Skip to content

امید ہے اب کوئی غلط فہمی نہیں رہی ہوگی

تحریر: سید اسد عباس

جب کوئی اپنی غلط حرکات سے باز نہ آئے اور اپنی غلطیوں کے سبب کسی مصیبت میں پھنس جائے تو پنجابی میں اسے یہی کہا جا سکتا ہے "ہنڑ آرام اے یعنی اب سکون میں ہو‘‘۔ ٹرمپ، نیتن یاہو کو اس وقت پوری دنیا تقریبا یہی بات کہ رہی ہے۔ ان دونوں کو اپنی عسکری، سیاسی، سفارتی، انٹیلیجنس اور معاشی طاقت کا اتنا غرور تھا کہ انہوں نے پوری دنیا کو وینیزویلا اور غزہ سمجھا ہوا تھا۔ بعض کو آنکھیں دکھاتے تھے تو ان شلواریں گیلی ہو جاتی تھیں، کچھ رعب و دبدبہ کے سبب ہی نافرمانی کا سوچتے تک نہ تھے۔ جو ان دونوں حربوں سے نہیں سنبھلتے تھے ان پر حملہ کرکے یا ملک کے صدر کو اغواء کر لیا جاتا یا پھر اینٹ سے اینٹ بجا کر پورا ملک تہس نہس کر دیا جاتا۔ ان دونوں نے ایران کو بھی تیسری دنیا کا ایک عام ملک سمجھا، جسے معاشی دباؤ سے جھکایا جا سکتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے مغربی و مشرقی اتحادیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ ایران پر گذشتہ چالیس برس سے معاشی و علمی پابندیاں ہیں ان کا فوجی ساز و سامان فقط پراپیگنڈہ کی حد تک جدید ہوگا۔ رمضان جنگ نے اس غلط فہمی کا خاتمہ کر دیا۔

ایران نے اپنے ڈرون ٹیکنالوجی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ دنیا کے جدید ترین دفاعی نظام (جیسے آئرن ڈوم اور پیٹریاٹ) کو نہ صرف چیلنج کر سکتا ہے بلکہ ان کا خاتمہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ مغرب یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ ایران کے پاس بھلے ہی جدید ترین جنگی طیارے نہ ہوں لیکن اس کے لاکھوں سستے "کامیکازی ڈرونز” اور میزائلوں کا نیٹ ورک کسی بھی مہنگے دفاعی نظام کو مفلوج کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ مغرب اور اس کے اتحادیوں کو بڑی غلط فہمی تھی کہ ایران کا سیاسی نظام انتہائی کمزور ہے اور تھوڑی سی بیرونی مداخلت یا سخت پابندیوں سے یہ "ریت کی دیوار” کی طرح گر جائے گا۔ رمضان جنگ نے ثابت کیا کہ بیرونی خطرات کے وقت ایران کے اندرونی سیاسی دھڑے، چاہے وہ اصلاح پسند ہوں یا قدامت پسند، ریاست کے دفاع کیلئے متحد ہوگئے۔

نظام کی لچک اور مشکل وقت میں فیصلہ سازی کی صلاحیت نے یہ ثابت کیا کہ ایرانی مقتدرہ عوام میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ مغربی پالیسی سازوں اور ان کے اتحادیوں کا خیال تھا کہ معاشی پابندیوں سے تنگ آکر ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور غیر ملکی مداخلت کا خیرمقدم کریں گے۔ رمضان جنگ نے اس غلط فہمی کو بھی ختم کر دیا، جب بات بیرونی حملے کی آئی تو ایرانی عوام کی اکثریت نے وطن پرستی کا ثبوت دیا۔ مسلسل پچاس دن بمباری اور امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کا ہر طبقہ سڑکوں پر موجود رہا اور انتقام کے نعرے لگاتے رہا، جس نے ریاستی اداروں کو نقصانات کے باوجود دفاع کا بھرپور حوصلہ بخشا۔ اسرائیل، امریکہ اور ان کے اتحادیوں کا خیال تھا کہ ایران کے اتحادی (حزب اللہ، حوثی، حماس وغیرہ) صرف رقم کیلئے ایران کے ساتھ ہیں اور بڑے ٹکراؤ کی صورت میں پیچھے ہٹ جائیں گے۔ رمضان جنگ کے دوران محورِ مزاحمت کے مابین ہم آہنگی نے ثابت کیا کہ یہ صرف کرائے کے گروہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور اسٹریٹجک اتحاد ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ ان غلط فہمیوں کا سبب کیا ہے؟
مغربی ادارے، تھنک ٹینکس لاکھوں ڈالر لگا کر بہترین ماہرین کی نگرانی میں اعداد و شمار، معلومات اکٹھے کرتے ہیں اور ان کی بنیاد پر حکمت عملی وضع کرتے ہیں۔ یہ لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری ضائع کیوں ہوئی اور ایران کو سمجھنے میں کہاں غلطی ہوئی؟ میں سمجھتا ہوں کہ مغربی پالیسی ساز ادارے اور حکومتیں ایران کے معنوی، ثقافتی، تہذیبی اور مذہبی پہلوؤں پر غور کیے بغیر فقط مادی پہلو سے ایران کو پرکھتے رہے۔ اسی لیے انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ اگر ایران پر سخت پابندیاں لگا دی گئیں تو وہ رحم کی بھیک مانگے گا یا کم از کم پیچیدہ ٹیکنالوجی (جیسے ہائپر سونک میزائل یا سیٹلائٹ گائیڈنس) حاصل نہیں کر سکے گا۔ وہ ایران کی "دیسی اختراع” کی صلاحیت کو پہچاننے میں ناکام رہے، جو ایران نے دہائیوں کی تنہائی میں خودانحصاری کے ذریعے پیدا کی تھی۔ مغربی میڈیا تہران کی گلیوں میں مغربی لباس پہنے یا سوشل میڈیا پر آزادی کی بات کرنے والے نوجوانوں کو دیکھ کر یہ سمجھا کہ پورا معاشرہ اسلامی نظام کے خلاف ہے۔ انہوں نے ایرانی معاشرے کی "قوم پرستی” اور "مذہبی جڑوں” کی گہرائی کو نظر انداز کر دیا۔

امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسیاں اور ان کی فراہم کردہ معلومات سے کام کرنے والے پالیسی ساز ادارے اکثر ان ایرانی مفرورین سے معلومات حاصل کرتے رہے جو خود نظام کی تبدیلی کے خواہشمند تھے۔ ان گروہوں نے مغرب کو وہی بتایا جو وہ سننا چاہتے تھے یعنی یہ کہ "ایران اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور عوام ایک دھکے کے منتظر ہیں”۔ اس یکطرفہ معلومات نے زمینی حقیقت کو دھندلا دیا اور پالیسی سازوں نے حقیقت کے بجائے اپنی خواہشات پر مبنی منصوبے بنائے۔ مغرب نے ایران کے نظام کو ایک فرد واحد کی آمریت سمجھا، جو اس کے جانے سے ختم ہو جائے گا۔ رمضان جنگ نے اس غلط فہمی کا خاتمہ کر دیا کہ ایران کا نظام محض ایک فرد نہیں بلکہ مختلف اداروں (سپاہِ پاسداران، پارلیمنٹ، شوریٰ نگہبان اور رہبرِ معظم) کے درمیان طاقت کی تقسیم کا ایک پیچیدہ ڈھانچہ ہے۔ اس ڈھانچے نے بحرانوں کے دوران فیصلے کرنے اور دباؤ برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت پیدا کر لی ہے، جسے مغرب "بوسیدہ” سمجھ کر نظر انداز کرتا رہا۔ غلط فہمیاں تو بہت سوں کی دور ہوئی ہیں، ان کا تذکرہ کسی اور نشست پر اٹھا رکھتے ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز