Skip to content

اجلاس مجلس قائدین ملی یکجہتی کونسل  پاکستان

Conference with multiple speakers at table.
Group of people at a gathering.
Meeting with multiple participants at table.

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی ایک اہم قومی مجلس مشاورت 23 جولائی 2025 اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی، اسلامی تحریک پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ اس اہم بیٹھک کی صدارت ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے کی۔ نظامت کے فرائض لیاقت بلوچ نے سرانجام دیئے، اس موقع پر میزبان علامہ سید ساجد علی نقوی کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی، چیئرمین  البصیرہ ڈاکٹر سید علی عباس نقوی، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، مولانا محمد امجد خان، حافظ عبدالغفار روپڑی، جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی، پاکستان عوامی پارٹی کے خرم نواز گنڈاپور، مولانا اللہ وسایا، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا زاہد محمود قاسمی، علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ عارف حسین واحدی، سید اسد عباس نقوی، ڈاکٹر حضور مہدی، پیر سید صفدر شاہ گیلانی، محمد عبداللہ حمید گل، مولانا عبدالمالک، سید عبدالوحید شاہ، ، ڈاکٹر ضمیر اختر خان، سید اقبال حیدر رضوی، ڈاکٹر صابر ابو مریم، قاضی ظفر الحق، رضیت باللہ اور زاہد علی اخوانزادہ  مولانا عرفان حسین البصیرہ ،سمیت دیگر مذہبی رہنماء شریک ہوئے۔


موجودہ ملکی صورتحال اور امت مسلمہ کو درپیش چیلجز، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں مذہبی قائدین کا یہ اجلاس خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ اس موقع پر رہنماوں نے خطابات کئے اور آخر میں ایک تفصیلی مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ملکی صورت حال دن بدن تشویش ناک ہو رہی ہے، پاکستان کا اسلامی نظریاتی کردار مخدوش اور سرکاری سطح پر تعصبات، تفرقوں اور قوم کو تقسیم کرنے کے عمل کی وجہ سے قومی وحدت یکجہتی بری طرح متاثر ہے۔ پاک بھارت جنگ میں پوری قوم تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر معرکہ حق میں ہندوستان کی جارحیت کے مقابلے میں بنیان المرصوص بن گئی، افواج پاکستان نے دلیری اور مہارت سے معرکہ سر کیا، اسلامی ممالک خصوصاً دوست ملک چین کی جانب سے مکمل اور بھرپور تائید نے ہندوستان کو پسپا کر دیا اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہت بہتر ہوگیا۔ فتح و کامیابی کے بعد اندرونی مسائل حل کرنے کے لئے جن مثبت جذبوں کی ضرورت تھی، بدقسمتی سے حکومت اور سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا رویہ صریحاً آئین، جمہوریت اور قومی وحدت کے خلاف ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی امریکہ اور اسرائیل جارحیت کے خلاف استقامت اور عظیم کامیابی پر ایرانی قیادت اور بہادر عوام کو مبارکباد دیتے ہیں، امریکہ اور اسرئیل ایران کے خلاف مکمل طور پر ناکام اور پسپا ہوگئے۔ ایٹمی توانائی کا حصول ایران کا حق ہے۔ پاک افغان تعلقات کی بحالی اور سفارتی تعلقات کی بہتری کا خیر مقدم کیا، اس پیش رفت میں چین کا کردار علاقائی استحکام کے لیے قابل قدر ہے۔ پاک افغان مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، دونوں ممالک آپسی شکایات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ ملی یکجتہی کونسل کے نزدیک ترکی، ایران، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کا سفارتی اقتصادی سائنسی ٹیکنالوجی دفاعی محاظ پر مضبوط لائحہ عمل خطہ میں پائیدار امن استحکام اور ہر جارحیت کا مقابلہ کے لیے ملت اسلامیہ کی ناگزیر ضرورت ہے۔ غزہ فلسطین پر امریکی ایماء پر اسرائیل کی مسلسل جارحیت نسل کشی بستیوں کی مسماری، سکول ہسپتال تباہ کر دیئے گئے۔ بھوک اور قحط مسلط کرکے نسل کشی کی آخری انتہاء پر معاملہ پہنچا دیا گیا ہے۔ فلسطین فلسطینوں کا ہے، دو ریاستی حل یا ابراہیمی معاہدہ مسلط کرنا ظلم اور نا انصافی ہے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کا وجود ناجائز ہے، اس کا خاتمہ اور فلسطینوں کے حق آزادی کو تسلیم کرنے سے ہی عالمی امن قائم ہوگا۔ عرب اسلامی ممالک امریکی مڈل ایسٹ خطرناک ڈاکٹرائن کو مسترد کر دیں۔ پاکستان کے عوام ابراہیمی معاہدہ اور اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے کسی قسم کی کوئی کوشش کی عوام کی طرف سے ان کو بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غزہ میں غذائی امداد پہچانے کے لیے عالمی سطح پر بھرپور کوشش کریں۔ قومی مشاورت نے مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فاشزم اور کشمیریوں پر 78سال سے مسلط ظلم و جبر قتل عام قیادت کارکنان کی گرفتاریاں عالمی اداروں کے لیے شرمناک ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام کا حق ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور قرارداوں کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے حکومت فلسطین اور کشمیر پر مضبوط حکمت عملی اپنائے۔

ملی یکجہتی کونسل کی مجلس قائدین کے اجلاس کی قومی مشاورت نے معاشی اقتصادی بحرانوں میں کرپشن عیاشیاں منفعت خوری بدانتظامی بدترین کردار ادا کر رہی ہے۔ قرضوں، سود کی لعنت، کشکول پھیلا کر ملک و ملت کی عزت کی نیلامی اور آئی ایم ایف کی بدترین شرائط کے سامنے سرنڈر اقتصادی تباہی کا سبب ہے، بجلی تیل گیس کی قیمتیں اور ٹیکسوں کا ناروا بوجھ زراعت صنعت تجارت کو تباہ کر رہا ہے۔ گندم، گنا، کپاس، چاول کے کاشتکار حکومتی پالیسی سے تباہ ہو رہے ہیں، جبکہ حکمران مافیاز کو نواز رہے ہیں۔ دفاعی بجٹ ناکام ترین معاشی دستاویز بن گیا ہے، سود کا خاتمہ اور خود انحصاری اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسلامی معاشی نظام نافذ کیا جائے۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں وگرنہ خط غربت سے نیچے جاتے مظلوم عوام سخت حساب لیں گے۔ امن عام کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ دہشتگردی کیوجہ سے عوام کے جان، مال، عزت کا تحفظ ختم اور حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن عامہ کی خرابی دہشت گرد واقعات اور سکیورٹی اداروں کا دہشت گردوں کی بجائے عوام کے خلاف اقدام اور محاذ خوفناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ وزیراعظم دہشتگردی کے خاتمے، امن عامہ کے قیام کے لیے قومی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور متفقہ لائحہ عمل بنایا جائے۔

قومی مشاورت نے بلوچستان کے حالات پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا اور بلوچستان کی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور فوجی سکیورٹی گارڈوں سے قومی سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے مسائل حل کیے جائیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کا آئین اور قانون کے مطابق حل نکالا جائے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں کے معدنی وسائل زرعی زمینوں پر صوبہ کے حق ملکیت کی بنیاد مسمار نہ کی جائے۔ وفاقی اور صوبوں کے تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا آئینی ادارہ فعال کیا جائے، بلوچستان کے اداروں اور شاہروں کو محفوظ بنایا جائے، ڈیتھ سکواڈ اور منشیات فروشوں، بھتہ خوروں سرکاری سرپرستی ختم کی جائے۔ قومی قائدین نے حکومت کی طرف سے قرآن و سنت اور آئین سے متصادم اخلاق باختہ قانون سازی کی مذمت کی اور کہا کہ شرعی معاملات پر پارلیمنٹ کو بطور ہتھیار استعمال کر کے اسلامی تہذیبی اقدار تباہ کی جا رہی ہیں۔ اسلامی قوانین کو غیر موثر کرنے کا بھیانک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال المناک ہے کہ عدلیہ کے محاذ پر سیکولر اباہیت پر مبنی ذہنیت شعائر اسلام کے خلاف انتہائی افسوس ناک اور شرمناک کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

ملی یکجہتی کونسل کی کمیٹی عدلیہ کے سابق فیصلہ پر علماء وکلاء سے مشاورت سے لائحہ عمل طے کرے گی، حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلہ کے مطابق غیر شرعی قانون سازی واپس لے۔ ملک بھر کی تمام دینی جماعتیں دو قومی نظریہ اور پاکستان کی اسلامی دینی کردار کی حفاظت کریں گی۔ حکومت شعائر اسلام کے خلاف قانون سازی واپس لے، وگرنہ ملک گیر احتجاج اس کے ہوش ٹھکانے لائے گا۔ ملی یکجتہی کونسل کی مجلس قائدین کی قومی مشاورت میں ملک کے سیاسی گھمبیر بحرانی اور آئین سے ماورا ہائبیرڈ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئین کا تحفظ، آزاد عدلیہ، عدل و انصاف کی فراہمی، صوبوں کے حقوق اور قومی مسائل کی منصفانہ تقسیم عوام کے جمہوری حق تحفظ کے لیے غیر جانبدارانہ عوام کے جان و مال عزت کو لاقانونیت دہشت گردی سے محفوظ رکھنا قومی قیادت کے قومی ذمہ داری ہے۔ سیاسی بحرانوں کا پائیدار حل سیاسی کشیدگی اور ٹال مٹول کرنا اور ہائی ٹمپریچر کو نارمل کرنے کے لیے قومی سیاسی قیادت قومی ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کریں۔

کہا گہا کہ سیاسی بحرانوں اور مسائل کا حل سیاسی بنیادوں پر تلاش کر لیا جائے۔ وگرنہ آئین عدلیہ جمہوریت پارلیمانی نظام اسلامی تہذیب و اقدار کی صف لپیٹ دی جائے گی اور قومی قیادت تماشائی بنے رہی گے اور منہ تکتی رہ جائے گی۔ مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں امن و امان کے قیام کیلئے حکومت موثر اقدامات کرے، انڈیا کی طرف سے ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی روک تھام کی جائے۔ مدارس دینیہ اسلام کے قلعے ہیں اسلامی تہذیب وتمدن کے محافظ ہیں۔ مدارس کی تمام ضروریات اور مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم کیا ہے۔ ملی یکجہتی کونسل میں شامل اور اس سے باہر کی دیگر جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں ایک ایکشن کمیٹی کا اعلان کیا گیا، جو مذکورہ فیصلوں پر حکومت کی طرف سے عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ایک عوامی تحریک کا لائحہ عمل ترتیب دے گی اور ایک بھرپور اے پی سی سے منظوری کے بعد اس پر عملد درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

ایکشن کمیٹی کے ارکان میں لیاقت بلوچ جماعت اسلامی، اسد عباس نقوی مجلس وحدت مسلمین پاکستان، مولانا محمد امجد خان جمعیت علمائے اسلام، سید صفدر شاہ گیلانی جمیعت علمائے پاکستان، قاری محمد یعقوب شیخ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، علامہ شبیر حسن میثمی اسلامی تحریک پاکستان، علامہ زاہد محمود قاسمی مرکزی علماء کونسل شامل ہیں۔ ملک کی صف اول کی مذہبی قیادت کا ملی یکجہتی کونسل کی چھتری کے سائے تلے جمع ہوکر ایک تگڑا موقف دینا اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے ایکشن کمیٹی کے قیام کا اعلان ملکی صورتحال کے تناظر میں انتہائی مثبت اقدام ہے۔ تاہم واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت میں اس اہم بیٹھک سے قبل متحدہ مجلس عمل کی طرز پر مذہبی جماعتوں کے ایک سیاسی اتحاد کی تشکیل کی بھی چہ مہ گوئیاں ہو رہی تھیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی جماعتوں میں پاکستان میں ایک اہم کرداد ادا کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔