Skip to content
syedasadabbas

امریکی مڈ ٹرم انتخابات نومبر 2026ء

مڈ ٹرم انتخابات، امریکی صدر کی چار سالہ مدت کے ٹھیک وسط میں ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور انھیں موجود انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک عوامی ریفرنڈم سمجھا جاتا ہے۔ ان انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ امریکی عوام ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینٹ کی ایک تہائی (تقریباً 34) نشستوں اور متعدد ریاستوں کے گورنرز و مقامی نمائندوں کو چنتی ہے۔ امریکہ میں اس مرتبہ مڈ ٹرم انتخابات 3 نومبر 2026ء کو ہونا قرار پائے ہیں۔ اس وقت 119ویں کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سینٹ کی 100 میں سے 53 اور ایوانِ نمائندگان یعنی کانگریس میں 435 میں سے 218 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہیں۔ اگر مڈ ٹرم نتائج میں ڈیموکریٹس کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ حکومت کے لیے قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور پالیسیوں کا نفاذ شدید دشوار ہو جائے گا اور انتظامیہ کو سخت پارلیمانی تحقیقات و رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ریپبلکن اکثریت برقرار رہنے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ بغیر کسی بڑے چیلنج کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے گی۔ یہ بلا شبہ امریکہ اور دنیا کی حالیہ تاریخ کے سب سے اہم وسط مدتی انتخابات میں سے ایک ہوں گے۔

Dr Ali Abbas

انصاراللہ کی تکفیر اور پیغام پاکستان پر دستخط

آج یہ کھیل روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکا ہے کہ اگر غزہ میں مسلمانوں کا خون بہے تو مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، یمن کے مظلوم و غیور عاشقِ رسولؐ مزاحمت کریں تو ان پر کفر کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے اور آلِ سعود و امریکی مفادات کی جی حضوری کر لی جائے تو اسی کو عینِ اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مذہب کے نام پر صادر ہونے والے شرعی فتوے نہیں بلکہ دربارِ اقتدار اور سامراجی طاقتوں کو خوش کرنے کیلئے "حسبِ فرمائش سرٹیفکیٹ” ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مستبد حکمرانوں کو اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کیلئے مذہبی جواز کی ضرورت پڑی ہے، ایسے ہی ریالوں اور ڈالروں پر پلنے والے درباری فتووں نے جنم لیا ہے۔

Dr Ali abbas naqvi

اقوامِ متحدہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا تزویراتی خطاب

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس دنیا کے تمام ممالک کو ایک ایسا عالمی فورم فراہم کرتا ہے، جہاں ریاستیں نہ صرف اپنے قومی مفادات کا دفاع کرتی ہیں بلکہ عالمی نظام کے خدوخال پر بھی گفتگو کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں، جب مشرقِ وسطیٰ شدید جنگی کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے، معاشی پابندیوں کا حربہ عروج پر ہے اور یکطرفہ امریکی بالادستی کے مقابلے میں کثیر القطبی دنیا کی تشکیل کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب ایران پر مغرب کا سیاسی اور اقتصادی دباؤ عروج پر ہے۔ یہ خطاب محض ایک رواں سفارتی تقریر نہیں تھی، بلکہ یہ ایرانی ریاست کے تزویراتی، دفاعی اور اخلاقی اصولوں کا ایک جامع منشور تھا۔ اس تحریر میں ایرانی صدر کی تقریر کے کلیدی اقتباسات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مغربی دوہرے معیارات، ایرانی ایٹمی پالیسی، طاقت کے فلسفے اور علاقائی سلامتی کے بارے میں تہران کے حقیقی بیانیے کو نکھار کر سامنے لایا گیا ہے۔

syedasadabbas

اموی شام کا صلیبی لشکر اور سماج

بعثت رسول اکرم ؐ سے قبل شام نہ فقط تجارتی بلکہ علمی، فکری اور سیاسی مرکز بھی تھا، جہاں سریانی اور یونانی زبان بولی جاتی تھی۔ یہ بازنطینی ریاست کا سرحدی صوبہ تھا، جہاں مختلف مسیحی عرب قبائل اور دیگر اقوام آباد تھیں۔ شام 64 قبل مسیح میں رومن سلطنت کا حصہ بنا۔ Kennedy, David L. (January 2006) اپنے مقالے بعنوان "شام میں آبادی اور ڈیموگرافی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پہلی صدی عیسوی میں پوری سرزمینِ شام (لیوانٹ) کی آبادی کے تخمینے 35 سے 40 لاکھ سے لے کر 60 لاکھ کے درمیان ہیں۔ مسلمانوں کی بازنطینی ریاست کے اس صوبے اور بالخصوص عرب مسیحی قبیلے بنی غسان سے مڈبھیڑ کا آغاز رسول اکرم ؐ کی زندگی میں ہوچکا تھا، جو خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں جاری رہا۔ 640 عیسوی میں خلیفہ ثانی نے بنی امیہ کی معروف شخصیت ابو سفیان کے فرزند کو شام کا گورنر مقرر کیا، یوں شام میں بنی امیہ کے اقتدار کا آغاز ہوا۔

syedasadabbas

یمن میں بنی فاطمہ کے اقتدار کا چوتھا دور

یمن کل 21 صوبوں (محافظات) اور ایک دارالحکومت کے خصوصی ضلع (أمانة العاصمة) پر مشتمل ہے۔ زمینی کنٹرول کے اعتبار سے یمن اس وقت دو اہم حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ حوثیوں (انصار اللہ) کے پاس ملک کے کل رقبے کا تقریباً 30 سے 35 فیصد علاقہ ہے، لیکن اس علاقے میں یمن کی کل آبادی کا تقریباً 70 سے 80 فیصد حصہ آباد ہے۔صنعاء، صعدہ، عمران، ذمار، محویت، ریمہ، اب، بیضاء، حدیدہ، حجہ پر حوثیوں کا مکمل کنڑول ہے۔ حال ہی میں تعز، الجوف، مارب میں حوثیوں نے پیشرفت کی ہے۔ ان کی افواج گذشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں باب المندب کی اہم بندرگاہ تک پہنچ چکی ہیں۔ عدن، لحج، ابین، الضالع، شبوہ، حضرموت، المہرہ، سقطری پر حوثیوں کا کنڑول نہیں ہے، تاہم عدن، لحج کے علاوہ تمام علاقے صحرائی علاقے ہیں، جہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔

syedasadabbas

چھے ماہ کی مزاحمت بمقابلہ اسی سالہ حکمت عملی

اس امر پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے کہ دنیا میں بسنے والی ایک دینی رشتے میں بندھی ہوئی مسلم آبادی کا سیاسی بیانیہ افتراق کا شکار رہا ہے۔ قومیتوں، نسلوں کی بنیاد پر تشکیل پانے والی مسلمان ریاستیں واضح دینی تعلیمات کے باوجود اپنی عصبیتوں سے نہ نکل سکیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد دینی رشتے اور مرکزی حکومت پر عرب قوم پرستی کو ترجیح دی گئی، جس کے نتیجے میں "سائیکس پیکو معاہدے” (Sykes-Picot Agreement) کے تحت پوری عثمانی ریاست چھوٹے چھوٹے قومی اور لسانی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ ہر حکومت کو اپنے اقتدار کا غم کھائے جاتا ہے۔ اکثر ممالک میں آمریت، بادشاہت کا دور دورہ ہے، مقتدر افراد اپنے ہی لوگوں کو فتح کرنے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے امت کے وسائل کو بے دریغ لٹایا جارہا ہے۔ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کبھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں، کبھی جہاز تحفے میں دیتے ہیں کبھی ناموس کو ان کے سامنے نچاتے ہیں تاکہ صاحب بہادر خوش ہو جائیں۔

syedasadabbas

اکیسویں صدی امریکی جارحیتوں کا موازنہ

امریکہ اور اسرائیل کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ ایران افغانستان، عراق یا لیبیا نہیں ہے۔ حملوں کی ابتدائی لہر کے موازنہ سے اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا ممالک سے کئی گنا زیادہ بمباری کے باوجود امریکہ و اسرائیل اپنے بنیادی اہداف تک نہ پہنچ سکے۔ اس استقامت نے نظام کی گہرائی، تحمل اور وسعت کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ ایران نے میدان جنگ کو آبی گزرگاہوں، تیل کی ترسیل کے نظام، عالمی معیشت تک وسعت دے دی ہے۔ اب امریکہ کے پاس چارہ نہیں کہ وہ اپنے بنیادی اہداف کے بجائے ان ثانوی مفادات کا تحفظ کرے۔ خطے میں اس کی ساکھ، سیکورٹی انفراسٹرکچر، معاشی سرگرمیاں سب درہم برہم ہو چکی ہیں۔ اسرائیل خوفزدہ ہے کہ اگر امریکہ اس جنگ کو ناتمام چھوڑ کر جاتا ہے تو اسے ایران کا تنہا سامنا کرنا ہوگا۔ مقاومتی گروہ تمام تر حملوں اور نقصانات کے باوجود عزم و ہمت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو امریکہ، اسرائیل اور امریکی اتحادیوں کو اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔

ثاقب scaled 1

آنحضرتؐ پر نزول وحی کی کیفیت

یہ مقالہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی کی کیفیات، اس کی ماہیت اور اس سے مربوط علمی و روائی مباحث کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔ مقالہ نگار کے مطابق نزولِ وحی کی بنيادی طور پر دو کیفیات تھیں؛ ایک کیفیّت فرشتے کے کسی مادی وجود میں متمثل ہوئے بغیر (یا بالواسطہ خدا کی طرف سے) وحی کا اترنا تھی جو گھنٹی کی آواز کی طرح شدید، کیفیّت کے لحاظ سے گراں بار اور جسمِ مبارک پر بے ہوشی و پسینہ جاری ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی، جبکہ دوسری صورت فرشتے کا ایک انسان (مرد) کی شکل میں متمثل ہو کر کلام کرنا تھی جو نسبتاً آسان حالت ہوتی تھی۔ امام جعفر صادق ؑ، امام خمینی، اور استاد حسن زادہ آملی جیسے علمائے کرام کے تجزیے کے مطابق عالمِ غیب اور حقیقتِ مجرد کے اس مستقیم رابطے، قرآنی معارف کے "قولِ ثقیل” (عظیم و باوقار کلام) ہونے اور نبوت کی بھاری ذمہ داریوں کے باعث آپ ؐ پر یہ ثقالت طاری ہوتی تھی۔ مقالے میں اس بات کی بھی صراحت کی گئی ہے کہ اگرچہ سچے خواب نبوت کا ایک جزو ہیں اور تمام انبیاء پر وحی کا بنیادی جوہر ایک ہی رہا ہے، تاہم پورا قرآن مجید بیداری کے عالم میں نازل ہوا اور یہ عالمِ مادہ کا عالمِ مجرد کے ساتھ قائم ہونے والا بلند ترین اور کامل ترین روحانی رابطہ تھا۔

ثاقب scaled 1

اعضا کا عطیہ اورپیوندکاری شیعہ نقطۂ نظر

یہ مقالہ اعضا کا عطیہ (Organ Donation) اور پیوند کاری (Transplantation) کے حوالے سے شیعہ فقہی نقطۂ نظر، اس کے تاریخی ارتقا اور عصری مجتہدین کے فتاویٰ کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔ شیعہ فقہ میں اجتہاد کا باب کھلا رہنے اور زمان و مکان کی تبدیلی کے ساتھ احکام کے بدلنے کے اصلِ زریں کی روشنی میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ طبی سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اعضا کی پیوند کاری اور خون کے عطیے جیسے مسائل میں کس طرح پیش رفت ہوئی ہے۔ مقالے کے مطابق جب کسی چیز کی اجتماعی کارکردگی یا حلال منفعت بدل جاتی ہے (جیسے انسانی جان بچانے کے لیے خون یا اعضا کا استعمال)، تو فقہاء کے ہاں اس کا شرعی حکم بھی حرمت سے جواز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
معاصر شیعہ مراجع—جن میں امام خمینی، آیت اللہ خوئی، آیت اللہ خامنہ ای اور آیت اللہ یوسف صانعی شامل ہیں—کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ کسی مسلمان یا انسان کی جان بچانے کی خاطر دماغی موت (Brain Death) کے بعد یا کسی زندہ انسان کی طرف سے (بشرطیکہ عطیہ دہندہ کو کوئی شدید جانی یا قابلِ لحاظ جسمانی نقصان نہ پہنچے) اعضا کا عطیہ دینا اور پیوند کاری کرنا شرعاً جائز ہے۔ اگرچہ چند فقہا (جیسے آیت اللہ جواد تبریزی) نے اس عمل پر احتیاط یا دیت کی شرط عائد کی ہے، تاہم مجموعی طور پر شیعہ علمی و فقہی حلقوں کا رجحان انسانی زندگی کی حفاظت کو مقدم رکھتے ہوئے اعضا کے عطیے اور پیوند کاری کو جائز اور مستحسن قرار دینے کی طرف ہے۔

syedasadabbas

قضیہ یمن، ایک جائزہ اور تازہ صورتحال

یمن جزیرہ عرب کے جنوب میں قائم دوسری بڑی ریاست ہے، جس کا رقبہ 5,27970 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس ریاست کی صحرائی پٹی تقریباً 2000 کلومیڑ پر پھیلی ہوئی ہے، جس کے جنوب میں بحیرہ عرب، شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرہ احمر، خلیج عدن جبکہ مشرق میں عمان ہے۔ اس ریاست کے تقریباً 200 کے قریب چھوٹے جزائر ہیں۔ یمن او آئی سی، اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا رکن ہے۔ قرآن کریم میں مذکور ملکہ صبا کا تعلق اسی سرزمین سے تھا، جو ایک قدیم تہذیب ہے۔ ابرہہ کا لشکر بھی یمن کی جانب سے سرزمین حجاز پر حملہ آور ہوا۔ اس خطے میں اسلام رسالت ماب ؐ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے ہی پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ یمنی تاجر اور بیت اللہ کے زائرین رسالت ماب کی بعثت سے آگاہ ہوئے تو انھوں نے اس نئے دین کے بارے میں جاننا شروع کیا، یمن میں دین اسلام کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے رسالت ماب ؐ نے بہت سے صحابہ کو یمن میں تعینات کیا، جن میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام، معاذ بن جبل، مہاجر بن ابی امیہ، عکاشہ بن ثور، ابو موسیٰ اشعری، خالد بن ولید، عمرو بن حزم انصاری، طاہر بن ابی ھالہ، عامر بن شہر رضوان اللہ علیہم شامل ہیں۔

syedasadabbas

صادق آل محمدؐ

اسلامی تاریخ اور فکر میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ذاتِ والاصفات علم و حکمت کا وہ بحرِ زخار ہے جس نے نہ صرف اسلامی فکر و فقہ کو جلا بخشی بلکہ عالمِ انسانیت کو سائنسی و عقلی علوم کے بے بہا خزانوں سے بھی نوازا۔ تاہم، عمومی ذہنوں میں آپؑ کی شخصیت کو اکثر صرف ایک خاص فقہی یا مذہبی دائرے تک محدود کر کے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ تاریخی حقائق اور سائنسی شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ آپؑ کی علمی سرپرستی کا دائرہ تمام مروجہ و غیر مروجہ علوم پر محیط تھا۔
زیرِ نظر مقالہ "صادق آلِ محمدؐ”، معروف محقق و مصنف سید اسد عباس کا ایک تحلیلی اور بصیرت افروز قلمی کاوش ہے جس میں انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہمہ گیر علمی، سائنسی اور معنوی شخصیت کو پیش کیا ہے۔
مصنف نے علامہ شبلی نعمانی، ڈاکٹر محسن نقوی، ابن خلکان اور امام ابو حنیفہ جیسے جلیل القدر علمائے اسلام کے ساتھ ساتھ مغربی مستشرقین اور سائنسدانوں کے اعترافات (جیسے فرانسیسی جامعہ کی تحقیق "سپر برین ان اسلام”) کو شواہد کے طور پر پیش کیا ہے۔ تحریر کا بنیادی مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ بابائے کیمیا جابر بن حیان جیسے جلیل القدر سائنسدانوں کے استاد، امام جعفر صادق علیہ السلام دراصل "معلمِ انسانیت” اور انوارِ نبوت کے وہ وارث ہیں جن کا علم کسی دنیاوی استاد کا مرہونِ منت نہیں بلکہ بارگاہِ الٰہی کا عطیہ تھا۔

syedasadabbas

واقعہ مباہلہ :ہادی، ہدایت اور روش حق

اسلام کا بنیادی پیغام امن، رواداری، احترامِ انسانیت اور معقولیت پر مبنی ہے۔ تاریخِ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ دینِ مبین کی اشاعت کا اصل سبب تلوار کا زور نہیں بلکہ اس کی اخلاقی برتری، اعلیٰ کردار اور حسنِ تعامل تھا۔ اسی سلسلے کا ایک روشن اور عالمگیر باب "واقعہِ مباہلہ” ہے، جو ۹ ہجری میں نجران کے مسیحی وفد اور رسولِ اکرم ﷺ کے مابین پیش آیا۔
زیرِ نظر مقالہ "واقعہ مباہلہ: ہادی، ہدایت اور روشِ حق”، معروف محقق و قلمکار سید اسد عباس کا ایک بصیرت افروز اور علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے نجران کے مسیحیوں کے ساتھ رسولِ خدا ﷺ کے مناظرے، رویے اور معاہدہِ صلح کے سیاسی و سماجی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔
مصنف نے مقالے میں یہ بات واضح کی ہے کہ میدانِ مباہلہ میں پنجتنِ پاک (رسولِ اکرم ﷺ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، اور حسنین کریمینؑ) کا ورود جہاں اس خانوادے کی بے نظیر معنوی اور الٰہی فضیلت کو آشکار کرتا ہے، وہاں یہ واقعہ عصرِ حاضر میں گفتگو، بین المذاہب مکالمے (Interfaith Dialogue) اور پرامن بقائے باہمی کا ایک بہترین نمونہ بھی پیش کرتا ہے۔ مصنف نے برصغیر کے مفسرین کے نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر آج بھی امتِ مسلمہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے دلدل سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے واقعہِ مباہلہ میں موجود ہدایت اور "روشِ حق” کو اپنا مشعلِ راہ بنانا ہوگا۔