(بسلسلہ تیسری برسی بانی البصیرہ ، داعی اتحاد امت علامہ سید ثاقب اکبرؒ)
اس کانفرنس کا اہتمام بانی البصیرہ ، داعی اتحاد امت علامہ سید ثاقب اکبر ؒ کی تیسری برسی کی مناسبت سے کیا گیا جس میں علماء، دانشوروں ، ادباء، اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ خطباء میں اسلامی تحریک کے سربراہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی ، جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی ، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی راہنما ڈاکٹر سید ناصر عباس شیرازی ، وکیل مطلق آیت اللہ سیستانی شیخ انور علی نجفی ، جامعہ المصطفی شعبہ مدارس کے مسئول علامہ سید سلیمان نقوی ، تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبد اللہ حمید گل ، البصیرہ کے سربراہ ڈاکٹر علی عباس نقوی ، جامعہ مصطفی العالمیہ کے شعبہ قرآنیات کے سربراہ علامہ خاور عباس ، شیخ زید اسلامک انسٹیٹیوٹ پشاور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد، تنظیم اسلامی کے مرکزی راہنما ڈاکٹر ضمیر اختر ، یو ای ٹی ٹیکسلا کے پروفیسر ڈاکٹر رب نواز ، جامعہ نعیمیہ للبنات کی پرنسپل محترمہ ثناء فاطمہ نعیمی ، آئی ایس او کے مرکزی صدر سید امین شیرازی ، معروف خطیب علامہ اسد حسنی، مفتی طیب شاہ گیلانی ، مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی سربراہ سید زینب بنت الہدی شامل تھے ۔ تقریب کے دوران ماہنامہ پیام کے اشاریہ نمبر کی رونمائی بھی کی گئی نیز بانی البصیرہ کی تالیفات کو بھی خاصی پذیرائی ملی ۔

تلاوت کلام پاک : زینت القراء قاری انعام الحق اعوان
نعت رسول مقبول ؐ : زینت القرآء قاری محمد عمیر عاصف
وکیل مطلق آیت اللہ سیستانی و مہتمم الکوثر یونیورسٹی شیخ انور علی نجفی
"عظمتِ قرآن اور صاحبِ قرآن دو الگ عظمتیں نہیں ہیں، یہ ایک ہی عظمت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہے۔ ہمیں اپنے مسالک کو چھوڑ کر اللہ، قرآن اور رسولﷺ کی عظمت پر متفق ہونا پڑے گا۔ اگر ہمارے مسلک میں کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن یا رسولؐ کی عظمت کے منافی ہے، تو اسے ہمیں چھوڑنا چاہیے۔ ہم دشمنانِ اسلام کے ساتھ مل کر اسرائیلیات اور تحریف کے الزامات کو جگہ نہ دیں بلکہ قرآن کی اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ اس میں تحریف ممکن نہیں ہے۔ ہمیں ان روایات کو سینے سے نہیں لگانا چاہیے جو قرآن کی عظمت کے خلاف ہوں۔

علامہ ڈاکٹر سید سلمان نقوی مسئول شعبہ مدارس جامعہ المصطفی العالمیہ
"سید ثاقب اکبر نقوی مرحوم میرے دیرینہ ساتھی تھے۔ ان کے ساتھ میرا انقلابی سفر 1981ء میں ایران کے دورے سے شروع ہوا جہاں ہمیں امام خمینیؒ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ ہمیں حفظِ قرآن سے زیادہ اس کی قراءت اور فہم پر توجہ دینی چاہیے۔ محض ازبر پڑھ لینا کافی نہیں، حفظ کا اصل مرتبہ اسے سمجھنا ہے۔ اس سے اگلا درجہ عمل پیرا ہونا ہے اور پھر اس پیغام کو معاشرے میں نشر کرنا ہے۔ آج کے دور میں ہم خود کو محدود نہیں کر سکتے، ہمیں عالمی نظامِ ولایت کے ساتھ جڑ کر دشمنانِ قرآن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔”
علامہ طیب شاہ گیلانی
آغا ثاقب اکبر نقوی صاحب اعتدال کی ایک اعلیٰ مثال تھے۔ وہ اس قدر وسیع الظرف تھے کہ اختلافی باتوں پر بھی مسکرا کر داد دیتے تھے۔ آج ہم نے قرآن سے دوری اختیار کر لی ہے، جبکہ قرآن تدبر کے لیے آیا تھا، فتوی بازی کے لیے نہیں۔ حضور ﷺ نے قرآن اور عترت (اہل بیتؑ) کی صورت میں دو ثقل چھوڑے تھے، لیکن افسوس کہ ہم نے دونوں کو چھوڑ دیا۔ امت کا لفظ ‘امام’ سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے کہ امت اپنے رہبر کے پیچھے چلے۔ ہمیں فرقہ واریت سے نکل کر امتِ واحدہ بننا ہوگا۔ اسلام آباد میں جو حالیہ دلخراش واقعہ ہوا، اس پر خوشی منانا فرقہ واریت کی بدترین مثال ہے۔
علامہ سید اسدرضا حسنی
قرآن ایک آفاقی کتاب ہے جو عبد اور معبود کے درمیان گفتگو کا سلسلہ ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ لوگ قرآن میں تدبر کیوں نہیں کرتے، کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں؟ قرآن مرکزِ اتحاد ہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم ہے اور وہ رسی قرآن اور اہل بیتؑ ہیں۔ کتاب کو سمجھنے کے لیے معلم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لوگ قرآن کی آیات میں غور نہیں کرتے، قرآن انھیں چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیتا ہے۔ ہمیں قرآن کی تلاوت کے ساتھ اس کے احکامات پر سوچ بچار کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر ضمیر اختر مرکزی راہنما تنظیم اسلامی
ڈاکٹر ضمیر اختر خان صاحب نے اپنے خطاب میں سورت البینہ اور سورت الطلاق کے حوالے سے یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ قرآن اور صاحبِ قرآن ﷺ ایک ایسی اکائی ہیں جنہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا ناممکن ہے، کیونکہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کی عملی تفسیر اور مجسم پیکر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ فہم، عمل اور نظامِ زندگی میں نفاذ کے لیے نازل ہوا ہے، اس لیے محض زبانی عقیدت کے بجائے عملی اطاعت کی ضرورت ہے۔ مقرر نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں اس انقلابی مشن کا وارث قرار دیا اور نصیحت کی کہ وہ اپنی زندگیوں کو نشے اور فحاشی جیسی برائیوں سے پاک کر کے سچائی، نماز اور حرام سے انکار کے ذریعے ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب برپا کریں، نیز سوشل میڈیا کو اسلام کی ترویج کے لیے استعمال کرتے ہوئے نبی ﷺ سے وفاداری کا حق ادا کریں۔ آخر میں انہوں نے بانیِ البصیرہ سید ثاقب اکبر نقوی مرحوم کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے مشن کے تسلسل کو معاشرے کے لیے بہترین صدقہ جاریہ قرار دیا۔ڈاکٹر صاحب کا مفصل مقالہ پیام کے قرآن نمبر میں شائع کیا جائے گا ۔ ان شاء اللہ
سیدہ زینب بن الہدای مرکزی راہنما مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین
سید ثاقب اکبر نقوی مرحوم کی صاحبزادی نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ برسی کا اصل مقصد محض قرآن خوانی نہیں بلکہ ان کے والد کے افکار کی عملی پیروی ہے، جس کے لیے انھوں نے علمائے کرام کو مرحوم کی اہم گزارشات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ انھوں نے بتایا کہ ثاقب اکبر صاحب نے مدارس میں فرقہ وارانہ تقسیم ختم کرنے کے لیے یہ تجویز دی تھی کہ بنیادی دینی تعلیم تمام مسالک کے طالب علموں کو اکٹھے دی جائے اور فقہی اختلافات کو علمی دلائل تک محدود رکھا جائے، تاکہ انتہا پسندی کا خاتمہ ہو سکے۔ مزید برآں، انھوں نے مساجد کو ہر مسلک کے مسلمان کے لیے کھولنے اور وہاں تفرقہ بازی کے ٹیگ ہٹانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عبادت گاہیں امن کا گہوارہ بن سکیں اور ملک حالیہ دہشت گردی اور بم دھماکوں جیسے سانحات سے محفوظ رہ سکے۔ صاحبزادی نے واضح کیا کہ ان کے والد نے اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ نصاب بھی مرتب کیا تھا جس کا مقصد لوگوں کو فقہ پرستی سے نکال کر طاغوتی قوتوں کے خلاف متحد کرنا تھا، اور اب یہ ذمہ داری علمائے دین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ انھیں عملی جامہ پہنائیں۔
ثنا ء فاطمہ نعیمی پرنسپل جامعہ نعیمیہ للبنات
آج کی مسلمان بیٹی سوشل میڈیا، فیشن اور مغربی تہذیب کی نمائش میں الجھ کر اپنی اصل عفت اور حیا کھو رہی ہے، حالانکہ حقیقی وقار اور سنگار اسلامی اقدار اور پردے میں ہی پوشیدہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان خواتین کو غیر مسلموں کی اندھی تقلید چھوڑ کر قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ ان کی گود سے بھی تاریخ ساز شخصیات جنم لے سکیں اور وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
ڈاکٹر رب نواز پروفیسر یو ای ٹی ٹیکسلا
پروفیسر رب نواز نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا محض قرآن پڑھنا کافی نہیں بلکہ اسے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اصل کامیابی ہے۔ انھوں نے حدیث "رُبَّ قَارِئٍ…” کے حوالے سے متنبہ کیا کہ بعض اوقات قرآن پڑھنے والا اس کے احکام کی خلاف ورزی کر کے اس کی لعنت کا مستحق بھی بن سکتا ہے۔ قرآن اور صاحبِ قرآن ﷺ کی عظمت تبھی ہمیں فائدہ پہنچائے گی جب ہم خود ان سے جڑ کر عظیم بنیں گے، کیونکہ اللہ نے کلامِ الٰہی سے جڑنے والی ہر چیز (جبرائیلؑ، نبی ﷺ اور امت) کو افضلیت عطا کی ہے۔ مقرر نے واضح کیا کہ قرآن کے ارفع مقاصد جیسے جان، مال اور عزت کی حفاظت سے جڑنے میں مشکلات تو آتی ہیں مگر یہی عمل انسان کو حقیقی "اطمینانِ قلب” عطا کرتا ہے۔ آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جو معاشرہ یا قوم قرآن کو پسِ پشت ڈال کر اس کے احکام کی مخالفت کرتی ہے، وہ سہولتوں کے باوجود بے سکونی، ڈپریشن اور تنگیِ زندگی کا شکار رہتی ہے، لہٰذا پاکستان اور امتِ مسلمہ کی ترقی کا واحد راستہ قرآن کے بامعنی فہم اور اس پر عمل پیرا ہونے میں پنہاں ہے۔
علامہ سید خاور عباس مسئول شعبہ قرآنیات جامعہ المصطفی العالمیہ
سید ثاقب اکبر نقوی مرحوم ایک ہمہ جہت اور استثنائی شخصیت تھے، ان کی علمی دسترس، تاریخی شعور اور اتحادِ امت کے لیے ان کی مخلصانہ کوششیں لائق تحسین نے۔ علامہ سید خاور عباس نے سید ثاقب اکبر کے مشن ‘اعتصام بحبل للہ’ کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور ایک اہم علمی تجویز پیش کی کہ قرآن مجید سے ‘اصولِ زندگی’ کا استخراج کیا جائے تاکہ ایک سعادت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انھوں نے اس حوالے سے ‘مفاتیح الحیات’ جیسی کتب کی مثال دیتے ہوئے ادارہ التنزیل کو مشورہ دیا کہ وہ قرآنی اصولوں پر مبنی ایک جامع ضابطہ حیات مرتب کرنے کا بیڑا اٹھائے، جو وقت کی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان بزرگ شخصیات کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اخلاص کے ساتھ قرآن اور صاحبِ قرآن کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ڈاکٹر رشید احمد سربراہ شیخ زید انسٹیٹیوٹ پشاور
ڈاکٹر رشید احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے لیے تین اہم نکات پیش کیے ہیں۔ اول، انھوں نے "پیغامِ پاکستان” نامی ریاستی بیانیے کی اہمیت پر زور دیا، جسے تمام مسالک کے علمائے کرام کی تائید حاصل ہے، اور اسے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے لیے بنیاد قرار دیا۔ دوم، انھوں نے سید ثاقب اکبر نقوی مرحوم کی کتاب "پاکستان کے دینی مسالک” کی تعریف کرتے ہوئے اسے تاریخ اور مسالک کی پہچان کے لیے ایک بہترین علمی ماخذ قرار دیا اور اسے عام کرنے کی تجویز دی۔ سوم، انھوں نے مدارس کے اندرونی حالات کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے یہ عملی حل پیش کیا کہ مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو تمام مسالک کے مدارس کا دورہ کرے، تاکہ طلبہ اور اساتذہ ایک دوسرے کے نظریات کو براہِ راست سمجھ سکیں؛ کیونکہ ان کے بقول اگرچہ اختلافات مکمل ختم نہیں کیے جا سکتے، لیکن باہمی روابط اور مکالمے سے ان کی شدت کو کم کر کے نفرتوں کا خاتمہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔
سید امین شیرازی مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان
سید امین شیرازی نے سید ثاقب اکبر نقوی مرحوم کی تنظیمی اور ملی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انھیں ایک دور اندیش اور "دشمن شناس” شخصیت قرار دیا ہے۔ سورہ یونس کی روشنی میں قرآن مجید کو نصیحت، شفا، ہدایت اور مومنین کے لیے رحمت قرار دیتے ہوئے مقرر نے واضح کیا کہ گمراہی سے بچنے کا واحد راستہ قرآن اور اہلِ بیتؑ سے متمسک ہونا ہے، جو کہ ثاقب اکبر صاحب کی زندگی کا اصل مشن تھا۔ انھوں نے اتحادِ امت کے حوالے سے مرحوم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ثاقب صاحب مسلمانوں کو فرقہ واریت سے نکال کر ایک ایسے پلیٹ فارم پر لانا چاہتے تھے جہاں سے عالمی استعمار (امریکہ و اسرائیل) کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مقرر نے دورِ حاضر کو دو گروہوں (مستکبرین اور محورِ مقاومت) میں تقسیم قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ مظلومینِ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان میں قومی وحدت ناگزیر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ثاقب اکبر صاحب کے افکار کو زندہ رکھنا اور انقلابِ اسلامی کے اصولوں کی روشنی میں عالمی استعمار کے خلاف متحد ہونا ہی ان کی زندگی کے اصل مقصد کی تکمیل ہے۔
عبد اللہ حمید گل سربراہ تحریک جوانان پاکستان
سربراہ تحریک جوانان پاکستان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ قرآن کو حرف بہ حرف صحیح ماننے کے باوجود اس کے احکام کے خلاف چلنا ذلت کا باعث ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ جس قوم کے ہاں سود کا نظام ہو اور جو اللہ سے جنگ کر رہی ہو، وہ ایٹم بم اور تمام تر مادی وسائل کے باوجود خیر نہیں پا سکتی۔انھوں نے "اللہ کو ماننے” اور "اللہ کی ماننے” کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم نعتیں تو پڑھتے ہیں لیکن اسوہِ حسنہ پر عمل نہیں کرتے۔ مقرر نے اسمبلیوں میں ہونے والی گالم گلوچ اور بدتمیزی کو "کریم آف دی نیشن” کی اخلاقی پستی قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ حقیقی مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا محفوظ رہے۔ انہوں نے تلقین کی کہ دوسروں پر تنقید کے بجائے "اپنے حصے کی شمع” جلانا ہی اصل حسینیت ہے۔ آخر میں انہوں نے سید ثاقب اکبر نقوی مرحوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے علمی مشن میں ان کے فرزند سید علی عباس نقوی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

ڈاکٹر علی عباس نقوی سربراہ البصیرہ و ادارہ التنزیل
ڈاکٹر علی عباس نقوی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔انھوں نے قائدِ ملتِ جعفریہ آیت اللہ سید ساجد علی نقوی، مفتی گلزار احمد نعیمی، ڈاکٹر ناصر شیرازی اور دیگر جید علمائے کرام سمیت دور دراز (پشاور، اٹک، واہ کینٹ) سے آنے والے تمام مہمانوں اور طالبات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ محض ایک روایتی برسی یا تقریب نہیں بلکہ سید ثاقب اکبر نقوی مرحوم کے فکری مشن کے ساتھ "تجدیدِ عہد” کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا عنوان "عظمتِ قرآن و صاحبِ قرآن” خود ثاقب صاحب نے اپنی علالت کے دوران منتخب کیا تھا، جسے اب وہ ایک علمی امانت اور وراثت کے طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے ثاقب اکبر صاحب کے 30 سالہ علمی سرمائے "پیام” (مجلہ) کے اشاریہ کی رونمائی کا ذکر بھی کیا، جو 1995ء سے اب تک کی تمام تحقیقات اور مقالات کا جامع خلاصہ ہے اور محققین کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ علمائے کرام کی سرپرستی میں یہ علمی سفر جاری رہے گا۔
ڈاکٹر سید ناصر عباس شیرازی مرکزی راہنما مجلس وحدت مسلمین پاکستان
ڈاکٹر سید ناصر شیرازی نے سید ڈاکٹر علی عباس نقوی کو اپنے والد کے علمی مشن کو اسی عزم کے ساتھ جاری رکھنے پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ "عظمتِ قرآن و صاحبِ قرآن” کا عنوان اس مشن کی بقا کی ضمانت ہے، کیونکہ یہ دونوں دائمی حقیقتیں ہیں۔ انھوں نے امام خمینیؒ کے افکار کی روشنی میں واضح کیا کہ قرآن کا ایک ایک حرف تجلیات کا حامل ہے اور اس کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے؛ یہ کلامِ الٰہی سے گفتگو کا ذریعہ اور زندگی کے تمام شعبوں (معیشت، سیاست، تعلیم) کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ڈاکٹر ناصر شیرازی نے عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی مثال دی کہ اس نے قرآن کے حکم "مظلوموں کی مدد” پر عمل کرتے ہوئے فلسطینیوں کا عملی ساتھ دیا، جبکہ دیگر اسلامی ممالک محض رسمی بیانات تک محدود ہیں۔ انھوں نے غزہ کے محاصرے اور نسل کشی (Genocide) کے دوران 500 بچوں کے قرآن حفظ کرنے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ فلسطینیوں کے عزم و استقلال کا اصل ماخذ قرآن اور "کربلا” سے تمسک ہے۔ ڈاکٹر ناصر شیرازی نے زور دیا کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام نے آخری رات تلاوتِ قرآن اور مناجات کے لیے طلب کی تھی، وہی جذبہ آج غزہ کے مسلمانوں کو اپنے بچوں کی قربانی پر ثابت قدم رکھے ہوئے ہے۔ آخر میں انہوں نے ثاقب اکبر صاحب کی پاکستان میں اتحادِ امت اور قرآنی مشن کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے خانوادے کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
مفتی گلزار احمد نعیمی امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مفتی گلزرا نعیمی امیر جماعت اہل حرم و مہتمم جامعہ نعیمیہ اسلام آباد نے ڈاکٹر علی عباس نقوی کو اس فکری محفل کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ثاقب اکبر صاحب کی خلوت اور جلوت ایک جیسی تھی؛ وہ محراب و منبر سے بھی وہی وحدت کی بات کرتے تھے جو نجی محفلوں میں کرتے۔ انھوں نے بتایا کیا کہ مرحوم کی ایک بڑی خواہش ایسا ادارہ قائم کرنا تھی جہاں تمام مسالک کے طلبہ ایک ہی چھت کے نیچے تعلیم حاصل کر سکیں۔ مدارس کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تاثر کی تردید کرتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا کہ اصل فساد ان لوگوں نے پھیلایاجنھیں "پہاڑوں کے مراکز” میں مخصوص زاویہ دیا گیا، جبکہ روایتی مدارس تو آج بھی ایک دوسرے کی کتب پڑھاتے ہیں اور لاکھوں بے سہارا بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔انھوں نے زور دیا کہ اتحادِ امت کے لیے ریاست کو آیت اللہ سید ساجد علی نقوی اور دیگر اکابرین کی خدمات کو مثبت انداز میں لینا چاہیے تھا۔ آخر میں انھوں نے ڈاکٹر علی عباس نقوی کو نصیحت کی کہ وہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تمام مسالک کے لیے قابلِ قبول بنیں، کیونکہ ایک صالح اولاد اپنے والد کے لیے بہترین صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔
قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی
قائد ملت جعفریہ پاکستان و بانی رکن ملی یکجہتی کونسل پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرحوم ثاقب اکبر کو ان کے کام کے آغاز سے جانتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک بے تکلفانہ علمی و فکری تعلق رہا۔ انھوں نے ثاقب صاحب کے علمی آثار اور حقوق کی جدوجہد میں ان کے کردار کو انتہائی قابلِ قدر قرار دیا۔ قائد ملت نے دورِ حاضر کے بڑے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کل یونیورسٹیوں، کالجوں اور بعض دانشور طبقات میں الحاد (Atheism) پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں وجودِ خدا اور بنیادی عقائد پر علمی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تہذیب، اخلاقیات، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور "ولا تفرقو” (اتحاد) جیسے قرآنی اصولوں کو اپنا کر ہی ہم معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آخر میں انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ثاقب صاحب کے علمی ورثے کو نتیجہ خیز بنائے اور اس مشن کو آگے بڑھانے والے نوجوانوں کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
تقریب کے اختتام پر ماہنامہ پیام کے اشاریہ نمبر کی تقریب رونمائی کی گئی ۔ اس اشاریہ نمبر میں گذشتہ تیس برسوں میں ماہنامہ پیام میں شائع ہونے والی تحریروں کی فہرست مع مولفین و سن اشاعت موجود ہے ۔
