تحریر: سید اسد عباس
جب سے ایران نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کی ہے، اسی وقت سے امریکہ نے بھی ہرمز کے باہر عالمی پانیوں میں ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ مختلف اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز سے ایرانی اجازت کے ساتھ جہاز نکلتے رہتے ہیں تاہم ان کی تعداد پہلے جتنی نہیں ہے، امریکہ کتنے جہازوں کو ناکہ بندی کراس کرنے کی اجازت دیتا ہے تاحال معلوم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ناکہ بندی بدستور قائم رہتی ہے تو ایرانی معیشت کا کیا ہوگا؟ مشرق وسطی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
ایران اور امریکا کے مابین جنگ بندی کا کوئی بھی معاہدہ تاحال حتمی نہیں ہوسکا۔ امریکا یورینیم کی حوالگی کی بات کرتا ہے، ایران اسے اپنا اثاثہ قرار دیتا ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز پر ٹال کے خلاف ہے، ایران اسے اپنا حق قرار دیتا ہے، ایران کا مطالبہ ہے لبنان پر اسرائیلی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں انھیں روکا جائے، اسرائیل اسے اپنا سیکورٹی استحقاق قرار دیتا ہے۔ یہ معاملات ایسے ہیں جو ابھی تک حل نہیں ہو پائے۔ اس عرصے کے دوران امریکہ ایران کے جزائر پر موجود فوجی مراکز کو نشانہ بنا چکا ہے جس کے جواب میں ایران نے بھی کویت کے ایک ائیر پورٹ جہاں سے امریکہ نے حملے کیے پر میزائل اور ڈرونز داغے ہیں۔
یہ امر ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جنگ لڑنا ممکن نہیں، جب تک اس کی معیشت کا پہیہ نہ چل رہا ہوں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران ناکہ بندی، تیل جو کہ اس کے زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہے کی ترسیل میں رکاوٹ کے باوجود کیسے چار مہینے سے اپنی معیشت کو رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔ ایران میں اشیائے ضرورت کی کوئی کمی نہیں، مہنگائی اس تناسب سے نہیں ہوئی جس تناسب سے پاکستان میں اس جنگ کی وجہ سے بڑھی ہے؟ اس روانی کے پیچھے کیا راز ہے؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایران کے پاس کوئی شیڈو فلیٹ ہے جو ہرمز سے تیل لے کر بیرون ملک سپلائی کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو امریکی ناکہ بندی پر کیوں اترا رہا ہے۔ اس سوال کا جواب ایک ہندوستانی رپورٹر و صحافی "دویام شرما” نے دیا۔ دویام کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس تجارت، تیل کی ترسیل، ہتھیاروں کی ترسیل کا ایسا محفوظ راستہ موجود ہے جسے امریکہ چھو بھی نہیں سکتا۔
دویام شرما کا کہنا ہے کہ بحیرہ کیسپین وہ سمندری راستہ ہے جہاں امریکہ کی دسترس نہیں ہے، نہ ہی وہاں اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ ایران اور روس عالمی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے لیے بحیرہ کیسپین کو ایک ‘شیڈو روٹ’ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایک خفیہ معیشت کے تحت ‘شیڈو فلیٹ’ (خفیہ بحری بیڑوں) کے ذریعے بڑے پیمانے پر اس سمندر کے ذریعے تجارت کر رہے ہیں۔
بحیرہ کیسپین وسطی ایشیاء کے پانچ ممالک آذربائیجان، روس، ایران، ترکمانستان اور قازقستان کا مشترکہ سمندر اور آبی روٹ ہے۔ اگر ان پانچوں ممالک کا پوری دنیا بھی محاصرہ کر لے تو بحیرہ کیسپین کے ذریعے یہ آپس میں تجارت کر سکتے ہیں۔ دویام شرما کے مطابق بلومبرگ نے 2022ء میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ روس اور ایران بحیرہ کیسپین کے ذریعے دونوں ممالک کو جوڑنے والے ریل، سمندری اور دریا کے راستوں کو وسعت دینے کے لیے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد عالمی پابندیوں سے بچنا ہے۔
دویام شرما کے مطابق روس اور ایران کے جہاز ‘ڈارک پورٹ کالز’ کرتے ہیں، یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں بحری جہاز اپنے آٹومیٹک آئیڈینٹی فیکیشن سسٹم (AIS) کو بند کر دیتے ہیں، جو سیٹلائٹ کو سگنل بھیجتا ہے جس سے سمندر میں جہازوں کے مقام کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جہاں AIS کو بند کرنا ایک طریقہ ہے، وہیں AIS کی جعلی معلومات دینا (اسپوفنگ)، کسی دوسرے ملک کے جھنڈے تلے جہاز چلانا اور بین الاقوامی پانیوں میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں سامان منتقل کرنا دیگر ایسی تکنیکیں ہیں جو جہاز کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں۔
روسی اور ایرانی جہاز پابندیوں والے سمندری راستوں کو چھپانے کے لیے بندرگاہوں پر رکنے کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں ناکارہ سکریپ ٹینکرز کے آئی ایم او (IMO) نمبر چوری کرتی ہیں یا اپنے خود کے فرضی نمبر ایجاد کرتی ہیں۔ زیادہ تر، یہ جہاز رانی کی تجارت پاناما، گیمبیا، سنگاپور، چین اور فجی جیسے ممالک میں رجسٹرڈ شیل (کاغذی) کمپنیوں کے ذریعے سنبھالی جاتی ہے۔
دویام شرما کے مطابق ایران اور روس کے مابین تجارت کا بڑا حصہ اسی ذریعے سے ہو رہا ہے۔ بعض مغربی ذرائع ابلاغ نے اسی راستے کو ہتھیاروں کی ترسیل کا ذریعہ بھی قرار دیا ہے۔ کیسپین کے ساحلی ممالک کے مابین ایک معاہدہ موجود ہے جس کے تحت کسی بھی غیر ملکی بحری جہاز کو اس سمندر میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
امریکہ کے پاس اس روٹ سے نمٹنے کے چند آپشنز ہیں جیسے آذربائیجان کو مداخلت پر مجبور کرنا، دور سے اہداف کو نشانہ بنانا، بحری روٹ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا تاہم ان سب آپشنز میں روس سے مڈھ بھیڑ بدیہی ہے۔ امریکا اس سے اجتناب کر رہا ہے، آذربائیجان بھی ایسا رسک نہیں لے سکتا۔ لہذا یہ روٹ روس، ایران اور چین کے خلاف عالمی پابندیوں کا مؤثر توڑ ہے، دنیا ہرمز کی جانب متوجہ ہے جبکہ ایران، روس اور چین کے پاس کیسپین کا متبادل موجود ہے۔
سوال رہا ہرمز کی ناکہ بندی کا تو بہت خلیجی ممالک امریکا کے پاؤں پڑ جائیں گے کہ ناکہ بندی ختم کرو، ہمیں ایران کے قوانین کے مطابق تجارت کرنے دو۔ امریکہ ناکہ بندی، اقتصادی پابندیوں کی جنگ کے ساتھ ساتھ تزویراتی میدان میں بھی ہار چکا ہے۔ جس تجارت کو وہ روکنا چاہتا تھا اس کے پاس متبادل راستہ موجود ہے، جس تک امریکہ کی رسائی نہیں، اگر وہاں مداخلت کرتا ہے تو روس سے براہ راست جنگ مول لینا ہوگی۔
ٹرمپ ایسی دلدل میں پھنس گیا ہے جہاں سے نکلنے کی اسے کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی۔ یورپ کو یہ منظر واضح دکھائی دے رہا ہے، اسی سبب وہ ایران جنگ میں داخل ہی نہیں ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی عالمی اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے۔ چین، روس اور ایران عالمی اقتدار کا نیا عنوان ہیں جسے دنیا بہت جلد قبول کر لے گی۔
بشکریہ اسلام ٹائمز