تحریر : سید اسد عباس
قومی سلامتی کو ریاست کے تحفظ اور استحکام کیلئے کئی اہم جہتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں عسکری یا دفاعی سلامتی، معاشی سلامتی، فوڈ سیکورٹی، سیاسی سلامتی، سائبر سیکورٹی، ماحولیاتی سلامتی اور بنیادی انسانی حقوق کی سیکورٹی شامل ہیں۔ وہ حکومت اور نظام کامیاب ہے جو ان تمام سیکورٹیز کو یقینی بنا سکے۔ خلیجی ریاستوں نے تیل کی دولت سے شیشے کے محل تو بنا لیے تاہم ان محلات کے دفاع کیلئے غلط اندازہ لگایا اور غلط پارٹی پر انحصار کیا۔ عربوں کا خیال تھا کہ دنیا کی بہترین دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرکے اور اپنے اڈے سپر پاور کو مہیا کرکے وہ محفوظ رہیں گے۔ اسی غلط اندازے نے عربوں کی خارجہ پالیسی کو غلط بنیادوں پر استوار کیا، جس کا خمیازہ انھیں حالیہ رمضان جنگ میں اٹھانا پڑا۔ پاکستان اور ہندوستان اگرچہ دفاعی اعتبار سے انتہائی پیشرفتہ ممالک ہیں، دونوں کے پاس ایٹم بم ہیں، تاہم معاشی سیکورٹی بالخصوص توانائی کے وسائل کی بلاتعطل اور قابل خرید فراہمی میں بری طرح سے ناکام ہوئے۔
ہرمز کیا بند ہوئی، دونوں ممالک میں پیڑول اور ایل پی جی کا بحران پیدا ہوگیا، جو اب تک جاری ہے۔ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر فروخت ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں اشیاء مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معیاری بھی ہو جاتی ہیں، جو بنیادی انسانی فراہمی کی سیکورٹی کے فقدان کا اظہار ہے۔ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا انسانی زندگی کے ہر شعبے پر اثر پڑتا ہے، مکینک کے پاس جائیں یا چپس والے کے پاس، ہر کوئی پیٹرول اور گیس کی مہنگائی کا رونا رو رہا ہے۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ایران پر ہونے والی جارحیت کے تناظر میں اپنی سلامتی کی پالیسی اور حکمت عملیوں کا از سر نو جائزہ لے۔ ہمیں ایران سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم بھی عربوں کی مانند غلط اندازے لگاتے لگاتے ان جیسی مشکل کا شکار ہو جائیں، کیونکہ مذکورہ بالا سیکورٹیز کی ہم آہنگ فراہمی کے بغیر قومی سلامتی کو مکمل تصور کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے سوا کچھ نہیں۔
ایرانی حکومت اور وہاں برسر اقتدار نظام نے اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کئی اہم حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سلامتی کے مختلف پہلوؤں کا تحفظ کیا۔ بیرونی حملوں سے تحفظ بالخصوص اپنی کلیدی اور مرکزی قیادت کی شہادت کے بعد ایران نے غیر مرکزی دفاعی ڈھانچہ تشکیل دیا، جس کے ذریعے اس نے اپنی عسکری صلاحیتوں، میزائل فورسز اور علاقائی سالمیت کا نہ فقط کامیابی سے دفاع کیا، بلکہ اپنے سے بڑے اور پیشرفتہ دشمن کو متناسب جواب دیا۔ آبنائے ہرمزپر کنٹرول ایران کی معاشی اور تزویراتی سلامتی کا مرکز ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنے، ٹال وصولی کے طریقہ کار کو نافذ کرنے اور اپنی بندرگاہوں کے تجارتی راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے، تاکہ معاشی پہیہ چلتا رہے۔
عالمی پابندیوں کے سبب ایران خودانحصاری پر مجبور ہوا، یہی وجہ ہے کہ آج اس کے پاس ضرورت کی ہر چیز ملک میں پیداہوتی ہے۔ ایرانی حکومت نے عوامی لچک اور مقامی سطح پر متحرک رہنے کی حکمت عملی کے ذریعے اپنے سیاسی ڈھانچے اور نظام کا تحفظ کیا۔ اس کے علاوہ جنگ کے دوران قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے متبادل کمانڈ کے نظام کا استعمال کیا گیا۔ سائیبر سیکورٹی کے تناظر میں ایران نے ملک کے نیٹ ورک کو عالمی نظام سے منقطع کیا اور مقامی سطح پر انٹرنیٹ فراہم کیا، تاکہ اہم تنصیبات کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ سب سے اہم چیز جو مشاہدہ کی گئی یہ تھی کہ ایرانی عوام نظام کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، ایرانی معاشرے نے ریاستی اداروں پر نہ فقط اعتماد کیا بلکہ ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون بھی کیا، جنگ ایران میں ہے لیکن نہ اس ملک میں کسی چیز کی کمی ہوئی، نہ قیمتیں بڑھائی گئیں، نہ چور بازاری کا آغاز ہوا، بلکہ اس کے برعکس قوم یک جان ہوگئی اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کیلئے مددگار بن گئے۔
پاکستانی معاشرہ جنگی حالات میں اگرچہ بہت جذباتی ہوتا ہے۔ دفاعی میدان میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑا رہتا ہے، بالخصوص اگر یہ جنگ بھارت سے ہو، تاہم خوراک کی سیکورٹی، معاشی سیکورٹی، سیاسی سیکورٹی، ماحولیاتی سیکورٹی کو اللہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کو واقعاً ناقابل تسخیر قوت بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان تمام سیکورٹیز کی ہم آہنگ فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ کسی ایک شعبے پر بے جا انحصار کاروبار تو ہو سکتا ہے تاہم کسی ریاست کی قومی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ایران جنگ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد ہی کسی بھی ریاست کی کامیابی کا ضامن ہے۔ اگر عوام ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد کرتے ہوں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں تو امریکہ جیسی سپر پاور کو جھکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور یہ سب قومی سیکورٹیز کی مختلف جہتوں کی ہم آہنگ فراہمی سے ہی ممکن ہے۔
بشکریہ اسلام ٹائمز