اکیسویں صدی امریکی جارحیتوں کا موازنہ
امریکہ اور اسرائیل کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ ایران افغانستان، عراق یا لیبیا نہیں ہے۔ حملوں کی ابتدائی لہر کے موازنہ سے اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا ممالک سے کئی گنا زیادہ بمباری کے باوجود امریکہ و اسرائیل اپنے بنیادی اہداف تک نہ پہنچ سکے۔ اس استقامت نے نظام کی گہرائی، تحمل اور وسعت کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ ایران نے میدان جنگ کو آبی گزرگاہوں، تیل کی ترسیل کے نظام، عالمی معیشت تک وسعت دے دی ہے۔ اب امریکہ کے پاس چارہ نہیں کہ وہ اپنے بنیادی اہداف کے بجائے ان ثانوی مفادات کا تحفظ کرے۔ خطے میں اس کی ساکھ، سیکورٹی انفراسٹرکچر، معاشی سرگرمیاں سب درہم برہم ہو چکی ہیں۔ اسرائیل خوفزدہ ہے کہ اگر امریکہ اس جنگ کو ناتمام چھوڑ کر جاتا ہے تو اسے ایران کا تنہا سامنا کرنا ہوگا۔ مقاومتی گروہ تمام تر حملوں اور نقصانات کے باوجود عزم و ہمت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو امریکہ، اسرائیل اور امریکی اتحادیوں کو اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔
