تحریر: سید اسد عباس
پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1932ء میں اگرچہ عراق کو بظاہر آزادی دے کر ہاشمی بادشاہت قائم کی گئی، لیکن برطانیہ نے دفاعی معاہدوں کے ذریعے عراق کے فوجی اڈوں اور خارجہ پالیسی پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ 1941ء میں رشید عالی الگیلانی نے نازی جرمنی کی حمایت سے راشدی انقلاب کے ذریعے حکومت بنائی۔ برطانیہ نے فوری طور پر فوجی مداخلت کرکے اس حکومت کا تختہ الٹ دیا اور برطانیہ نواز نوری السعید اور ہاشمی شاہی خاندان کو دوبارہ اقتدار میں بحال کر دیا۔ 1955ء میں سوویت یونین کے اثر کو روکنے کے لیے بغداد پیکٹ (CENTO) ہوا، جس میں عراق، برطانیہ، ترکیہ، پاکستان اور ایران شامل تھے اور اسے امریکی پشت پناہی حاصل تھی۔ 14 جولائی 1958ء کو عبد الکریم قاسم کی قیادت میں عراقی فوج نے انقلاب برپا کرکے بادشاہت کا خاتمہ کر دیا اور نوری السعید و شاہ فیصل ثانی کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد برطانیہ کا براہِ راست سیاسی تسلط ختم ہوگیا، مگر عراق امریکہ اور سوویت یونین کی بلاک کی جنگ کا مرکز بن گیا۔
بیسویں صدی میں عراق میں تیل دریافت ہوا، جس پر برطانوی کمپنی (BP)، فرانسیسی کمپنی (Total)، امریکی کمپنی Exxon اور Mobil اور ہالینڈ کی کمپنی (Shell) کا تسلط تھا۔ یہ اتحاد عراق پیڑولیم کمپنی کے عنوان سے عراق میں فعال رہا، جو عراقی حکومت کو محض ایک محدود رائلٹی دیتا تھا جبکہ بیشتر منافع مغربی کمپنیوں کو جاتا تھا۔ 1961ء میں عبد الکریم قاسم نے (Law No. 80) نافذ کیا، جس کے تحت IPC کے 99 فیصد غیر ترقی یافتہ لیز شدہ رقبے کو ضبط کرکے عراقی قومی تیل کمپنی (INOC) قائم کی گئی۔ جون 1972ء میں بعث پارٹی کی حکومت نے IPC کو مکمل طور پر قومی تحویل میں لے لیا، جس سے عراق کے تیل کے وسائل پر مغربی کنٹرول کا باضابطہ خاتمہ ہوا۔ عبد الکریم قاسم کی سوویت یونین کی طرف بڑھتی قربت اور کمیونسٹ اثر و رسوخ سے امریکہ نالاں تھا۔ فروری 1963ء میں بعث پارٹی نے قاسم کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
کئی مؤرخین اور CIA کے سابق اہلکاروں (مثلاً راجر مورس) کے مطابق امریکہ نے بعث پارٹی کو قاسم حکومت کا تختہ الٹنے میں خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ 17جولائی 1968ء کو بعث پارٹی نے احمد حسن البکر کی قیادت میں مکمل اقتدار حاصل کر لیا۔ اس حکومت میں صدام حسین نائب صدر کے طور پر ابھرا اور سکیورٹی اور انٹیلیجنس نظام کو مضبوط کیا۔ جولائی 1979ء میں صدام حسین نے احمد حسن البکر کو استعفیٰ پر مجبور کیا اور خود عراق کے صدر، بعث پارٹی کے سربراہ اور انقلابی کمانڈ کونسل کے چیئرمین کی اہم پوسٹیں سنبھال کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ انقلاب اسلامی ایران کے اگلے برس یعنی ستمبر 1980ء میں صدام حسین نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے بعد امریکہ نے عراق کی بلواسطہ اور بلاواسطہ مدد کی۔ 1982ء میں امریکہ نے عراق کو "دہشت گردی کے پشت پناہ ممالک” کی فہرست سے نکال دیا اور 1984ء میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات بحال ہوئے، جبکہ ایران عراق جنگ جاری تھی۔
امریکہ نے عراق کو سیٹلائٹ تصاویر، ایرانی فوج کی نقل و حرکت کی پاسپورٹ انٹیلی جنس معلومات اور معاشی کریڈٹ گارنٹی (زراعت کی مد میں اربوں ڈالر) فراہم کیے۔جب عراق نے ایرانی افواج اور کرد آبادی کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا، تو امریکی انتظامیہ نے اقوامِ متحدہ میں عراق کے خلاف سخت اقدامات کو روکا۔ امریکی اور یورپی کمپنیوں نے عراق کو دوہرے استعمال (Dual-use) کی ٹیکنالوجی فروخت کرنے کی اجازت دی، جو کیمیائی و حیاتیاتی پروگراموں میں استعمال ہوسکتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے کنڑا افئیرز کے تحت اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر ایران کو بھی کچھ ہتھیار مہیا کیے، تاکہ جنگ طولانی ہو اور خطے میں طاقت کا توازن بحال رہے۔ 1990ء میں عراق کے کویت پر حملے اور قبضے کی کوشش کے بعد عراق پر سخت معاشی پابندیاں عائد کر دی گئیں نیز 9/11 کے واقعہ کے بعد بش انتظامیہ نے عراق پر حملہ کر دیا۔
ظاہراً تو دعویٰ یہ کیا گیا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، نیز صدام کا القاعدہ سے تعلق ہے، تاہم حملے کا بنیادی مقصد عراق کے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر پر قبضہ تھا۔ 9 اپریل 2003ء کو بغداد پر امریکی افواج کا قبضہ ہوگیا اور صدام حسین کی حکومت ختم ہوگئی۔ دسمبر 2006ء میں عراقی عدالت کے حکم پر پھانسی دے دی گئی۔ عراق میں امریکی حاکم پال بریمر نے بعث پارٹی کے تمام سابق اراکین پر سرکاری ملازمتوں کی پابندی لگا دی، اسی طرح عراقی فوج کو تحلیل کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری، طاقت کا خلاء اور خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔ جولائی 2003ء میں کولیشن پرویژنل اتھارٹی نے ایک 25 رکنی "عراقی گورننگ کونسل” تشکیل دی، جس میں فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں (شیعہ، سنی، کرد، ترکمانی) پر نشستیں تقسیم کی گئیں۔
جون 2004ء میں "سی پی اے” نے باضابطہ اقتدار ایاد علاوی کی قیادت میں قائم ہونے والی "عراقی عبوری حکومت” کو منتقل کیا، تاہم امریکی فوج کا دفاعی اور سیاسی تسلط مکمل طور پر برقرار رہا۔ جنوری 2005ء میں عراق میں پہلی عبوری اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے، اکتوبر 2005ء میں نیا عراقی آئین منظور کیا گیا، جس کے تحت عراق کو ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ بنایا گیا۔ اس آئین نے خطہ کردستان کو وسیع خود مختاری دی۔ مئی 2006ء میں عبوری اسمبلی نے نوری المالکی کو پہلا منتخب وزیراعظم چنا۔ عراق کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام رقم نیویارک کے "فیڈرل ریزور بینک” میں جمع ہوتی تھی، جسے عراقی حکومت اور امریکی سرپرستی میں ملک کی بحالی اور درآمدات کے لیے جاری کیا جاتا تھا۔ 2007ء میں امریکی انتظامیہ کے شدید دباؤ پر ایک نیا ہائیڈروکاربن قانون تیار کیا گیا، جس کا مقصد عراقی تیل کی صنعت کو غیر ملکی (بالخصوص مغربی) سرمایہ کاری کے لیے کھولنا تھا۔
2009ء اور 2010ء میں عراقی وزارتِ تیل نے عالمی کمپنیوں کے لیے تیل کے اہم میدانوں (مثلاً رمیلہ، مجنون، قرنہ-۱) کی بولی کے مراحل (Licensing Rounds) کا انعقاد کیا۔ جس میں امریکی کمپنیوں کو یکطرفہ اجارہ داری نہ ملی بلکہ عراقی حکومت نے مختلف کمپنیوں کے ساتھ سروسز کانٹریکٹس کیے اور بڑے ٹھیکے امریکی (ExxonMobil) برطانوی (BP)، روسی (Lukoil)، چینی (CNPC) اور یورپی (Eni) کمپنیوں کو ملے۔ شمال میں کردستان کی صوبائی حکومت نے بغداد کی وفاقی حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے امریکی کمپنیوں Chevron، ExxonMobil، Gulf Keystone کے ساتھ آزادانہ معاہدے کیے اور ترکیہ کے راستے تیل برآمد کیا۔ اس اقدام سے بغداد اور اربیل کے درمیان شدید قانونی اور مالی تنازعات پیدا ہوئے۔
2014ء میں عراق میں داعش کے فتنے نے سر اٹھایا اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا، اس سے قبل 2011ء میں اوباما نے عراق سے امریکی افواج کا انخلاء مکمل کر لیا تھا، تاہم عراقی حکومت کی درخواست پر امریکی افواج دوبارہ عراق میں آگئیں۔ دسمبر 2021ء میں امریکہ نے عراق میں اپنے جنگی مشن کا باضابطہ اختتام کا اعلان کیا، تاہم عراقی افواج کی تربیت اور مشاورت کے لیے چند ہزار امریکی اہلکار چند روز پہلے تک عراق میں موجود تھے۔ یہ فوجی ستمبر 2026ء میں عراق سے نکل گئے، یوں عراق میں امریکی افواج کے 22 برس کے قیام کا خاتمہ ہوا۔ اس عرصے کے دوران عراق میں انفراسٹرکچر کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 2 لاکھ سے زائد عراق اپنی جان کی بازی ہار گئے، امریکی جیلوں میں داعشی اور بعثی کمانڈرز کی تربیت ہوئی اور 2014ء میں ابو بکر البغدادی کی قیادت میں داعش نے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا۔
امریکہ کی تربیت یافتہ عراقی افواج چند گھنٹوں میں ہتھیار پھینک کر راہ فرار اختیار کرگئیں اور سینکڑوں سپاہی داعش کے ہاتھوں ذبح ہوگئے۔ ایسے میں حشد الشعبی نے ملک کے دفاع کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی اور داعش کا عراق سے خاتمہ کیا۔ حشد الشعبی ایک عرصے سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کر رہی تھی، امریکی اڈوں اور فوجی قافلوں پر حملے روز کا معمول تھا، تاہم امریکی عراقی حکومت میں اپنے رسوخ کے سبب عراق میں براجمان رہے۔ امریکیوں نے عراقی تیل سے حاصل ہونے والی دولت کا ایک بڑا حصہ نوکر شاہی کو رشوتیں دینے، بدعنوانی اور غیر قانونی مسلح گروہوں کی آبیاری کے لیے صرف کیا، جبکہ عراقی عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترستے رہے۔
امریکی افواج کا عراق سے حالیہ انخلاء ایران امریکہ جنگ کے فیوض و برکات میں سے ایک ہے، تاہم عراقی صورتحال اور ماضی کی مثال کے تناظر میں آنکھیں اور کان کھلے رکھنے کی ضرورت ہے۔ کرد ریاست میں آج بھی امریکی اور اسرائیلی مراکز موجود ہیں، جو کسی وقت عراق کے سیاسی و سکیورٹی حالات کو دگرگوں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2012ء کا امریکی انخلاء 2014ء میں داعش کا ظہور نیز امریکی افواج کی واپسی قدرتی حادثات نہیں بلکہ ان کے لیے ایک طویل عرصہ منصوبہ بندی، تربیت اور تیاری کی گئی تھی۔ عین ممکن ہے کہ اب بھی کسی ایسی ہی تیاری کے ساتھ عراق کو خیرباد کہا گیا ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عراقی سیاسی نظام، سکیورٹی نظم نیز معاشی معاملات سے امریکہ کو مکمل طور پر بے دخل کر دیا جائے، اس وقت تک عراق میں مطلوبہ تبدیلی ممکن نہیں۔