Skip to content
سید ثاقب اکبر

اقبال اور عشق رسولؐ

عشق دراصل وسیع، ہمہ گیر اور لا متناہی انسانی جذبوںکی پرواز کا نام ہے اور یہ بقا کی طرف ایک سفر ہے اسی میں رمز تخلیق انسانی اور انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز پنہاں ہے یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو تمام وابستگیوں سے کاٹ کر ایک سے متصل کر دیتی ہے اور اس میں ارتکاز کی ایک حالت پیدا ہوجاتی ہے۔یہاں تک کہ تمام مادی کائنات انسان کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہے ،گویا ایک عاشق کے لیے اس کی یہی کیفیت مادی زندگی کی فنا اور وسیع تر روحانی زندگی کے آغاز سے عبارت ہے ۔جب عشق کی کیفیات انسان کے اندر پھوٹ پڑتی ہیں تو وہ اس کی مادی زندگی کے لیے صورِ اسرافیل بن جاتی ہیں جیسا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں:
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صورِ اسرافیل