Skip to content

اموی شام، مسیحی اکثریت اور مذہبی رواداری(1)

تحریر: سید اسد عباس

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی تاریخی واقعہ کو ہم معاشرے کے حالات، علمی و فکری فضاء، ڈیموگرافی، مذہبی عقائد کو سمجھے بغیر درک نہیں کرسکتے۔ اگر ان عوامل کو نظرانداز کر دیا جائے تو تاریخی واقعہ صرف خشک تاریخوں اور چند ناموں کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے اور اس کی اصل روح، محرکات اور پس منظر پوری طرح مفقود ہو جاتے ہیں۔ ہم جب بعثت رسول ؐ یا اس کے بعد کے واقعات کو اس وقت کے سماج کو سمجھے بغیر درک کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عرب معاشرے کے بارے میں ہمارے علم کا ماخذ وہ تاریخی متون ہیں، جن کو واقعات کے دو سو یا تین سو برس بعد ضبط تحریر میں لایا گیا۔ اگرچہ ان متون کی اپنی اہمیت ہے، تاہم یہ تاریخی واقعات کی جمع بندی ہے، جس سے اوائل اسلام کے معاشرے کی علمی و فکری فضاء، آبادی کی ساخت، مذہبی عقائد کو کماحقہ نہیں جانا جا سکتا۔

یہی حال علم حدیث کا ہے، جس میں اگرچہ بات سے فضاء کا اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے، تاہم اس کا حقیقی علم نہیں حاصل کیا جاسکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے رحلت رسول ؐ کے بعد شام، مصر اور ایران کو فتح کیا، تاہم کیا فتح کے وقت ان علاقوں کی آبادی ویسے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی، جیسے فتح مکہ کے وقت ہوئی۔؟ یہ سوال بہت اہم ہے کہ ان ممالک میں تبلیغ دین اسلام کا کیا اہتمام کیا گیا۔؟ کب ان ممالک کی آبادیوں نے اپنے آبائی دین کو چھوڑا۔؟ مسلمانوں کے بارے مقامی آبادیوں کا تصور اور ردعمل کیا تھا۔؟ حملہ آوروں سے نمنٹنے کے لیے سماج نے کیا حکمت عملی اختیار کی۔؟ ہم کہیں کہ شام کے 30 سے 60 لاکھ مسیحی دمشق کی فتح کے ساتھ ہی پکے مسلمان بن گئے تھے تو یہ تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔ اسی طرح ایران اور مصر کے بارے بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں اتنے بڑے پیمانے پر دین میں بدلاؤ ہوا۔ یہ معلومات ہمیں کہاں سے مل سکتی ہیں۔؟ اسلامی تاریخ تو اس موضوع پر خاموش ہے۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں ہمیں ان سماجوں کی علمی روایت کو کھنگالنا ہوگا۔

مسلم سماج اور اس کے مفتوحہ علاقوں کو قدیم تاریخی منابع سے سمجھے بغیر ہم رحلت ختمی مرتبت کے بعد کے واقعات کو بھی کماحقہ نہیں سمجھ سکتے، ہمیں نہیں معلوم ہوگا کہ شام کو بنی امیہ کے حوالے کیوں کیا گیا۔؟ جنگ صفین کیوں ہوئی۔؟ امیر المومنین کے خطبات کس تناظر اور کون سے سامعین کو مدنظر رکھ کر دیئے گئے۔؟ جنگ سے اجتناب کے مشورہ کے باوجود ایسا کیوں نہ کیا۔؟ امام حسن صلح پر مجبور کیوں ہوئے۔؟ کربلا کیوں برپا ہوئی۔؟ شام میں اسرائے اہل بیت ؑ کے خطابات کا کیا مطلب تھا، اولاد رسول ؐ کے قتل اور اسارت پر جشن کیوں منایا گیا۔؟ واقعہ حرہ کیوں ہوا۔؟ بیت اللہ کو آگ کیوں لگائی گئی۔؟ مسجد نبوی میں گھوڑے کیوں باندھے گئے۔؟ امام باقر اور امام جعفر صادق نے علوم دین کی ترویج اور شبہات کے جوابات پر توجہ کیوں مرکوز رکھی۔؟ یہ وہ سوالات ہیں، جن کا حقیقی جواب صدر اسلام کی مسلم ریاست کے سماج کو سمجھے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

رحلت رسول ؐ کے وقت (632ء) شام بازنطینی ریاست کا اہم صوبائی مرکز تھا، جہاں عربی کے ساتھ ساتھ یونانی، سریانی، عبرانی، پہلوی اور آرمینیائی زبانیں بولی جاتی تھیں، جبکہ یونانی اور سریانی زبان کو رابطے اور علم کی زبانوں کا درجہ حاصل تھا۔ اس معاشرے کو بالخصوص اور اوائل اسلام کے واقعات کو بالعموم سمجھنے کے لیے یونانی، سریانی، عبرانی اور آرمینیائی زبانوں کو سمجھنے والے معاصر محققین نے خاصا کام کیا ہے۔ ان میں ایک نام نیویارک یونیورسٹی کے قرون وسطیٰ کی تاریخ کے پروفیسر رابرٹ جی ہاہلینڈ کا ہے، جن کی تحقیق "Seeing Islam as Others Saw It” اس عنوان سے قابل قدر ہے، جس میں ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی کے  یونانی، سریانی، آرمینیائی اور پہلوی مورخین کے کاموں کو جمع کرکے ان متون کا ترجمہ نیز تحلیل کی گئی ہے۔ جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے، اس تحقیق کا موضوع اسلام کی آمد اور فتوحات ہیں۔ پہلا مورخ اور تاریخی ریکارڈ جس کو رابرٹ جی ہائلینڈ نے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا تھیوڈور آف سائیکون (ترکیہ) کا واقعہ اور اس کی پیشگوئیاں ہیں۔

رابرٹ جی ہائلینڈ اپنی کتاب کے تیسرے باب میں لکھتے ہیں: معروف مسیحی راہب تھیوڈور آف سائیکون (وفات: 613ء) جب قسطنطنیہ کے پیٹریاک تھامس (607ء–610ء) سے ملنے آئے تو پیٹریاک (پوپ کے درجے کا مسیحی عالم) نے ان سے پوچھا کہ کیا دعائیہ جلوسوں کے دوران صلیبوں کے غیر معمولی طور پر تھرتھرانے کا واقعہ سچ ہے۔؟ تھیوڈور نے اس واقعے کی تصدیق کی اور توقف کے بعد آنے والے دور کی خوفناک آفات و مصائب کا انکشاف کیا۔ جن میں مسیح مخالف یا دجال کی آمد، عقیدے میں تزلزل، صحرائی وحشیوں کے حملے، بے تحاشا خون خرابا، گرجا گھروں کی ویرانی، بازنطینی سلطنت کے زوال کی پیشین گوئیاں شامل ہیں۔ اسی طرح کی پیشین گوئیاں 630ء میں فوت ہونے والے عیسائی راہب جارج آف خوزیبا (یروشلم) نے بھی کیں۔

image

رابرٹ جی ہائلینڈ اس کے بعد ایک اور اہم یونانی ماخذ "ڈاکٹرینا جیکوبی” (یعقوب کی تعلیمات) کو نقل کرتے ہیں۔ یہ تحریر ایک فلسطینی یہودی تاجر جیکب (یعقوب) کی تصنیف ہے، جسے 632ء میں بازنطینی شہنشاہ ہرقل (Heraclius) کے حکم پر زبردستی عیسائی کیا گیا۔ تحریر یونانی زبان میں ہے، جو جولائی 634ء کے قریب شمال مغربی افریقہ (کارتھیج) میں مرتب کی گئی۔ ڈاکڑینا جیکوبی کے گفتگو کا ایک اہم حصہ جیکب کے چچا زاد بھائی جسٹس (Justus) سے متعلق ہے، جو فلسطین سے آیا تھا۔ جسٹس اپنے بھائی ابراہم (Abraham) کا ایک تحریری خط پیش کرتا ہے، جس میں فلسطین میں عربوں (ساراسنز) کے حملے اور ایک نیا نبوت کا مدعی ظاہر ہونے کی معاصر خبر موجود تھی۔ رابرٹ جی ہائلینڈ اس یونانی ماخذ کی تحریر کا انگریزی ترجمہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:

When the candidatus was killed by the Saracens, I was at Caesarea and I set off by boat to Sykamina. People were saying "the candidatus has been killed,” and we Jews were overjoyed. And they were saying that the prophet had appeared, coming with the Saracens, and that he was proclaiming the advent of the anointed one, the Christ who was to come.

ترجمہ: (ابراہم بتاتا ہے) جب  ساراسنز (عربوں) نے بازنطینی شاہی محافظ دستے کے ایک اعلیٰ افسر (جس کی شناخت بعد میں سیرجیوس سے کی گئی) کو قتل کیا، تو وہ قیصریہ میں تھا اور وہاں سے کشتی کے ذریعے ساحلی شہر سیکامینا/سیسیرہ پہنچا۔ (سیکامینا پہنچ کر ابراہم نے دیکھا) یہودی بازنطینی افسر کے قتل پر انتہائی مسرور اور پرامید تھے۔ وہاں یہ خبریں عام تھیں کہ "عربوں/ساراسنز کے ساتھ ایک نبی ظاہر ہوا ہے، جو آنے والے (مسیح) کے ظہور کا اعلان کر رہا ہے۔

ڈاکٹرینا جیکوبی کا یہ متن تاریخ میں اسلام اور (حضرت محمدﷺ) کا قدیم ترین معاصر غیر مسلم یونانی مأخذ (634ء) تسلیم کیا جاتا ہے، جس میں اسلامی فتوحات، توحید/مسیح کے اقرار اور اسلامی تصورِ جہاد یا جنت کی چابیوں کا ابتدائی غیر مسلم ردِعمل نظر آتا ہے۔ اس متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فتوحات کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہی مسلمانوں کا تصورِ جہاد، جنت کا مفہوم اور نبوت کے شرائط جیسے موضوعات غیر مسلم عیسائی اور یہودی حلقوں میں شدید مباحث کا موضوع بن چکے تھے۔ رابرٹ جی ہائلینڈ لکھتے ہیں کہ ان پیشینگوئیوں کا مقصد آمدہ حالات کے بارے خوف پھیلا کر عقیدتی پیش بندی تھا۔ یہ ایسا ہی کام ہے، جیسے انقلاب اسلامی کے فوراً بعد پاکستان اور ہندوستان میں علامہ سلیم اللہ خان، علامہ منظور نعمانی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی قدآور شخصیات نیز بعد کے چند اہل سنت علماء نے تشیع مخالف فضاء سازگار کرکے نیز شیعوں کو دشمن صحابہ ؒ قرار دے کر کیا، تاکہ عام مسلمان اس انقلاب سے بدظن ہو جائیں۔

یہ ماخذ ظاہر کرتے ہیں کہ ساتویں صدی کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے عرب فتوحات محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھیں، بلکہ دونوں اقوام اس عظیم تبدیلی کو اپنی اپنی مذہبی کتابوں، پیشگوئیوں اور مسیحائی سے متعلق امیدوں کے سانچے میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی نیز اس کے لیے ذہنی و معاشرتی تیاری بھی کی۔ رابرٹ جی ہائلینڈ کی کتاب کا ایک اور اہم ماخذ جس سے بازنطینی ریاست کے علمی و زاہدانہ ماحول کا ادراک ہوتا ہے، جان موسچس کا پراٹم اسپرچوئل(گلشن روحانیت) ہے۔ جان موسچس چھٹی صدی عیسوی میں پیدا ہوا اور بیت المقدس کے قریب سینٹ تھیوڈوسیئس کی خانقاہ میں راہب تھا۔ موسچس اور اس کے شاگرد سوفرونیئس دمشقی نے زاہدانہ سیاحت کی روایت کے تحت مصر، شام، جبلِ سینا اور اسکندریہ کا طویل سفر کیا اور بالآخر روم پہنچے، جہاں موسچس نے اپنی تمام یاداشتوں کو مرتب کیا اور اپنے انتقال سے قبل یہ مسودہ اپنے شاگرد سوفرونیئس کے حوالے کیا۔

رابرٹ جی ہائلینڈ لکھتے ہیں:

When Sophronius and John Moschus stayed in Alexandria in the early seventh century (ca. 608-15), the intellectual scene in the city still seems to have been lively. There was Theodore the philosopher and Zoi’lus Lector, "two remarkable men and of great virtue,” who lived very simply, possessing little beyond their clothes and a few books; Nemesius, an ex-prefect and astrologer; "a man called Peter, who had gone to Alexandria from Beth Qatraye as a young man to be trained in philosophy;” Cosmas Scholasticus, who owned innumerable books and spent his days composing treatises against the Jews, and of course Stephen of Alexandria, who lectured in mathematics and rhetoric.

ترجمہ: ساتویں صدی کے اوائل (تقریباً 608 تا 615 عیسوی) میں جب سوفرونیئس اور جان موسچس نے سکندریہ (ایسکلیژیا) میں قیام کیا تو شہر کا علمی و فکری منظر نامہ تب بھی کافی متحرک معلوم ہوتا تھا۔ وہاں فلسفی تھیوڈور (سینائی) اور زوئلس لیکٹر موجود تھے، جو عظیم صلاحیتوں اور اعلیٰ فضائل کے حامل دو نمایاں افراد تھے، ان کا کل متاع کچھ کپڑے اور چند کتابیں تھیں، نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کے علاوہ نیمیسیئس جو ایک سابق گورنر (پریفیکٹ) اور ماہرِ نجوم تھا، پیٹر نامی ایک شخص جو چھوٹی عمر میں ہی فلسفے کی تعلیم حاصل کرنے بيت قطرايہ (مشرقی عرب) سے سکندریہ آیا تھا، کوسماس اسکولاسٹیکس جو بے شمار کتابوں کا مالک تھا اور اپنے روز و شب یہودیوں کے رد میں رسائل و تصانیف تحریر کرنے میں گزارتا تھا۔ سکندریہ کا سٹیفن جو ریاضی اور علمِ خطابت (بلاغت) پر لیکچر دیا کرتا تھا۔

درج بالا اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ سکندریہ رسالت مآب ؐ کے زمانے میں ایک علمی مرکز تھا، جہاں فلوطین جیسے فلسفی 270ء میں اپنا نام اور مقام پیدا کرچکے تھے اور انہی کا فلسفی مشرب 615ء میں تعلیم دیا جا رہا تھا۔ فلوطین کو نوفلاطینیت کا بانی سمجھا جاتا ہے، یہ فلسفی عقل کے ساتھ ساتھ شہود، جذب اور وجد کو حکمت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جان موسچس ایک راہب ہونے کے ساتھ ساتھ زاہدانہ فکر کا داعی بھی تھا۔ اس نے اپنی مذکورہ بالا تصنیف "پراٹم اسپرچوئل” میں متعدد مسیحیوں کی کرامات، معجزات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اسکندریہ کا موازنہ ہم برصغیر پاک و ہند میں دارالعلوم دیوبند یا حوزہ علمیہ قم سے کرسکتے ہیں، جو اس خطے میں علمی روایت کے موسس  اور مبلغ ہیں۔ رابرٹ جی ہائلینڈ کی کتاب "Seeing Islam as Others Saw It” میں سوفرونیئس پیٹریاک آف یروشلم (وفات: تقریباً 639ء) کی شخصیت، ان کی تحریروں اور ابتدائی اسلام کے بارے میں ان کے ردِعمل کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

رابرٹ جی ہائلینڈ سوفرونیئس کے بارے لکھتا ہے:


The city of Damascus seems to have survived as a provincial centre Of Hellenic culture, in Christianised form, into the seventh century. It was there that Sophronius grew up and obtained a classical education, attaining the title of "sophist” for his proficiency in rhetoric. A fellow Damascene and contemporary of his, one Isidore son of Dionysius, excelled in philosophy, a subject for which his family had been renowned since the time of their forebear Nicholas of Damascus, the teacher of Herod and of the sons of Anthony and CleopatraY And it was likewise in Damascus that the theologians and hymnographers Andrew of Crete (d. ca. 720) and John of Damascus ( wr. 730s) were born and raised.

دمشق کا شہر ساتویں صدی تک ہیلینک (یونانی) ثقافت کے ایک صوبائی مرکز کے طور پر قائم و برقرار معلوم ہوتا ہے۔ یہی وہ جگہ تھی، جہاں سوفرونیئس کی پرورش ہوئی اور اس نے کلاسیکی تعلیم حاصل کی، نیز علمِ خطابت اور بلاغت میں اپنی مہارت کے باعث (سوفسٹ) کا لقب حاصل کیا۔ اسی کے دور کا ایک دمشقی، ڈائونیزیئس کا بیٹا آئسیڈور (Isidore) نوافلاطینی فلسفے میں ممتاز تھا۔۔۔ یہ وہ مضمون تھا، جس کے لیے اس کا خاندان اپنے آبا و اجداد، ہیرودیس (Herod) اور انتھونی و کلیوپیٹرا کے بچوں کے استاد، "نیکولس آف دمشق” کے زمانے سے مشہور چلا آ رہا تھا۔ اسی طرح دمشق ہی وہ شہر تھا، جہاں مذہبی ماہرین اور حمد و نعت گو (ترانے لکھنے والے) اینڈریو آف کریٹ (وفات تقریباً 720ء) اور یوحنا دمشقی (جان آف دمشق، جن کی تحریریں 730ء کی دہائی کی ہیں) پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔

درج بالا اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ شام ایک مسیحی شہر ہی نہیں بلکہ ہلینک ثقافت کا صوبائی مرکز تھا، جہاں معروف فلسفی، متکلم، مذہبی راہنماء آٹھویں صدی عیسوی یعنی 112 ہجری تک موجود تھے۔ انڈریو آف کریٹ یا انڈریو آف یروشلم ایک طویل عرصے تک شام میں مسیحیت کی تعلیم و تبلیغ میں مصروف رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔