Skip to content

یوم آزادی پاکستان و یوم القدس سیمینار ۲۰۲۶

ایران کو وینزویلا سمجھنا ڈونلڈ ٹرمپ کی خام خیالی ہے، ایمانی قوت کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی: ملی یکجہتی کونسل پاکستان

1

اسلام آباد (پریس ریلیز):ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام اور "البصیرہ” کے زیر انتظام "آزادیٔ فلسطین و یوم القدس سیمینار” منعقد ہوا، جس میں ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت نے فلسطین و کشمیر کی آزادی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا۔ سیمینار میں مقررین نے امریکہ اور اسرائیل کی استکباری پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی بقا فلسطین کی آزادی سے وابستہ ہے۔مقررین نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ یوم القدس پورے ملک میں بھرپور انداز میں منایا جائے گا اور تمام دینی و سیاسی قائدین یوم القدس کے جلوسوں اور ریلیوں میں شرکت کریں گے تاکہ فلسطینی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔

سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے خطاب میں حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ ہمیں ایک وقت کا کھانا ملے یا نہ ملے، مگر ہم عزت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔” انہوں نے ایرانی عوام کی استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس قوم کی مائیں اپنے بچوں کو شہادت کے لیے تیار کر رہی ہوں اور جس کی زبانوں پر سختیوں کے باوجود اللہ کی کبریائی کا نعرہ ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

امیر جماعت اہل حرم مفتی گلزار نعیمی نے زور دیا کہ قومیں ایٹم بم سے نہیں بلکہ ایمانی قوت سے مضبوط ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے پاس میزائل ٹیکنالوجی نہ بھی ہوتی، تب بھی ان کا جذبہِ ایمانی طاغوتی قوتوں کو شکست دینے کے لیے کافی تھا۔

مرکزی رہنما مجلس وحدت مسلمین، سید ناصر عباس شیرازی نے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 1937 میں ہی فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر سے بھی پہلے فلسطین کے لیے آواز اٹھائی اور پہلا نیشنل فنڈ بھی فلسطینیوں کے لیے قائم کیا گیا۔

شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ قاتل اسرائیل کے خلاف جرات مندانہ مؤقف اپنائیں اور عالمِ اسلام میں فلسطینیوں کے حق میں صفِ اول کا کردار ادا کریں۔

صدر نشین البصیرہ، ڈاکٹر علی عباس نقوی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بازگشت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "قائد اعظم نے اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا تھا، آج اس مؤقف سے انحراف ناقابلِ قبول ہے۔” انہوں نے غزہ میں جاری مظالم کے دوران اسرائیل نواز شخصیات کو اعزازات دینے کی کوششوں کو فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا۔

چیرمین تحریک نوجوانان پاکستان، عبداللہ حمید گل نے عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ آج سفارتی اور معاشی طور پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے سکیورٹی کے لیے دی گئی رقم کی واپسی کے مطالبات امریکی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔

سیمینار سے ڈاکٹر طارق سلیم، مولانا عبدالقدوس، علامہ سید وزیر کاظمی، ڈاکٹر امتیاز، اور ڈاکٹر محمد شیر سیالوی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں طاہر رشید تنولی، نصر اللہ رندھاوا، عمران شاہد گوندل، قاری عمیر آصف، اسرار احمد نعیمی، محمد راحیل شریف سمیت مرد و خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔