تحریر: سید اسد عباس
معروف کالم نگار اور رحمت للعالمین اتھارٹی کے چئیرمین جناب خورشید ندیم کا "روزنامہ دنیا” کی مورخہ 18 اپریل 2026ء کی اشاعت میں شائع ہونے والا آرٹیکل "ایران عرب معاہدہ کب ہوگا؟” نظر سے گزرا جس میں مؤلف نے ایران عرب مسئلے کی تاریخی، فرقہ وارنہ بنیادوں پر روشنی ڈالی ہے، ساتھ اپنے تئیں اس اہم مسئلہ کے حل کے لیے چند ایک تجاویز بھی پیش فرمائی ہیں۔ راقم نے اکثر روشن فکر اہل سنت لکھاریوں کو یہ بات کرتے دیکھا ہے۔ وہ جب بھی ایران کے مسئلہ پر بات کریں گے ساتھ عرب دنیا کا تڑکا ضرور لگائیں گے اور پھر مسئلہ کو فرقہ وارانہ نیز تاریخی مخاصمت کا رنگ دینے کی کوشش کریں گے۔ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں کو جاننے سے پہلے آئیے خورشید ندیم صاحب کی تحریر کے چند اقتباسات پر نظر کرتے ہیں۔ خورشید ندیم اپنے اس کالم میں تحریر کرتے ہیں:
"اصل آزمائش باقی ہے اور وہ ہے عرب و ایران کو ایک میز پر بٹھانا۔ اہلِ عرب اور اہلِ فارس میں پُرامن بقائے باہمی کا معاہدہ، مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ یہ کام امریکہ اور ایران کو ایک معاہدے پر متفق کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس کی جڑیں معاصر سیاست ہی میں نہیں تاریخ میں بھی بہت گہری ہیں۔ امریکہ اور ایران کا اختلاف چند عشروں کو محیط ہے۔ عرب و فارس کا جھگڑا صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ابتدا میں دونوں جس اسلام کو مانتے تھے‘ اس کے خدوخال ایک جیسے تھے۔ پھر اختلاف نے امتیازات کو نمایاں کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ "دو اسلام” کا تاثر گہرا ہوگیا۔ غالی گروہوں نے ان امتیازات کو تشخص بنا لیا۔ بات تکفیر تک جا پہنچی۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ پہلے جو کچھ کتابوں میں تھا، بعد میں چوکوں اور چوراہوں میں آ گیا”۔
اپنے کالم میں مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:
"اس کے لیے چار کام ناگزیر ہیں۔ ایک یہ کہ ایران اپنی تمام پراکسیز بند کرے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایران کی سیاسی قیادت ان ہاتھوں میں ہو جن کے سیاسی شعور کی جڑیں تاریخ کے بجائے عصرِحاضر اور مذہبیات کے بجائے مذہبی اخلاقیات میں ہوں۔ ایران عراق کے ماڈل کو اپنا لے جہاں دینی و سیاسی قیادت کو عملاً الگ رکھا گیا ہے۔ اہلِ مذہب کی طاقت کا انحصار ان کی اخلاقی قوت میں ہے اور یہ ریاستی قوت سے زیادہ ہے۔ سیاسی معاملات اہلِ سیاست کے حوالے ہیں۔ یہ دوسرا کام ہے۔ تیسرا کام یہ ہے کہ عرب امریکہ کے دفاعی حصار سے نجات پائیں۔ پاکستان انھیں ضمانت دے کہ وہ کسی خارجی جارحیت کے خلاف ان کا دفاع کرے گا۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے کو پھیلایا جائے اور اس میں ترکیہ اور ایران شامل ہوں۔ چوتھا یہ کہ سب مل کر فلسطینیوں کی خود مختار ریاست کے قیام اورگریٹر اسرائیل کے منصوبے کی ناکامی کے لیے متفقہ حکمتِ عملی اپنائیں”۔
خورشید ندیم صاحب کے تمام مشورے ایران کے لیے تھے وہ آخر میں لکھتے ہیں:
"ایران کے حالات اور تاریخ سے باخبر میرے ایک محترم دوست کی رائے ہے کہ ایران دونوں باتوں پر آمادہ نہیں ہوگا۔ وہاں کے سیاسی نظام کی بنیادیں ولایتِ فقیہ کے تصور میں پیوست ہیں۔ اس نظام کو اب کم و بیش پچاس برس ہونے کو ہے اور یہ جڑ پکڑ چکا۔ اس میں قیادت کی دوئی کے خیال کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ دوسرا یہ کہ ایران حزب اللہ کو کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا۔ اس مؤقف میں وزن ہے”۔
یہ کہنا کہ ایران اور عربوں کا اختلاف صدیوں پرانا اور فرقہ وارانہ ہے، آدھا سچ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس کشمکش کو”فرقہ وارانہ” اور تاریخی کشمکش کا رنگ دے کر ان اصل اسباب پر پردہ ڈالا جاتا ہے جو خطے میں اختلاف کا باعث ہیں۔ یہاں چند نکات قابل غور ہیں۔
ایران کی نظریاتی اساس محض ایک مذہبی فرقہ نہیں بلکہ ایک "انقلابی بیانیہ” ہے جو سامراج دشمنی پر مبنی ہے۔ ایران کا نظامِ "ولایتِ فقیہ” جب اپنے قدم جماتا ہے تو وہ خطے کے ان مطلق العنان اور موروثی عرب حکمرانوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے جو اپنی کرسیاں بچانے کے لیے مغربی طاقتوں کے محتاج ہیں۔ یہ حکمران ایران سے اس لیے نہیں ڈرتے کہ وہ شیعہ ہے، بلکہ اس لیے ڈرتے ہیں کہ ایران کا "انقلابی ماڈل” ان کی عوام کو بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی عرب حکمران شاہ ایران کے عجمی اور شیعہ ہونے کے باوجود یار غار تھے۔
صورتحال یہ ہے کہ جب عرب حکمران اپنی بقا کے لیے امریکہ کی دفاعی چھتری کے نیچے پناہ لیتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ "ابراہیمی معاہدات” کے ذریعے اسٹریٹجک تعلقات قائم کرتےہیں تو وہ خود کو ایرانی فکر اور بیانیہ کے مقابل کھڑا کر دیتے ہیں۔ یہاں اختلاف "عقیدے”کا نہیں بلکہ "سیاسی اتحاد” اور ذاتی مفادات کا ہے۔ عرب حکمران اسرائیل کو اپنا سٹریٹجک پارٹنر مانتے ہیں، جبکہ ایران اسرائیل کو خطے کے لیے ایک خطرہ قرار دے کر اس کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی حمایت کرتا ہے جس میں سنی و زیدی عرب بھی شامل ہیں۔ یہ ایک سیاسی تصادم ہے، جسے فرقہ واریت کا نام دینا علمی بددیانتی کے مترادف ہے۔
یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ عرب ایران اتحاد تب تک عملی نہیں ہوسکتا جب تک عرب حکمران واشنگٹن اور تل ابیب کی غلامی سے باہر نہ نکل آئیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان، ترکیہ اور ایران مل کر بھی کوئی دفاعی معاہدہ کریں، تو کیا وہ عرب حکمران اس کا حصہ بن سکیں گے جو اپنی عسکری پالیسیوں اور دفاع کے لیے پینٹاگون کے محتاج ہیں؟
خورشید ندیم صاحب کا یہ تقاضا کہ پاکستان عربوں کو تحفظ کی ضمانت دے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ عربوں کا ان عربوں سے کوئی فکری، وصفی اور عملی تعلق نہیں جو فارس و روم کو گھوڑوں پر فتح کرتے رہے، لہذا اختلاف کو عرب عجم کا تاریخی مسئلہ کہنا بھی درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی اصل”فالٹ لائن” تاریخ کی کتابوں میں نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ وابستہ ان کے سیاسی مفادات میں ہے۔ ایران اور عرب حکومتوں کے مابین امن تب ہی ممکن ہے جب وہ بیرونی سامراجی اثر سے نکل کر ایک آزاد اور خود مختار بلاک کے طور پر سوچنا شروع کریں۔ یہ کشمکش مذہبی نہیں، سیاسی ہے اور اس کا حل فرقہ وارانہ مناظرے میں نہیں، بلکہ خطے کی خودمختاری کی بحالی میں ہے۔
بشکریہ اسلام ٹائمز