Skip to content

میدان کارزار اور تدبرِ قرآن: ایمان، استقامت اور فکری آزادی کا راستہ

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

تدبرِ قرآن محض تلاوت نہیں بلکہ یہ وہ بصیرت ہے، جو حق اور باطل کے معرکے میں مومن کی فکری سمت کا تعین کرتی ہے۔ قرآن کریم کے معارف میں غوطہ زن ہونا اور اس پر ایمان وہ عمل ہے، جو انسان کو مادی خوف سے آزاد کرکے دشمن کے سامنے پہاڑ جیسی استقامت عطا کرتا ہے اور یہی وہ الہیٰ پیغام ہے، جو کسی بھی قوم کی مادی غلامی کی زنجیریں توڑ کر اسے حقیقی وقار کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ تدبرِ قرآن کریم ایمان، استقامت اور فکری آزادی کا وہ راستہ ہے، جو کسی بھی قوم کو غلامی سے نکال کر حقیقی وقار عطا کرتا ہے۔ تدبر قرآن کریم کے اسی مظہر کا مشاہدہ ہم ایران میں کر رہے ہیں۔ تہران میں گزشتہ پچاس دنوں سے جاری جنگی صورتحال کے باوجود زندگی کا معمول کے مطابق رواں دواں ہونا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اللہ کی قدرت اور غیبی مدد مادی وسائل پر حاوی ہوتی ہے۔ ایرانی عوام نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ایک غیور قوم کی اصل طاقت محض میزائل اور ہتھیار نہیں ہوتے، بلکہ اس کا اصل سرچشمہ عوام کا غیر متزلزل ایمان اور اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے۔

یہ ایمانی جذبہ ہی ہے، جو دشمن کے رعب و دبدبے کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ ایران انقلاب کے آغاز سے ہی عالمی پابندیوں کا شکار رہا ہے، لیکن اللہ کی نصرت سے اس قوم نے ان طاقتوں کو شکست دی، جو خود کو دنیا کی "سپر پاور” کہتی ہیں۔ ایران کے باایمان لوگ گذشتہ دو ماہ سے سڑکوں پر موجود رہ کر استقامت کی مثال قائم کر رہے ہیں اور دشمن کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ حقیقی طاقت مادی وسائل میں نہیں بلکہ عوامی اتحاد میں ہے۔ اس معرکے کے دوران جلیل القدر جرنیلوں اور عظیم شخصیات کی شہادتوں کے باوجود عوام کے قدموں میں لرزش نہیں آئی، بلکہ جب سروں پر میزائل برس رہے تھے، تب بھی لوگ اپنے شہداء کے جنازوں میں پورے وقار کے ساتھ شریک تھے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے دل دشمن کے رعب و دبدبے سے آزاد ہوچکے ہیں۔

آج دنیا میں اڑھائی ارب سے زائد مسلمان موجود ہیں، لیکن بدقسمتی سے اکثر اہل اسلام کا  اسلام کی آفاقی تعلیمات اور قرآن کریم کے مواعظ پر ویسا پختہ اعتقاد اور عمل نظر نہیں آتا، جیسا کہ اس دین کا حق ہے۔ اہل اسلام  کی اصل قدرت اللہ کا وہ پیغام ہے، جو قرآن کریم کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر قرآن کو رہبر بنا لیا جائے تو کمال کی منزلیں طے کی جا سکتی ہیں، لیکن اس سے دوری ذلت اور رسوائی کا سبب ہے، جس کا بدیہی نتیجہ مسلم ممالک کا عالمی استکباری قوتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ جاناہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محض قرآن کی تلاوت اور حسنِ قرأت کافی نہیں ہے، بلکہ اصل ضرورت زندگیوں کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے کی ہے۔ عصرِ حاضر میں قرآن میں "تدبر” کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے، جو ہمیں عملی احکامات کی طرف لے جاتا ہے۔

مثال کے طور پر "آیت الکرسی” میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا" یہ آیت اس بات کی طرف صریح اشارہ ہے کہ کفر و استکبار کا انکار اور اس سے عملی مقابلہ کرنا ایمانِ حقیقی کی بنیادی شرط ہے۔ مزید قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: "اِنَّ اللّٰهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا” پس جب کائنات کی سب سے بڑی طاقت مومنین کے دفاع کی ضامن ہو، تو پھر کیوں نہ اسی پر کامل توکل کیا جائے۔؟ اسی طرح ایک اور مقام پر قرآن ہمیں یہ درسِ عظیم دیتا ہے کہ ہم پکار اٹھیں: "حَسْبِيَ اللّٰه لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ" یہی وہ قرآنی تدبر اور توکل ہے، جو انسان کو مادی سہاروں سے بے نیاز کر کے باطل قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیتا ہے۔

اسی قرآنی بصیرت کی روشنی میں اگر ہم دیکھیں تو خلیج فارس کے کئی ممالک میں قرآن کریم کی اشاعت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے، بین الاقوامی سطح کے حسنِ قرأت کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور حفاظِ کرام کی حوصلہ افزائی کے لیے بڑی بڑی محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن اس سب کے باوجود وہاں قرآن کی وہ بنیادی تعلیم ناپید نظر آتی ہے، جو طاغوت کے خلاف سینہ سپر ہونے کا سبق دیتی ہے۔ پس بحیثیت مسلمان  ہماری اصل ذمہ داری محض اشاعت و نمائش نہیں بلکہ مقدور بھر قرآنِ کریم کی عملی تعلیمات پر کاربند ہونا ہے۔ اسی فکری بنیاد پر، ملتِ ایران اپنے قائدین اور رہبرِ معظم کی شہادت کا حقیقی انتقام محض اسرائیل کی مادی نابودی تک محدود نہیں سمجھتی۔ شہادت کا حقیقی انتقام اس سے کہیں بلند اور فکری نوعیت کا ہے اور وہ یہ ہے کہ معاشرے اور زندگی کے تمام شعبہ جات کو استکباری و مغربی تعلیمات کے اثرات سے مکمل طور پر پاک کر دیا جائے۔

ہمارا ہدف غربی اور امریکی ثقافت کا جڑ سے خاتمہ ہونا چاہیئے، جس کے لیے مغربی فکر کو مدارس، یونیورسٹیوں اور زندگی کے ہر شعبے سے نکال باہر کرنا ناگزیر ہے۔ اس فکری انقلاب کے بغیر ہمارے ادارے اپنی روح کھو دیں گے۔ ایسی مسجد بے روح اور ناقابلِ قبول ہے، جہاں تلاوت تو ہو مگر استکبار کے خلاف آواز بلند نہ ہو اور نہ ہی باطل سے مقابلے کا درس دیا جائے۔ اسی طرح وہ یونیورسٹی اپنے مقصد میں ناکام اور باطل ہے، جہاں محض مغربی علوم کی تدریس پر اکتفا کیا جائے اور توحید و قرآن کا کوئی تذکرہ نہ ہو۔ اسلامی نقطہ نظر سے وہ تمام تعلیمی ادارے بے فیض اور مردود ہیں، جہاں بچوں کو لکھنا پڑھنا تو سکھایا جائے، لیکن انھیں اسلام، ولایت اور ظلم و استکبار کے خلاف شعور نہ دیا جائے۔

چنانچہ فکری محاذ پر دشمن سے اصل بدلہ اور حقیقی انتقام یہ ہے کہ تعلیمی اداروں سے مغربی افکار کے حامل اساتذہ کا اخراج کیا جائے اور زندگی کے تمام شعبوں میں قرآن کریم کی حقیقی تعلیمات کو نافذ کیا جائے۔ جامعات میں تدریس کے فرائض سرانجام دینے والے وہ اساتذہ اور پروفیسرز جو مغربی افکار کی ترویج کرتے ہیں، انھیں ان تعلیمی اداروں سے خارج کرنا درحقیقت فکری محاذ پر اصل انتقام ہوگا۔ مخالفین کے خلاف ہراول دستے میں لڑنے کے لیے قرآنِ کریم میں تدبر ناگزیر ہے، کیونکہ عصرِ حاضر کا اصل معرکہ ثقافت، عقیدے اور فکر کا ہے۔ تعلیمی اور فکری محاذ پر آنے والی یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے، جو ایک عالمی سطح کے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

اسی تناظر میں رہبرِ معظم آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے اولین پیغام میں ایک "جدید اسلامی تمدن” کے جلد قیام کی نوید سنائی ہے، جس کی تکمیل کے لیے تمام تر نظریں مشرقی ممالک اور بالخصوص پاکستان پر لگی ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے، جو ہمارے شہید رہبر کو خصوصی طور پر مرغوب تھا اور وہ اس ملت کے لیے اپنے دل میں ایک خاص گوشہِ محبت رکھتے تھے۔ اس قلبی تعلق اور تڑپ کی سب سے بڑی مثال شہید رہبر کے وہ خطباتِ جمعہ ہیں، جن میں انھوں نے پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے موقع پر وہاں کے مصیبت زدہ بھائیوں کے دکھ کو اس طرح بیان کیا، جیسے وہ ان کا اپنا ذاتی دکھ ہو۔ ان کی نظر میں پاکستان محض ایک پڑوسی ملک نہیں، بلکہ اسلام کا ایک مضبوط قلعہ تھا۔

پاکستانی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے رہبرِ معظم آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس اہمیت کو ان الفاظ میں واضح کیا: "پاکستان ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے اور ہم اس کے ساتھ بہترین برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ہمارے لیے پڑوسی ممالک کی اہمیت اپنی جگہ، مگر ہمارے شہید لیڈر پاکستان کو ایک خاص اور ممتاز مقام دیتے تھے۔” پاکستان کے ساتھ ایران کا یہ تعلق محض سیاسی یا جغرافیائی مفادات تک محدود نہیں، بلکہ اس کی اصل بنیاد "قرآنِ کریم” اور "ایمانی اخوت” کے لازوال رشتے پر قائم ہے۔ درحقیقت یہی وہ واحد راستہ ہے، جس پر ثابت قدمی سے چل کر استکبار کا خاتمہ ممکن ہے اور جس کے ذریعے دنیا کے نقشے پر ایک ایسے عادلانہ نظام کا قیام عمل میں لایا جا سکے گا، جو امتِ مسلمہ کا حقیقی ہدف اور انبیاء و شہداء کا دیرینہ خواب ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز