Skip to content
ثاقب scaled 1

اعضا کا عطیہ اورپیوندکاری شیعہ نقطۂ نظر

یہ مقالہ اعضا کا عطیہ (Organ Donation) اور پیوند کاری (Transplantation) کے حوالے سے شیعہ فقہی نقطۂ نظر، اس کے تاریخی ارتقا اور عصری مجتہدین کے فتاویٰ کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔ شیعہ فقہ میں اجتہاد کا باب کھلا رہنے اور زمان و مکان کی تبدیلی کے ساتھ احکام کے بدلنے کے اصلِ زریں کی روشنی میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ طبی سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اعضا کی پیوند کاری اور خون کے عطیے جیسے مسائل میں کس طرح پیش رفت ہوئی ہے۔ مقالے کے مطابق جب کسی چیز کی اجتماعی کارکردگی یا حلال منفعت بدل جاتی ہے (جیسے انسانی جان بچانے کے لیے خون یا اعضا کا استعمال)، تو فقہاء کے ہاں اس کا شرعی حکم بھی حرمت سے جواز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
معاصر شیعہ مراجع—جن میں امام خمینی، آیت اللہ خوئی، آیت اللہ خامنہ ای اور آیت اللہ یوسف صانعی شامل ہیں—کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ کسی مسلمان یا انسان کی جان بچانے کی خاطر دماغی موت (Brain Death) کے بعد یا کسی زندہ انسان کی طرف سے (بشرطیکہ عطیہ دہندہ کو کوئی شدید جانی یا قابلِ لحاظ جسمانی نقصان نہ پہنچے) اعضا کا عطیہ دینا اور پیوند کاری کرنا شرعاً جائز ہے۔ اگرچہ چند فقہا (جیسے آیت اللہ جواد تبریزی) نے اس عمل پر احتیاط یا دیت کی شرط عائد کی ہے، تاہم مجموعی طور پر شیعہ علمی و فقہی حلقوں کا رجحان انسانی زندگی کی حفاظت کو مقدم رکھتے ہوئے اعضا کے عطیے اور پیوند کاری کو جائز اور مستحسن قرار دینے کی طرف ہے۔