا بے دریغ استعمال چینی معیشت اور معاشرے پر کیا اثر ڈالے گا۔؟ چین بطور عالمی داروغہ کیسا ملک ہوگا۔؟ یہ وہ سوالات ہیں، جنکا جواب دنیا کیلئے حاصل کرنا ضروری ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر پھیلاؤ عروج کی ہی علامت ہو اور ہر سکڑاؤ زوال کا عندیہ دے۔ سوویت یونین کا وسائل کا پھیلاؤ ہی اس کیلئے وبال جان بن گیا تھا۔