ایران نے عزت و وقار کا سودا نہیں کیا، موجودہ جنگ دراصل ایک نظریاتی معرکہ ہے: مفتی گلزار احمد نعیمی

اسلام آباد ( ) جماعت اہلِ حرم پاکستان کے زیر اہتمام “یومِ القدس اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال” کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت امیر جماعت اہلِ حرم پاکستان مفتی گلزار احمد نعیمی نے کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا خصوصاً امریکہ نے سیکولرزم اور لامذہبیت کو فروغ دینے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان مذہب سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو سکتا کیونکہ مذہب انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے نظام میں مذہب کو بطور ضابطۂ حیات اختیار کیا ہے اور اسی بنیاد پر وہ عزت، غیرت اور خودمختاری کے اصولوں پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی کشمکش کی صورت اختیار کر چکی ہے، اس لیے امتِ مسلمہ کو فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر اتحاد اور بصیرت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
مرکزی رہنما مجلس وحدت مسلمین پاکستان سید ناصر عباس شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور وقار کے معاملے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری صورتحال نے عالمی سیاست، توانائی کی منڈی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور ایران کی حکمتِ عملی نے عالمی طاقتوں کو نئی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین، لبنان اور دیگر مظلوم اقوام کی جدوجہد نے یہ واضح کر دیا ہے کہ طاقت اور جبر کے باوجود ایمان، حوصلہ اور آزادی کی خواہش کو دبایا نہیں جا سکتا، اور یہی جذبہ آج عالمِ اسلام میں مزاحمت اور خودداری کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امتِ مسلمہ اتحاد، بصیرت اور ثابت قدمی کے ساتھ اس مرحلے کا مقابلہ کرے۔
صدر نشین البصیرہ ڈاکٹر علی عباس نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایمان اور وقار کے ساتھ کھڑی قوموں کو طاقت کے زور پر جھکایا نہیں جا سکتا۔ فلسطین کے عوام نے بے مثال قربانیوں کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ ظلم و جبر کے باوجود ان کا رشتہ مسجدِ اقصیٰ اور آزادیٔ بیت المقدس سے کبھی منقطع نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین شہیر حیدر ملک سیالوی نے کہا کہ فلسطین کے عوام مسلسل قربانیاں دے کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ظلم و جبر کے باوجود ان کا تعلق مسجدِ اقصیٰ اور آزادیٔ بیت المقدس سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مزاحمتی پالیسی دراصل پورے عالمِ اسلام کے مفادات سے جڑی ہوئی ہے اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ اور دباؤ کے باوجود ایران مظلوم اقوام کی حمایت میں کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کو محض علامتی اقدامات کے بجائے اتحاد، جرات اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے فلسطین کی آزادی اور امت کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
سیمینار سے پیر میجر محمد سہیل عالم صابری، ڈاکٹر محمد شیر سیالوی اور قاری عمیر آصف نے بھی خطاب کیا، جبکہ علامہ محمد نعمان خان، اسرار احمد نعیمی، علامہ سلیم، پروفیسر محمد احسان، سفیر احمد، چوہدری لیاقت، محمد راحیل شریف، وقاص حمید سمیت کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔