عالمی یوم یکجہتی فلسطین

Published by ثاقب اکبر on

سید ثاقب اکبر

اقوام متحدہ ہی نے 29 نومبر 1947ء کو فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد منظور کی اور تیس برس بعد اس دو نیم بلکہ ٹکڑوں میں تقسیم فلسطین کے عوام کے ساتھ (29 نومبر1977ء) کو سالانہ اظہار یک جہتی کے دن کا اعلان کیا۔ ایسے ہی موقع پر کہا جاسکتا ہے:
وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا

29 نومبر1947ء کی قرارداد میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اس کا 55 فیصد علاقہ اسرائیل کو دے دیا گیا جبکہ 45 فیصد علاقہ فلسطین کی اکثریتی آبادی کے لیے قرار دیا گیا۔ اس قرارداد میں بیت المقدس کو ایک بین الاقوامی شہر قرار دیا گیا، جس کا نظام اور انتظام عالمی ادارے کے حوالے کر دیا گیا۔ ویسے تو دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسانے کا آغاز بیسویں صدی کے شروع میں ہی ہوگیا تھا لیکن 2 نومبر 1917ء کو برطانوی سامراج کی بلی تھیلے سے باہر آگئی، جب برطانوی سیکرٹری خارجہ آرتھر جیمز بالفور نے تحریر کیا کہ حکومت برطانیہ فلسطین کی زمین پر یہودیوں کی ریاست کے قیام کے حق میں ہے۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے لکھا گیا یہی خط فلسطینی المیے کی بنیاد بنا۔

اس مضمون پر مشتمل خط انھوں نے صہیونی تحریک کے ایک نہایت اہم راہنماء لارڈ والٹر راتھس چائلڈ کے نام لکھا۔ بعدازاں بالفور اعلامیہ کی توثیق 31 اکتوبر 1917ء کو اس وقت کی برطانوی کابینہ نے کی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب یہودیوں کی تعداد فلسطین میں چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ بعدازاں پوری دنیا سے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر آباد کرنے کا سلسلہ تیز رفتار ہوگیا۔ اس کے باوجود 1918ء میں فلسطینی سرزمین پر یہودیوں کی آبادی 55 ہزار سے زیادہ نہ تھی، جو 1948ء میں بڑھ کر چھ لاکھ چھیالیس ہزار تک پہنچ گئی۔ ان چند برسوں میں یہودی آباد کار آٹھ فیصد سے بڑھ کر بتیس فیصد ہوچکے تھے۔ انھیں آباد کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی چھتری استعمال کی گئی۔ اکثریتی آبادی کو آہستہ آہستہ مہاجر کیمپوں اور ہمسایہ عرب ممالک کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا گیا۔ اس کے لیے اسلحہ اور پیسہ دونوں کو استعمال کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی تخلیق کا مقصد ہی بڑی طاقتوں کے استعماری مقاصد کو پورا کرنا تھا۔ بظاہر یہ ادارہ دنیا میں امن قائم کرنے اور تمام قوموں کو ان کے حقوق دینے کے عنوان سے وجود میں لایا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انجمن اقوام (League of Nations) ہو یا اس کی جانشین اقوام متحدہ (UNO)، یہ بڑی طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لیے قائم کی تھیں۔ علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو جمعیت الاقوام کے عنوان سے یوں بیان کیا تھا:
بر فتد تا روش رزم درین بزم کہن
دردمندان جھان طرح نو انداختہ اند
من ازین بیش ندانم کہ کفن دزدی چند
بہر تقسیم قبور انجمنی ساختہ اند


اقوام متحدہ نے آج تک کمزور قوموں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ اس حقیقت پر شاہد ہے۔ اس نے ہمیشہ بڑی طاقتوں کے آلہ کار کا کردار ادا کیا ہے۔ فلسطین کے حوالے سے 29 نومبر1947ء کی قرارداد دراصل فلسطینی عوام کے حقوق پر عالمی ڈاکے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ  اس قرارداد کے مطابق فلسطین کا زیادہ تر علاقہ یہودیوں کو دے دیا گیا ہے، جن کی تعداد مقامی فلسطینی آبادی سے کہیں کم تھی۔ دوسری طرف اسرائیل کو ایک جائز ریاست کا سٹیٹس بھی دے دیا گیا اور اسے اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں شامل کرلیا گیا، لیکن فلسطین کو بہت طویل کوششوں کے بعد ابھی تک اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت حاصل ہے۔ مزید برآں یہ کہ وہ علاقہ جس پر فلسطینی ریاست کا حق تسلیم کیا گیا تھا، اس پر بھی رفتہ رفتہ اسرائیل نے قبضہ کرنا شروع کر دیا اور فلسطینیوں کے علاقے سکڑتے چلے گئے۔ آج جسے ہم غزہ کہتے ہیں اور جس کی آبادی تقریباً بیس لاکھ کے قریب ہے، وہ فلسطینیوں کا مہاجر کیمپ ہے، جس کے چاروں طرف ناجائز طور پر آباد کی گئی یہودی بستیاں ہیں۔ غزہ اور ان یہودی بستیوں کے مابین اسرائیلی افواج جدید ترین اسلحہ کے ساتھ موجود ہیں اور جب چاہتی ہیں، غزہ پر چڑھائی کر دیتی ہیں۔

29 نومبر 1947ء کی قرارداد کے مطابق جس بیت المقدس کو عالمی ادارے کے حوالے کرنا تھا، بعدازاں امریکی کوششوں سے اس نقطہ نظر میں تبدیلی آئی اور عالمی طاقتوں نے اس کے ایک حصے پر فلسطینی اتھارٹی کا اقتدار زبانی طور پر تسلیم کر لیا، لیکن یہ بھی فلسطینیوں کے ساتھ دھوکہ ہی ثابت ہوا اور آخرکار اس پورے مقدس شہر پر امریکہ نے اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم کر لیا۔ اسی لیے امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کر دیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اب امریکہ کے نزدیک اسرائیل کا دارالحکومت بیت المقدس ہے اور فلسطین کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ دو ریاستی نظریہ جس کی بنیاد 29 نومبر 1947ء کی قرارداد میں رکھی گئی تھی، امریکہ اور اس کی حواری عالمی طاقتیں رفتہ رفتہ اس سے بھی سرکتی جا رہی ہیں اور فلسطینیوں کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ اپنے اسرائیل کے دورے کے موقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ دو ریاستی کے بجائے یک ریاستی یعنی صرف اسرائیل کے نظریئے پر بھی بات کی جاسکتی ہے۔

عمومی تاثر یہ ہے کہ مغربی کنارے اور خان یونس کے مختصر علاقوں پر مشتمل فلسطینی اتھارٹی کا اقتدار امریکہ نواز افراد کے ہاتھ میں ہے۔ جبکہ غزہ پر عملاً حماس کا اقتدار قائم ہے۔ قبل ازیں عام انتخابات میں حماس کو کامیابی حاصل ہوچکی ہے اور اکثریتی بنیاد پر حماس کا وزیراعظم بھی منتخب ہوچکا ہے، لیکن حماس چونکہ اسرائیلی اقتدار کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں، اس لیے اسماعیل ہنیہ جو منتخب وزیراعظم تھے، انھیں مجبور کیا گیا کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ انھوں نے فلسطینیوں کے اتحاد کی غرض سے یہ مطالبہ بھی تسلیم کر لیا، لیکن حماس کے قائدین کو اسرائیل نے یکے بعد دیگرے قتل کر دیا۔ اسرائیل اور اس کے سرپرست یہی کام یاسر عرفات کے ساتھ بھی کرچکے ہیں، کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ اصولی طور پر اسرائیل اور اس کے سرپرست دو ریاستی نظریئے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ وہ فلسطین پر اسرائیل کا اقتدار اعلیٰ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ نام نہاد فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس فلسطین میں عام انتخابات کے انعقاد کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، چونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر آزاد انتخابات ہوئے تو یقینی طور پر فلسطین میں حکومت حماس کی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے دعوے دار بھی یہی چاہتے ہیں کہ فلسطین میں انتخابات کا انعقاد نہ ہو۔ برطانیہ نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے گا۔ اس سلسلے میں حال ہی میں برطانیہ کی ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل نے پارلیمنٹ میں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے ایک قرارداد پیش کی ہے۔ حماس نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے اور غیر قانونی یہودی بستیاں بسانے کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔

حماس کے مطابق اسرائیلی فوج مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہے، جس کا نوٹس دیگر ممالک نہیں لیتے۔ الٹا اسرائیل کے اتحادی ممالک حماس کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی حماس اور اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادی ممالک کے ایسے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب اسرائیل کی حفاظت کے لیے اپنے آخری کارڈز استعمال کر رہے ہیں۔ عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی، فوجی اور اقتصادی تعلقات کی بحالی اسی سمت میں پیش رفت سے عبارت ہیں۔ تاہم فلسطینی اسرائیل کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ قوی ہوچکے ہیں۔ انھوں نے مختلف معرکوں میں اسرائیل کے خلاف جس استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ گذشتہ ساری تاریخ سے مختلف ہے۔

غلیلوں سے مقابلہ کرنے والے فلسطینی اب راکٹ اور میزائلوں سے لیس ہوچکے ہیں۔ اب انھیں مذاکرات اور دو ریاستی نظریئے کا فریب نہیں دیا جاسکتا۔ چند ماہ پہلے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے معرکے میں غزہ کے ساتھ دیگر فلسطینی علاقوں کے عوام بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کے مظالم کے خلاف فلسطینی پہلے سے زیادہ متحد ہیں۔ 29 نومبر 2021ء کو یوم یکجہتی فلسطین مناتے ہوئے ہمیں مظلوموں کی حمایت میں پہلے سے زیادہ پرامید اور پرجوش ہونا چاہیئے، یقیناً اس سے اپنے حقوق کے لیے نبردآزما فلسطینیوں کو ایک حوصلہ مندانہ پیغام جائے گا۔ پاکستان ہمیشہ سے فلسطینیوں کے ساتھ رہا ہے۔ پاکستان کے بانی اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتے تھے، وہ ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ رہے۔ پاکستان کے عوام اسی نظریئے پر پوری استقامت سے قائم ہیں۔


بشکریہ: اسلام ٹائمز