Skip to content
ثاقب scaled 1

آنحضرتؐ پر نزول وحی کی کیفیت

یہ مقالہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی کی کیفیات، اس کی ماہیت اور اس سے مربوط علمی و روائی مباحث کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔ مقالہ نگار کے مطابق نزولِ وحی کی بنيادی طور پر دو کیفیات تھیں؛ ایک کیفیّت فرشتے کے کسی مادی وجود میں متمثل ہوئے بغیر (یا بالواسطہ خدا کی طرف سے) وحی کا اترنا تھی جو گھنٹی کی آواز کی طرح شدید، کیفیّت کے لحاظ سے گراں بار اور جسمِ مبارک پر بے ہوشی و پسینہ جاری ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی، جبکہ دوسری صورت فرشتے کا ایک انسان (مرد) کی شکل میں متمثل ہو کر کلام کرنا تھی جو نسبتاً آسان حالت ہوتی تھی۔ امام جعفر صادق ؑ، امام خمینی، اور استاد حسن زادہ آملی جیسے علمائے کرام کے تجزیے کے مطابق عالمِ غیب اور حقیقتِ مجرد کے اس مستقیم رابطے، قرآنی معارف کے "قولِ ثقیل” (عظیم و باوقار کلام) ہونے اور نبوت کی بھاری ذمہ داریوں کے باعث آپ ؐ پر یہ ثقالت طاری ہوتی تھی۔ مقالے میں اس بات کی بھی صراحت کی گئی ہے کہ اگرچہ سچے خواب نبوت کا ایک جزو ہیں اور تمام انبیاء پر وحی کا بنیادی جوہر ایک ہی رہا ہے، تاہم پورا قرآن مجید بیداری کے عالم میں نازل ہوا اور یہ عالمِ مادہ کا عالمِ مجرد کے ساتھ قائم ہونے والا بلند ترین اور کامل ترین روحانی رابطہ تھا۔