تحریر: سید اسد عباس
کسی دیہات میں گاؤں کے چوہدری اور مسجد کے امام، جو شاہ بھی تھے، کے مابین کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔ چودھری صاحب اپنی طاقت کے نشہ میں پہلے تو شاہ صاحب پر خوب گرجے، مگر جب شاہ صاحب نے آگے سے برابر کا جواب دیا تو چوہدری کو محسوس ہوا کہ اگر یہ جھگڑا جاری رہا تو میری گاؤں میں ٹکے کی عزت نہیں رہے گی۔ چوہدری چاہتا تھا کہ کسی طرح سے شاہ صاحب کو منایا جائے کہ وہ چند باتوں کو مان لیں، بدلے میں چوہدری بھی ان کی بعض باتیں مان لے گا۔ مگر مشکل یہ تھی کہ پیغام شاہ صاحب تک کیسے پہنچایا جائے۔ اپنے نمائندے بھیجتا ہے تو شاہ صاحب قبول نہیں کریں گے، شاہ صاحب کے ساتھیوں سے کہتا ہے تو اس کی عزت جاتی ہے۔
ایسے میں اس کی نظر انتخاب گاؤں کے نائی پر ٹھہری، جو شاہ صاحب کی بھی حجامت بناتا تھا اور چوہدری کے بھی کام کاج کر دیا کرتا تھا۔ چوہدری نے نائی کو بلوا بھیجا اور اسے خاصا پروٹوکول دیا، تاکہ وہ چوہدری صاحب کے فضائل شاہ صاحب کے سامنے بیان کرے اور کسی طرح شاہ صاحب کو مصالحت پر آمادہ کرے۔ نائی گھر واپس آیا تو اس کا پورا خاندان گھر جمع تھا۔ نائی کی چال بدلی ہوئی تھی، وہ آتے ہی چارپائی پر بیٹھ گیا اور بولا چوہدری ہوری مینوں دروازے تک چھوڑن آئے (مجھے دروازے پر چھوڑنے آئے)، پھر اہل کنبہ کی جانب سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔ سانوں پوری گل دس (پوری بات بتاؤ)۔ نائی نے اول سے لے کر آخر تک ساری روداد سنا دی، جس میں بہت دقیق تفصیلات بھی ذکر کیں، جیسا کہ چوہدری ہوراں مینوں شیشے دے گلاس وچ پانڑی دتا( شیشے کے گلاس میں پانی دیا)، چوہدری ہوراں مینوں آپنڑی نویں جتی دتی (اپنی نئی جوتی دی) وغیرہ وغیرہ۔
بہرحال نائی شاہ صاحب کے پاس گیا اور بھرپور کوشش کرکے ان کو بھی راضی کر لیا کہ وہ چوہدری کی بعض باتیں مان جائیں، بدلے میں ان کی باتیں بھی مان لی جائیں گی۔ یوں یہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر ضرور ہوتا ہے، یہ اس نائی کا ہنر تھا کہ اس نے گاؤں میں ہونے والے اس جھگڑے میں خود کو غیر جانبدار رکھا اور اس کا دونوں فریقین کے ہمراہ برتاؤ بھی مناسب تھا، جس کے سبب جھگڑے کے خاتمہ کے لیے اس کا انتخاب کیا گیا۔ ایسے افراد اپنی خوشامد یا شیریں زبانی سے بڑے بڑے کام نکلو ا لیا کرتے تھے اور پھر اپنی ان کامیابیوں کا حوالہ دے کر اپنے پھنسے ہوئے کام بھی نکلوا لیتے تھے۔ اب ایسے لوگوں کی بہت کمی ہوگئی ہے، تاہم خال خال اب بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں۔
یقینا آپ کے علم میں ہے کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت دو ہفتے کے لیے روک دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا، اطلاعات ہیں کہ ایران اور امریکا کے مابین اعلی سطحی مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ ٹرمپ نے اپنے انتہائی بدتمیزی اور فرعونیت پر مبنی بیانات کے بعد کل ایک بیان دیا کہ مجھے ایران کی جانب سے ایک دس نکاتی امن فارمولا ملا ہے، جو بات چیت کے لیے قابل عمل بنیاد ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل ایک پندرہ نکاتی فارمولا پیش کیا تھا، جس میں ایران سے ہتھیار پھینک کر مکمل اطاعت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایران نے ان پندرہ نکات کو فی الفور مسترد کر دیا۔
سوال تو بنتا ہے کہ اب جو فارمولا ایران نے پیش کیا ہے اور جسے ٹرمپ نے قابل عمل بنیاد قرار دیا ہے، وہ ہے کیا: الجزیرہ کے سفارتی ایڈیٹر جیمز بیز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے 10 نکاتی منصوبے کی تفصیلات درج ذیل ہیں، جن پر اتفاق رائے کی کوشش کی جا رہی ہے: ایران کا مجوزہ 10 نکاتی امن منصوبہ
1۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت نہ کرنے کا قطعی عہد۔
2۔ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کا گزرنا ایرانی مسلح افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ اس عالمی آبی گزرگاہ پر ایران کا اثر و رسوخ برقرار رہے گا۔
3۔ ایران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنا۔
4۔ ایران کے خلاف تمام ابتدائی (Primary) اور ثانوی (Secondary) امریکی پابندیوں کا خاتمہ۔
5۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران کے خلاف اب تک منظور ہونے والی تمام قراردادوں کو ختم کرنا۔
6۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف موجود تمام قراردادوں کی منسوخی۔
7۔ خطے میں موجود تمام فوجی اڈوں سے امریکی جنگی دستوں کا مکمل انخلا۔
8۔ جنگ کے دوران ایران کو ہونے والے نقصانات کا مکمل ازالہ کرنا۔ یہ معاوضہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کیے جانے والے "ٹرانزٹ واجبات” (Payments) کے ذریعے ادا کیا جائے گا۔
9۔ بیرون ملک منجمد کیے گئے تمام ایرانی اثاثوں اور جائیدادوں کو فوری طور پر بحال کرنا۔
10۔ ان تمام نکات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک مستقل اور پابند (Binding) قرارداد کی شکل میں منظور کرنا۔
ٹرمپ کا اپنے پندرہ نکات سے ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکات تک کا سفر کوئی معمولی سفر نہیں ہے، اس سفر کے دوران ایران نے متعدد قربانیاں پیش کیں، آبنائے ہرمز پر اپنا کنڑول برقرار رکھا، خلیج میں اہم تزویراتی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اسرائیل کے اہم مراکز پر کامیاب حملے کیے، چالیس روز کی مسلسل اور جارحانہ بمباری برداشت کی اور طبس ٹو یعنی اصفہان میں امریکی مشن کو ناکام کیا۔ ایران کی اس استقامت، صبر اور پامردی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ نیٹو اتحادیوں کو مدد کے لیے پکارتا رہا، تاہم کسی نے آواز نہ سنی، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، سپین نے تو واضح طور پر کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔
پوپ لیون نے صلیبی جنگ کے غبارے سے ہوا نکال دی، امریکی قانون دان، مقننہ کے ادارے ٹرمپ کے مواخذے کا سوچنے لگے، عسکری قیادت نے بغاوت کر دی، جس کے سبب آٹھ کے قریب جرنیلوں کو جبری رخصت کر دیا گیا۔ لاکھوں کی تعداد میں امریکی سڑکوں پر نکل آئے کہ ہم بادشاہت کو قبول نہیں کرتے۔ ملک میں بڑھتا ہوا معاشی اور سیاسی دباؤ اور عالمی سطح پر سفارتی تنہائی ٹرمپ کے لیے مصیبت بن چکی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ پھنسنے کے ساتھ ساتھ تھک گیا تھا، تاہم اس کا ساتھی شیطان خوفزدہ ہے۔ وہ ایران کے خطرے کا مستقل خاتمہ چاہتا تھا۔ ٹرمپ کی ایران کے مقابل پسپائی ایک دو برسوں کی کہانی نہیں ہے، اس نے مشرق وسطی کا نقشہ بدل دیا ہے۔
آج امریکی اپنی زبان سے کہہ رہے ہیں کہ ایران کے دس نکات کو قبول کرنا نیز جنگ بندی نے ایران کو دنیا کی چوتھی طاقت بنا دیا ہے۔ میرے خیال میں ٹرمپ انتظامیہ مذاکرات میں کسی بھی نکتے کو قبول نہیں کرے گی، بلکہ وہ کوشش کرے گی کہ مذاکرات کے ادوار جاری رہیں اور حالات معمول پر آجائیں۔ اس کی زیادہ سے زیادہ یہ خواہش ہوگی کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے، خواہ ایرانی نگرانی میں ہی کیوں نہ ہو۔ اطلاعات ہیں کہ چھوٹا شیطان جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس نے آج لبنان کے علاقے ضاحیہ پر شدید بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے وزیراعظم پاکستان کو اس سلسلے میں شکایت کی ہے، تاہم چھوٹا شیطان نہیں رکا، جس کے جواب میں ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ دنیا کو اس چھوٹے شیطان کا کوئی حل کرنا ہوگا، ورنہ خلیج فارس اور عالم انسانیت میں امن کا امکان بہت کم ہے۔ میں اپنے قارئین سے دست بستہ معذرت کے ساتھ یہاں ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنی مسلسل بے وقوفیوں کے بعد کل رات ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا، ورنہ نہ جانے آج صبح اس دنیا اور مشرق وسطی کی کیا حالت ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹرمپ چھوٹے شیطان کو سمجھائے کہ انسانوں کی مانند زندگی گزارو، اگر وہ نہیں سنتا تو اسے تنہا چھوڑ دے۔ یہ انسانی تجربہ ہے کہ مالک کی موجودگی میں پالتو کتا اکثر بہت غراتا اور اچھل کود کرتا ہے، جیسے ہی مالک چلا جائے، اسے نیند آجاتی ہے۔
بشکریہ اسلام ٹائمز