تحریر: سید اسد عباس
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی تاریخی واقعہ کو ہم معاشرے کے حالات، علمی و فکری فضاء، ڈیموگرافی، مذہبی عقائد کو سمجھے بغیر درک نہیں کرسکتے۔ اگر ان عوامل کو نظرانداز کر دیا جائے تو تاریخی واقعہ صرف خشک تاریخوں اور چند ناموں کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے اور اس کی اصل روح، محرکات اور پس منظر پوری طرح مفقود ہو جاتے ہیں۔ ہم جب بعثت رسول ؐ یا اس کے بعد کے واقعات کو اس وقت کے سماج کو سمجھے بغیر درک کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عرب معاشرے کے بارے میں ہمارے علم کا ماخذ وہ تاریخی متون ہیں، جن کو واقعات کے دو سو یا تین سو برس بعد ضبط تحریر میں لایا گیا۔ اگرچہ ان متون کی اپنی اہمیت ہے، تاہم یہ تاریخی واقعات کی جمع بندی ہے، جس سے اوائل اسلام کے معاشرے کی علمی و فکری فضاء، آبادی کی ساخت، مذہبی عقائد کو کماحقہ نہیں جانا جا سکتا۔
یہی حال علم حدیث کا ہے، جس میں اگرچہ بات سے فضاء کا اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے، تاہم اس کا حقیقی علم نہیں حاصل کیا جاسکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے رحلت رسول ؐ کے بعد شام، مصر اور ایران کو فتح کیا، تاہم کیا فتح کے وقت ان علاقوں کی آبادی ویسے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی، جیسے فتح مکہ کے وقت ہوئی۔؟ یہ سوال بہت اہم ہے کہ ان ممالک میں تبلیغ دین اسلام کا کیا اہتمام کیا گیا۔؟ کب ان ممالک کی آبادیوں نے اپنے آبائی دین کو چھوڑا۔؟ مسلمانوں کے بارے مقامی آبادیوں کا تصور اور ردعمل کیا تھا۔؟ حملہ آوروں سے نمنٹنے کے لیے سماج نے کیا حکمت عملی اختیار کی۔؟ ہم کہیں کہ شام کے 30 سے 60 لاکھ مسیحی دمشق کی فتح کے ساتھ ہی پکے مسلمان بن گئے تھے تو یہ تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔ اسی طرح ایران اور مصر کے بارے بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں اتنے بڑے پیمانے پر دین میں بدلاؤ ہوا۔ یہ معلومات ہمیں کہاں سے مل سکتی ہیں۔؟ اسلامی تاریخ تو اس موضوع پر خاموش ہے۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں ہمیں ان سماجوں کی علمی روایت کو کھنگالنا ہوگا۔
مسلم سماج اور اس کے مفتوحہ علاقوں کو قدیم تاریخی منابع سے سمجھے بغیر ہم رحلت ختمی مرتبت کے بعد کے واقعات کو بھی کماحقہ نہیں سمجھ سکتے، ہمیں نہیں معلوم ہوگا کہ شام کو بنی امیہ کے حوالے کیوں کیا گیا۔؟ جنگ صفین کیوں ہوئی۔؟ امیر المومنین کے خطبات کس تناظر اور کون سے سامعین کو مدنظر رکھ کر دیئے گئے۔؟ جنگ سے اجتناب کے مشورہ کے باوجود ایسا کیوں نہ کیا۔؟ امام حسن صلح پر مجبور کیوں ہوئے۔؟ کربلا کیوں برپا ہوئی۔؟ شام میں اسرائے اہل بیت ؑ کے خطابات کا کیا مطلب تھا، اولاد رسول ؐ کے قتل اور اسارت پر جشن کیوں منایا گیا۔؟ واقعہ حرہ کیوں ہوا۔؟ بیت اللہ کو آگ کیوں لگائی گئی۔؟ مسجد نبوی میں گھوڑے کیوں باندھے گئے۔؟ امام باقر اور امام جعفر صادق نے علوم دین کی ترویج اور شبہات کے جوابات پر توجہ کیوں مرکوز رکھی۔؟ یہ وہ سوالات ہیں، جن کا حقیقی جواب صدر اسلام کی مسلم ریاست کے سماج کو سمجھے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
رحلت رسول ؐ کے وقت (632ء) شام بازنطینی ریاست کا اہم صوبائی مرکز تھا، جہاں عربی کے ساتھ ساتھ یونانی، سریانی، عبرانی، پہلوی اور آرمینیائی زبانیں بولی جاتی تھیں، جبکہ یونانی اور سریانی زبان کو رابطے اور علم کی زبانوں کا درجہ حاصل تھا۔ اس معاشرے کو بالخصوص اور اوائل اسلام کے واقعات کو بالعموم سمجھنے کے لیے یونانی، سریانی، عبرانی اور آرمینیائی زبانوں کو سمجھنے والے معاصر محققین نے خاصا کام کیا ہے۔ ان میں ایک نام نیویارک یونیورسٹی کے قرون وسطیٰ کی تاریخ کے پروفیسر رابرٹ جی ہاہلینڈ کا ہے، جن کی تحقیق "Seeing Islam as Others Saw It” اس عنوان سے قابل قدر ہے، جس میں ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی کے یونانی، سریانی، آرمینیائی اور پہلوی مورخین کے کاموں کو جمع کرکے ان متون کا ترجمہ نیز تحلیل کی گئی ہے۔ جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے، اس تحقیق کا موضوع اسلام کی آمد اور فتوحات ہیں۔ پہلا مورخ اور تاریخی ریکارڈ جس کو رابرٹ جی ہائلینڈ نے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا تھیوڈور آف سائیکون (ترکیہ) کا واقعہ اور اس کی پیشگوئیاں ہیں۔
رابرٹ جی ہائلینڈ اپنی کتاب کے تیسرے باب میں لکھتے ہیں: معروف مسیحی راہب تھیوڈور آف سائیکون (وفات: 613ء) جب قسطنطنیہ کے پیٹریاک تھامس (607ء–610ء) سے ملنے آئے تو پیٹریاک (پوپ کے درجے کا مسیحی عالم) نے ان سے پوچھا کہ کیا دعائیہ جلوسوں کے دوران صلیبوں کے غیر معمولی طور پر تھرتھرانے کا واقعہ سچ ہے۔؟ تھیوڈور نے اس واقعے کی تصدیق کی اور توقف کے بعد آنے والے دور کی خوفناک آفات و مصائب کا انکشاف کیا۔ جن میں مسیح مخالف یا دجال کی آمد، عقیدے میں تزلزل، صحرائی وحشیوں کے حملے، بے تحاشا خون خرابا، گرجا گھروں کی ویرانی، بازنطینی سلطنت کے زوال کی پیشین گوئیاں شامل ہیں۔ اسی طرح کی پیشین گوئیاں 630ء میں فوت ہونے والے عیسائی راہب جارج آف خوزیبا (یروشلم) نے بھی کیں۔

رابرٹ جی ہائلینڈ اس کے بعد ایک اور اہم یونانی ماخذ "ڈاکٹرینا جیکوبی” (یعقوب کی تعلیمات) کو نقل کرتے ہیں۔ یہ تحریر ایک فلسطینی یہودی تاجر جیکب (یعقوب) کی تصنیف ہے، جسے 632ء میں بازنطینی شہنشاہ ہرقل (Heraclius) کے حکم پر زبردستی عیسائی کیا گیا۔ تحریر یونانی زبان میں ہے، جو جولائی 634ء کے قریب شمال مغربی افریقہ (کارتھیج) میں مرتب کی گئی۔ ڈاکڑینا جیکوبی کے گفتگو کا ایک اہم حصہ جیکب کے چچا زاد بھائی جسٹس (Justus) سے متعلق ہے، جو فلسطین سے آیا تھا۔ جسٹس اپنے بھائی ابراہم (Abraham) کا ایک تحریری خط پیش کرتا ہے، جس میں فلسطین میں عربوں (ساراسنز) کے حملے اور ایک نیا نبوت کا مدعی ظاہر ہونے کی معاصر خبر موجود تھی۔ رابرٹ جی ہائلینڈ اس یونانی ماخذ کی تحریر کا انگریزی ترجمہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
When the candidatus was killed by the Saracens, I was at Caesarea and I set off by boat to Sykamina. People were saying "the candidatus has been killed,” and we Jews were overjoyed. And they were saying that the prophet had appeared, coming with the Saracens, and that he was proclaiming the advent of the anointed one, the Christ who was to come.
ترجمہ: (ابراہم بتاتا ہے) جب ساراسنز (عربوں) نے بازنطینی شاہی محافظ دستے کے ایک اعلیٰ افسر (جس کی شناخت بعد میں سیرجیوس سے کی گئی) کو قتل کیا، تو وہ قیصریہ میں تھا اور وہاں سے کشتی کے ذریعے ساحلی شہر سیکامینا/سیسیرہ پہنچا۔ (سیکامینا پہنچ کر ابراہم نے دیکھا) یہودی بازنطینی افسر کے قتل پر انتہائی مسرور اور پرامید تھے۔ وہاں یہ خبریں عام تھیں کہ "عربوں/ساراسنز کے ساتھ ایک نبی ظاہر ہوا ہے، جو آنے والے (مسیح) کے ظہور کا اعلان کر رہا ہے۔
ڈاکٹرینا جیکوبی کا یہ متن تاریخ میں اسلام اور (حضرت محمدﷺ) کا قدیم ترین معاصر غیر مسلم یونانی مأخذ (634ء) تسلیم کیا جاتا ہے، جس میں اسلامی فتوحات، توحید/مسیح کے اقرار اور اسلامی تصورِ جہاد یا جنت کی چابیوں کا ابتدائی غیر مسلم ردِعمل نظر آتا ہے۔ اس متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فتوحات کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہی مسلمانوں کا تصورِ جہاد، جنت کا مفہوم اور نبوت کے شرائط جیسے موضوعات غیر مسلم عیسائی اور یہودی حلقوں میں شدید مباحث کا موضوع بن چکے تھے۔ رابرٹ جی ہائلینڈ لکھتے ہیں کہ ان پیشینگوئیوں کا مقصد آمدہ حالات کے بارے خوف پھیلا کر عقیدتی پیش بندی تھا۔ یہ ایسا ہی کام ہے، جیسے انقلاب اسلامی کے فوراً بعد پاکستان اور ہندوستان میں علامہ سلیم اللہ خان، علامہ منظور نعمانی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی قدآور شخصیات نیز بعد کے چند اہل سنت علماء نے تشیع مخالف فضاء سازگار کرکے نیز شیعوں کو دشمن صحابہ ؒ قرار دے کر کیا، تاکہ عام مسلمان اس انقلاب سے بدظن ہو جائیں۔
یہ ماخذ ظاہر کرتے ہیں کہ ساتویں صدی کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے عرب فتوحات محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھیں، بلکہ دونوں اقوام اس عظیم تبدیلی کو اپنی اپنی مذہبی کتابوں، پیشگوئیوں اور مسیحائی سے متعلق امیدوں کے سانچے میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی نیز اس کے لیے ذہنی و معاشرتی تیاری بھی کی۔ رابرٹ جی ہائلینڈ کی کتاب کا ایک اور اہم ماخذ جس سے بازنطینی ریاست کے علمی و زاہدانہ ماحول کا ادراک ہوتا ہے، جان موسچس کا پراٹم اسپرچوئل(گلشن روحانیت) ہے۔ جان موسچس چھٹی صدی عیسوی میں پیدا ہوا اور بیت المقدس کے قریب سینٹ تھیوڈوسیئس کی خانقاہ میں راہب تھا۔ موسچس اور اس کے شاگرد سوفرونیئس دمشقی نے زاہدانہ سیاحت کی روایت کے تحت مصر، شام، جبلِ سینا اور اسکندریہ کا طویل سفر کیا اور بالآخر روم پہنچے، جہاں موسچس نے اپنی تمام یاداشتوں کو مرتب کیا اور اپنے انتقال سے قبل یہ مسودہ اپنے شاگرد سوفرونیئس کے حوالے کیا۔
رابرٹ جی ہائلینڈ لکھتے ہیں:
When Sophronius and John Moschus stayed in Alexandria in the early seventh century (ca. 608-15), the intellectual scene in the city still seems to have been lively. There was Theodore the philosopher and Zoi’lus Lector, "two remarkable men and of great virtue,” who lived very simply, possessing little beyond their clothes and a few books; Nemesius, an ex-prefect and astrologer; "a man called Peter, who had gone to Alexandria from Beth Qatraye as a young man to be trained in philosophy;” Cosmas Scholasticus, who owned innumerable books and spent his days composing treatises against the Jews, and of course Stephen of Alexandria, who lectured in mathematics and rhetoric.
ترجمہ: ساتویں صدی کے اوائل (تقریباً 608 تا 615 عیسوی) میں جب سوفرونیئس اور جان موسچس نے سکندریہ (ایسکلیژیا) میں قیام کیا تو شہر کا علمی و فکری منظر نامہ تب بھی کافی متحرک معلوم ہوتا تھا۔ وہاں فلسفی تھیوڈور (سینائی) اور زوئلس لیکٹر موجود تھے، جو عظیم صلاحیتوں اور اعلیٰ فضائل کے حامل دو نمایاں افراد تھے، ان کا کل متاع کچھ کپڑے اور چند کتابیں تھیں، نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کے علاوہ نیمیسیئس جو ایک سابق گورنر (پریفیکٹ) اور ماہرِ نجوم تھا، پیٹر نامی ایک شخص جو چھوٹی عمر میں ہی فلسفے کی تعلیم حاصل کرنے بيت قطرايہ (مشرقی عرب) سے سکندریہ آیا تھا، کوسماس اسکولاسٹیکس جو بے شمار کتابوں کا مالک تھا اور اپنے روز و شب یہودیوں کے رد میں رسائل و تصانیف تحریر کرنے میں گزارتا تھا۔ سکندریہ کا سٹیفن جو ریاضی اور علمِ خطابت (بلاغت) پر لیکچر دیا کرتا تھا۔
درج بالا اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ سکندریہ رسالت مآب ؐ کے زمانے میں ایک علمی مرکز تھا، جہاں فلوطین جیسے فلسفی 270ء میں اپنا نام اور مقام پیدا کرچکے تھے اور انہی کا فلسفی مشرب 615ء میں تعلیم دیا جا رہا تھا۔ فلوطین کو نوفلاطینیت کا بانی سمجھا جاتا ہے، یہ فلسفی عقل کے ساتھ ساتھ شہود، جذب اور وجد کو حکمت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جان موسچس ایک راہب ہونے کے ساتھ ساتھ زاہدانہ فکر کا داعی بھی تھا۔ اس نے اپنی مذکورہ بالا تصنیف "پراٹم اسپرچوئل” میں متعدد مسیحیوں کی کرامات، معجزات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اسکندریہ کا موازنہ ہم برصغیر پاک و ہند میں دارالعلوم دیوبند یا حوزہ علمیہ قم سے کرسکتے ہیں، جو اس خطے میں علمی روایت کے موسس اور مبلغ ہیں۔ رابرٹ جی ہائلینڈ کی کتاب "Seeing Islam as Others Saw It” میں سوفرونیئس پیٹریاک آف یروشلم (وفات: تقریباً 639ء) کی شخصیت، ان کی تحریروں اور ابتدائی اسلام کے بارے میں ان کے ردِعمل کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
رابرٹ جی ہائلینڈ سوفرونیئس کے بارے لکھتا ہے:
The city of Damascus seems to have survived as a provincial centre Of Hellenic culture, in Christianised form, into the seventh century. It was there that Sophronius grew up and obtained a classical education, attaining the title of "sophist” for his proficiency in rhetoric. A fellow Damascene and contemporary of his, one Isidore son of Dionysius, excelled in philosophy, a subject for which his family had been renowned since the time of their forebear Nicholas of Damascus, the teacher of Herod and of the sons of Anthony and CleopatraY And it was likewise in Damascus that the theologians and hymnographers Andrew of Crete (d. ca. 720) and John of Damascus ( wr. 730s) were born and raised.دمشق کا شہر ساتویں صدی تک ہیلینک (یونانی) ثقافت کے ایک صوبائی مرکز کے طور پر قائم و برقرار معلوم ہوتا ہے۔ یہی وہ جگہ تھی، جہاں سوفرونیئس کی پرورش ہوئی اور اس نے کلاسیکی تعلیم حاصل کی، نیز علمِ خطابت اور بلاغت میں اپنی مہارت کے باعث (سوفسٹ) کا لقب حاصل کیا۔ اسی کے دور کا ایک دمشقی، ڈائونیزیئس کا بیٹا آئسیڈور (Isidore) نوافلاطینی فلسفے میں ممتاز تھا۔۔۔ یہ وہ مضمون تھا، جس کے لیے اس کا خاندان اپنے آبا و اجداد، ہیرودیس (Herod) اور انتھونی و کلیوپیٹرا کے بچوں کے استاد، "نیکولس آف دمشق” کے زمانے سے مشہور چلا آ رہا تھا۔ اسی طرح دمشق ہی وہ شہر تھا، جہاں مذہبی ماہرین اور حمد و نعت گو (ترانے لکھنے والے) اینڈریو آف کریٹ (وفات تقریباً 720ء) اور یوحنا دمشقی (جان آف دمشق، جن کی تحریریں 730ء کی دہائی کی ہیں) پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔
درج بالا اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ شام ایک مسیحی شہر ہی نہیں بلکہ ہلینک ثقافت کا صوبائی مرکز تھا، جہاں معروف فلسفی، متکلم، مذہبی راہنماء آٹھویں صدی عیسوی یعنی 112 ہجری تک موجود تھے۔ انڈریو آف کریٹ یا انڈریو آف یروشلم ایک طویل عرصے تک شام میں مسیحیت کی تعلیم و تبلیغ میں مصروف رہا۔
رابرٹ جی ہائلینڈ کا اگلا ماخذ Trophies of Damascus ہے۔یہ متن ساتویں صدی عیسوی میں تقریباً 660ء سے 680ء کی دہائی میں یونانی زبان میں تحریر کیا گیا۔ یہ رسالہ ایک مسیحی مناظرانہ رسالہ ہے۔اس رسالہ میں تحریر ہے:
And the Muslims remained confined for their worship to a small prayer place outside the Christian basilica
اور مسلمان عیسائی باسیلیکا (گرجا گھر) کے باہر ایک چھوٹی سی جگہ تک ہی اپنی عبادت کے لیے محدود رہے۔
ٹرافیز میں درج ہے کہ دمشق کی فتح کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں کے مابین مناظروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ عیسائی بازنطینی ریاست کے وجود کو اپنے حق پر ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے ۔ جب دمشق فتح ہوا تو یہودیوں نے عیسائیوں کو طعنہ دیا کہ اگر تم خدا کے پسندیدہ ہوتے تو کبھی محکوم نہ ہوتے جس کے جواب میں عیسائیوں نے بیانیہ بنایا کہ اگرچہ ظاہری حکومت اور زمینیں ساراسنز (عربوں)کے پاس ہیں لیکن غالب اور مسلط اقوام کے درمیان عیسائیوں کے گرجا گھر قائم ہیں، صلیبیں نصب کی جا رہی ہیں اور مذہبی قربانیاں بدستور جاری ہیں۔
اموی شام کی تاریخ ، سیاسی حکمت عملی اور علمی و عقیدتی روایت کا ایک اہم ماخذ یوحنا دمشقی ہے ، جسے مسیحی دنیا میں Jhon of Damascusکے نام سے جاتا ہے۔ یہ شخص دمشق میں اسلام کا سب سے بڑا ناقد تھا اور بنی امیہ کے دربار میں اپنے دادا اور والد کے بعد اہم منصب پر فائز تھا۔ جان کا داد منصور بن سرجون محاصرہ دمشق کے وقت اس شہر کا گورنر تھا ۔ اس نے حضرت خالد بن ولید سے ایک معاہدہ کے تحت شہر کے دروازے کھولے جس پر بازنطینی کلیسا کی جانب سے لعنت کا حقدار قرار پایا ۔ یزید بن ابی سفیان کے دور میں منصور بن سر جون کو مالی امور کا نگران مقرر کیا گیا ، یہ عہدہ منصور کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے سرجون بن منصور کو ملا اور پھر یہ عہدہ یوحنا دمشقی کو ملا۔
یوحنا دمشقی کے علمی آثار پر تحقیق کرنے والے واٹر لو یونیورسٹی کے استاد ڈینئیل جے ساحس اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ شامی مسیحی قبائل شام کے عام باشندے بھاری ٹیکسوں، طویل جنگوں، اور ہرقل کی جانب سے مذہبی یکسانیت کے لیے مونو تھیلزم (Monothelitism) عقیدہ زبردستی مسلط کرنے کی پالیسی سے شدید نالاں تھے۔بنی غسان حلب میں ایک آزاد ریاست کے حامل تھے جبکہ باقی عرب مسیحی قبائل کا بڑا اتحاد قضاعہ(بنی کلب، بنی تغلب، بنی ایادو دیگر مسیحی قبائل) بازنطینی مسلم جنگوں سے دور رہا ۔
ڈینئیل جے ساحس اپنی کتاب John of Damascus on Islamمیں ص 25پر تحریر کرتے ہیں :
The Muslims were, primarily, concerned with establishing themselves successfully as rulers in these new territories with a Christian majority. They were, therefore, little interested in the theological divergence among the Chalcedonians, Monophysites and Monothelites.1 The Syrians were not forced to convert to Islam after the conquest 2 and although, according to the decree of ‘Umar, they were not permitted to build new churches, this measure seemed much less painful to them than the bitter persecution which they suffered after the triumph of Heraclius.? The tolerance of the early Umayyad caliphs was also expressed in their decision to retain the existing system in the administration as well as its official language, Greek?. The Christians found entrance to the court of the Caliph in a variety of ways: as administrative advisors (e.g., the family of the Mansirs),as ‘“‘admirals’’(?) in the newly built Muslim fleet,® as poets,’ instructors of the princes,’ and artists.
ترجمہ : مسلمان بنیادی طور پر ان نئے علاقوں میں، جہاں عیسائی اکثریت میں تھے، خود کو ایک حکمران کے طور پر مضبوطی سے قائم کرنے کی فکر میں تھے۔ اس لیے انھیں کیلسیڈونیوں (Chalcedonians)، مونو فزائٹس (Monophysites) اور مونو تھیلائٹس (Monothelites) کے درمیان موجود مذہبی و عقائد کے اختلافات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی¹۔ فتح کے بعد شام (سیریا) کے باشندوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا² اگرچہ حضرت عمرؓ کے حکم نامے کے مطابق انھیں نئے گرجا گھر تعمیر کرنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن یہ پابندی ان کے لیے اس سخت ظلم و ستم کے مقابلے میں بہت کم دردناک تھی جوانھوں نے ہرقل (Heraclius) کی فتح کے بعد سہا تھا³۔ ابتدائی اموی خلفاء کی رواداری کا اندازہ ان کے اس فیصلے سے بھی ہوتا ہے کہ انھوں نے انتظامیہ کے موجودہ نظام کے ساتھ ساتھ اس کی سرکاری زبان، یعنی یونانی (Greek) کو برقرار رکھا⁴۔عیسائیوں کو خلیفہ کے دربار تک رسائی مختلف طریقوں سے حاصل ہوئی۔ انتظامی مشیروں کے طور پر (مثلاً آلِ منصور)⁵، نوزائیدہ مسلم بحری بیڑے میں "ایڈمرلز” (دریائی سالار) کے طور پر⁶، شاعروں⁷، شہزادوں کے استادوں⁸ اور فنکاروں کی حیثیت سے۔
مفتوحین کے دین میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی، انھیں مذہبی آزادی فراہم کرنا اگرچہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے تاہم بنی امیہ کے دور میں شام کے ساتھ ساتھ مصر اور ایران میں اس مذہبی رواداری کا مقصد جزیہ اور طاقت کا حصول رہا۔ شام ، مصر ایران میں موجود مسلم حاکم اقلیت نہ تو یونانی ، سریانی ، آرمینیائی اور پہلوی زبانوں سے آگاہ تھی اور نہ ہی انھیں اپنے محکوموں کے نظریات و عقائد سے کوئی سروکار تھا ۔ اسی لیے یوحنا دمشقی دربار شام میں بیٹھ کر قرآن کریم ، رسول اکرم ؐ اور اسلامی تعلیمات پر نقد کرتا رہا ۔ جبکہ اس کے برعکس داخلی طور پر امیر المومنین علی ؑ،امام حسن مجتبیؑ ، امام حسین ؑ ،عبد اللہ بن زبیر ، حجر ابن عدی ؓ،مختار ثقفی ، زید بن علی اور دیگر مخالفین کو سختی سے کچل دیا گیا ۔ نو مسلموں کے لیے جزیہ کی معافی کا اعلان اموی حکمران عمر بن عبد العزیز نےکیا، جسے ان کے بعد دوبارہ کالعدم قرار دے دیا گیا ۔
یوحنا دمشقی کو مسیحی دنیا کا پہلا باقاعدہ متکلم سمجھا جاتا ہے ، جس نے مسلم مسیحی مناظرہ کی بنیاد رکھی۔ اس کا سب سے اہم فلسفی و کلامی شاہکار "چشمہ دانش” (Fount of Knowledge / Pege Gnoseos) ہے، جویوحنانے اپنی زندگی کے آخری ایام (تقریباً 743ء یا اس کے بعد) میں سینٹ سابا میں اپنے منہ بولے بھائی بشپ کوسماس کی درخواست پر تحریر کیا تھا۔اس کتاب کا ابتدائی حصہ (Dialectica/Capita Philosophica) الہیات کے مطالعے کے لیے منطق اور فلسفیانہ اصطلاحات کی وضاحت پر مشتمل ہے۔کتاب الزنادیق یا البدع (De Haeresibus) تاریخ میں ظاہر ہونے والی مذہبی گمراہیوں اور بدعتوں کا خلاصہ ہے ۔ اس حصہ کا آخری باب (باب 101) جو اسماعیلیوں کے زندقہ (بدعت) پر مبنی ہے۔۔تیسرا حصہ راست ایمانیات عیسائی عقائد اور تثلیث و تجسد کی باضابطہ تشریح پر مشتمل ہے۔
ڈینئیل جے ساحس لکھتے ہیں کہ تھوڈور ابو قرہ (تقریباً 720ء–825ء) حران (Harran / Carrae) کے میلکائٹ عیسائی بشپ تھا جسے جان دمشقی کا باقاعدہ شاگرد اور علمی جانشین تسلیم کیا جاتا ہے۔اس شخص نے عیسائی الہیات کو عربی زبان میں مرتب کیا ۔ابو قرہ کے کلامی رسائل پر اکثر یہ سرخی ملتی ہے”Ex ore Joannis Damasceni”یعنی جان دمشقی کے فرمودات) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے استاد کے زبانی الہیاتی مباحث اور مناظروں کو تحریری شکل میں محفوظ کیا ۔
یوحنا دمشقی کا خاندان سو برس تک بنی امیہ کی خدمت انجام دیتا رہا اور مالیات پر ان کا اختیار پوری ریاست کے امور پر محیط تھا ۔ جب مصر کی مالیات میں بے ضابطگی کا معاملہ سامنے آیا تو سرجون بن منصور نے خلیفہ عبدالملک بن مروان کے پاس براہِ راست شکایت کی اور مصر کے گورنر کے اتالیق اثناسیئس سے سرکاری خزانے کی رقم واپس کروائی۔یوحنا کو خلیفہ کے دربار میں Protosymboulos خلیفہ کا پہلا مشیر و شریکِ کار کہا جاتا تھا۔
ڈینئیل جے ساحس اپنی کتاب John of Damascus on Islamمیں ص 29پر تحریر کرتے ہیں :
Athanasius from Edessa.* Athanasius, or Bar Goumayé, was a learned Monophysite Christian with great prestige. ‘Abd al- Malik entrusted to him his brother al-‘Aziz who, at a very early age, became emir of Egypt. Athanasius in this position became extremely rich not only from the many presents which he received from the Caliph, but also from some sort of allowance that his children re- ceived out of every payment of each soldier.
ادسا (Edessa) سے تعلق رکھنے والا اثاناسیوس (Athanasius)۔* اثاناسیوس، جسے بار گومیے (Bar Goumayé) بھی کہا جاتا تھا، ایک عالم اور بااثر مونو فزائٹ مسیحی تھا، جسے بہت زیادہ عزت و وقار حاصل تھا۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی العزیز کو اس کی نگرانی اور ذمہ داری میں دے دیا، جو بہت کم عمری میں مصر کا امیر بن گیا۔اس منصب کے نتیجے میں اثاناسیوس انتہائی دولت مند ہو گیا۔ اسے نہ صرف خلیفہ کی جانب سے ملنے والے بے شمار تحائف سے فائدہ ہوا بلکہ اس کے بچوں کو ہر سپاہی کی ہر ادائیگی میں سے کسی قسم کا باقاعدہ حصہ یا الاؤنس بھی ملتا تھا۔۔۔۔۔
ڈینئیل جے ساحس کے مطابق سرجون ابن منصور نے اس اثاناسیوس کی شکایت خلیفہ کو کی جسے دربار بلایا گیا اور لوٹی ہوئی دولت واپس لی گئی ۔ ڈینئیل جے ساحس مزید لکھتے ہیں :
This post, however, does not seem to have been that of tax collector only. Ibn Mansiir’s accusation implies some kind of abuse of Egypt’s treasury, something which could eventually affect its economy. The point at stake is not the misuse of personal, but rather of public funds. Therefore, Ibn Mansir could report this case directly to ‘Abd al-Malik. A second important point to notice is that Ibn Mansiir was concerned with the abuse, although it took place in Egypt, a fact which reveals that his responsibilities were not limited to the area of Damascus, neither to Syria alone, but that they extended at least as far as Egypt. Finally, the mention of the name of ‘Abd al-Malik shows that Ibn Mansiir was in that post during the reign of this Caliph.
معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہدہ صرف ٹیکس جمع کرنے والے (باج گزار) کا نہیں تھا۔ ابنِ منصور کے الزام سے مصر کے خزانے میں کسی قسم کی خرد برد کا اشارہ ملتا ہے، جو آگے چل کر وہاں کی معیشت کو متاثر کر سکتا تھا۔ یہاں اصل مسئلہ ذاتی نہیں بلکہ عوامی فنڈز کا بدعنوانانہ استعمال تھا۔ اسی لیے، ابنِ منصور اس کیس کی رپورٹ براہِ راست عبدالملک کو بھیج سکتے تھے۔ دوسری اہم بات جو قابلِ توجہ ہے وہ یہ کہ ابنِ منصور اس بدعنوانی پر متفکر تھے، حالانکہ یہ واقعہ مصر میں پیش آیا تھا—یہ حقیقت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ان کی ذمہ داریاں صرف دمشق کے علاقے یا تنہا شام (سیریا) تک محدود نہیں تھیں، بلکہ ان کی وسعت کم از کم مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ بالآخر، عبدالملک کے نام کا ذکر یہ واضح کرتا ہے کہ ابنِ منصور اس خلیفہ کے دورِ حکومت میں اس عہدے پر فائز تھے۔
درج بالا معروضات اور حقائق سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اموی دور کا شامی معاشرہ ایک کثیر اللسانی اور علمی طور پر تحرک سے بھرپور مسیحی اکثریت پر مشتمل تھا۔ جہاں حکمران مسلمان نہایت قلیل اقلیت تھے۔ اس معاشرے میں یونانی (ہیلینک) ثقافت، فلسفے، اور الہیاتی مناظروں کی گہری روایت موجود تھی۔ نئے مسلمان حکمران محض ایک سیاسی و انتظامی اقلیت کے طور پر موجود تھےجنھوں نے ریاست کو چلانے کے لیے پرانے بازنطینی انتظامی ڈھانچے، سرکاری زبان (یونانی) اور مقامی عیسائی اشرافیہ (مثلاً آلِ منصور، بنی کلب، بنی تغلب، بنی ایاد، بنی ایاد) کو برقرار رکھا، جس کے نتیجے میں شامی عیسائیوں اور یہودیوں کو اپنے مذہبی عقائد، فلسفیانہ افکار اور مسلمانوں کے ساتھ کلامی و فکری مباحث کو جاری رکھنے کی کھلی آزادی حاصل رہی۔درج بالا حقائق اور تاریخ اسلام کے واقعات کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر عیاں ہو جاتی ہے کہ امویوں کے لیے اصل سیاسی اور عقیدتی خطرہ غیر مسلم عیسائی یا یہودی نہیں تھے (جو محض باج گزار تھے)، بلکہ وہ مسلمان مخالفین تھے جو بنی امیہ کی حکومت کے شرعی و سیاسی جواز کو چیلنج کر رہے تھے، اسی لیے ان مخالفین سے کوئی رعایت نہ برتی گئی اور طاقت و مال کا بھرپور استعمال کرکے مخالفین کو راستے سے ہٹایا گیا ۔