Skip to content

ورلڈ آرڈر کا ڈس آرڈر

تحریر: سید اسد عباس

دنیا بہت بدل چکی ہے اور ہم فکری طور پر شائد تاحال پچھلی دہائی یا اس پہلے کے زمانے  میں جی رہے ہیں، جہاں اقوام متحدہ عالمی امن کی ضامن تھی، انسانی حقوق، جانوروں کے حقوق، مہاجرین کے حقوق ان کی آبادکاری، صحت کے مسائل، جارح ریاستوں پر پابندیاں یہ سب کام اقوام متحدہ انجام دے رہی تھی اور کسی حد تک اقوام کو اس پر اعتماد بھی تھا۔ اس عالمی ادارے نے اگرچہ مسئلہ کشمیر و مسئلہ فلسطین میں کوئی خاص پیشرفت نہ کی تاہم بہت سے دیگر امور میں اس کے کام لائق تعریف تھے۔ اب یہ ادارہ او آئی سی کی مانند ایک رسمی ادارہ بن چکا ہے جس کے اجلاس تو منعقد ہوتے ہیں تاہم ان کی حیثیت اخلاقی باتوں سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ امریکہ جو اقوام متحدہ کے متعدد پراجیکٹس کا بڑا ڈونر تھا، ٹرمپ کے آنے کے بعد ان پراجیکٹس سے ہاتھ اٹھا چکا ہے۔ چین نے ماحولیات اور صحت کے شعبے میں خاصی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کی وجہ سے امریکہ کا گلہ ہے کہ چین اس ادارے کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

ظاہر ہے جو سرمایہ لگائے گا وہ چاہے گا کہ اس کی پالیساں نافذ ہوں، جو اس ادارے کی بڑی خامیوں میں سے ایک ہے۔ چھوٹے ممالک جو اعتماد کی وجہ سے اس ادارے کا حصہ بنے تھے ان کے لیے اب اس ادارے کی نشستیں ایک رسم کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ جب دنیا کے اہم سیاسی، معاشی، اقتصادی اور امن سے متعلق فیصلے کہیں اور ہونے ہیں تو پھر اس ادارے کی بھلا کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ غزہ پر اسرائیل نے گذشتہ تین برسوں سے چڑھائی کر رکھی ہے اقوام متحدہ مذمتی بیانات کے سوا کیا کر سکی؟ وینزویلا کا صدر اغواء کرلیا گیا اقوام متحدہ نے کیا کیا؟ سوڈان میں خانہ جنگی ہے اقوام متحدہ نے اس قتل و غارت کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ یوکرائن میں تقریبا تین برسوں سے جنگ جاری ہے اقوام متحدہ کہاں ہے؟ کشمیر کو بھارت نے غیر قانونی طور پر اپنی ریاست کا حصہ قرار دے دیا اقوام متحدہ نے اس واقعہ پر کیا اقدام کیا؟ اسی طرح یمن میں خانہ جنگی کی فضا میں اقوام متحدہ کا کیا کردار ہے؟ صومالیہ دو ریاستوں میں منقسم ہو چکا ہے اقوام متحدہ کہاں ہے؟

بیوروکریسی کا ایک اکٹھ ہے جو او آئی سی کی مانند فائلوں کا پیٹ بھرنے اور رپورٹیں مرتب کرنے کو ہی اپنی ذمہ داری جانتا ہے۔ گذشتہ برس اور حالیہ برس کے آغاز میں ہونے والے واقعات نے تو اس ادارے کو بالکل غیر متعلقہ ادارہ بنا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ایک مرتبہ پھر لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ سے قبل کے دور کی جانب لوٹ رہی ہے، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ العمل تھا۔ زور آور اپنی طاقت کے بل بوتے پر جہاں چاہے منہ مارتا پھرے، کمزور مجبور ہوں کہ اپنی بقاء کے لیے یا تو زور آور کی چھتری تلے چھپ جائیں یا پھر کسی دوسرے نسبتا کم زور آور کی پناہ میں چلے جائیں۔ دنیا میں محسوس ہونے والی یہ تبدیلی فقط ایک شخص (ٹرمپ) کی سوچ کی وجہ سے ہے یا اس کے پس پردہ ایک ریاست ہے۔ یہ سوال بہت اہم ہے۔ ظاہراً ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ دنیا کے امن کو تہ و بالا کر رہا ہے اور یہ چلا جائے گا تو شائد دنیا واپس اپنی پہلی حالت کی لوٹ جائے۔ میری نظر میں اس شخص کے ہونے نہ ہونے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی۔ گذشتہ دور حکومت میں بائیڈن نے اگرچہ اقوام متحدہ کے ادارہ صحت اور ماحولیات کے فنڈز بحال کر دیئے تھے تاہم برجام یعنی ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو بحال نہ کرسکا۔ اسی طرح عالمی امریکی پالیسیوں میں کوئی کلیدی تبدیلی نہ آئی۔ میری نظر میں تو ٹرمپ اور بائڈن امریکہ کے ہلکے اور سخت ہاتھ کی علامتیں ہیں۔ کبھی ہلکا ہاتھ اور کبھی سخت ہاتھ بنیادی ہدف امریکی تسلط کو یقینی بنانا ہے۔ یعنی دونوں ریاستی پالیسی سازوں کے حربے ہیں۔

بہرحال ٹرمپ صاحب نے ایک ریاست کا منتخب صدر بیوی سمیت اٹھا لیا ہے، لاطینی امریکہ کے باقی سربراہوں کو بھی برے نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے، مشرق وسطی میں غزہ امن منصوبہ کے نام سے ایک نئی بساط بچھا چکا ہے۔ اب غزہ کا فیصلہ وہاں کے باسی نہیں ٹرمپ کا بنایا ہوا بورڈ فار پیس کرے گا جس کے سربراہ ما بدولت خود ہیں۔ وہ فورس جو ٹرمپ صاحب غزہ میں امن کے لیے تشکیل دے رہے ہیں اس کے سربراہ بھی امریکی جرنیل ہوں گے۔ یہ عسکری قبضہ نہیں بلکہ غزہ پر سیاسی اور عملی قبضہ ہے۔ فی الحال دنیا میں کوئی بھی دانشور، جوتشی اور لکھاری نہیں بتا سکتا کہ غزہ کے باسیوں کے مستقبل کے حوالے سے ٹرمپ اور اسرائیل کا کیا ارادہ ہے۔ صومالی لینڈ میں فلسطینیوں کی آبادکاری ، فلسطینیوں کو صحرائے سینا کی جانب دھکیلنا سب اندازے ہیں۔ ایران میں ہونے والے گذشتہ ہفتوں کے مظاہرے، اچانک ان مظاہروں کا پر تشدد ہونا اور ہزاروں افراد کا جان سے جانا اس میں امریکہ اور اسرائیل کا براہ راست کردار ہے، جس کا عندیہ سپریم لیڈر ایران نے بھی دیا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے یورپی ممالک کے سفیروں کو بلا کر سب شواہد دکھائے کہ کیسے بیرونی عوامل دہشت گردی کر رہے ہیں۔ یورپینز اگرچہ امریکہ کے بڑے اتحادی ہیں تاہم اس وقت وہ بھی امریکی دھونس کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کہتا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو نیٹو اتحاد اب تک تاریخ کے ردی دان میں پہنچ چکا ہوتا۔ امریکہ گرین لینڈ پر قبضے کا ارادہ ظاہر کرچکا ہے۔ ورلڈ آرڈر اس وقت ڈس آرڈر کا شکار ہوچکا ہے۔ یہ انتہائی بے چینی کا زمانہ ہے یقینا چھوٹی طاقتیں ایسے وقت میں  اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر ریاست پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ چین، روس، برازیل، ارجنٹائنا، ہندوستان، عرب ریاستیں، یورپ سب ٹرمپ کی پالیسیوں اور اپنے مفادات کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اس مشکل دور سے وہی سرخرو ہو کر نکلے گا جو قومی اتحاد اور خودانحصاری کو یقینی بنائے گا۔ کسی بھی بیرونی طاقت پر انحصار، غیر ضروری چھیڑ چھاڑ، قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے امور سے اجتناب ضروری ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز