حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ اور علامہ اقبالؒ
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں انبیا ء کی زندگی کے نہایت اہم واقعات بیان کیے ہیں ۔ بعض انبیاء کا ذکر قرآن مجید میں زیادہ نمایاں طور پر آیا ہے۔ ان کی زندگی کے مختلف اتار چڑھائو کو بیان کرکے دراصل قرآن مجید یہ بتانا چاہتا ہے کہ مختلف مراحل درپیش ہوں تو ایک اعلیٰ انسان ان میں سے کیسے گزرتا ہے اور کیسے وہ ان کا سامنا کرتا ہے۔ اصل میں یہ واقعات اور تاریخ کی یہ مثالیں آنے والی نسلوں کے لیے راہنمائی مہیا کرتی ہیں اور کامیابی کے راستوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی طرح سے جن قوموں کی زوال کی داستانیں بیان ہوئی ہیں ان کا مقصد بھی یہ بتانا ہے کہ قومیں کون سا راستہ اختیار کریں تو وہ ثریا سے زمین پر دے ماری جاتی ہیں اور کمال سے زوال تک جا پہنچتی ہیں۔ قرآن حکیم کوئی داستانوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ بشریت کی ہدایت کے لیے آئی ہے۔ علامہ اقبال نے اسی حیثیت سے قرآن حکیم کا مطالعہ کیا ہے اور وہ قرآنی مثالوں اور نمونوں کو اپنے دور پر منطبق کرتے ہیں اور زوال یافتہ مسلمانوں کو یہ مثالیں اور نمونے یاد دلاتے ہیں تاکہ وہ نشاۃ ثانیہ کی آرزو اپنے دل میں پروان چڑھائیں اور اس کے لیے راستے اور طریقے کو بھی پیش نظر رکھیں۔ حضرت ابراہیمؑ کو آسمانی ادیان کے ماننے والوں میں بہت بلند مقام حاصل ہے۔ قرآن حکیم نے حضرت ابراہیم ہی کی ملت اور دین کو حنیف درست اور سچا قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو اسی دین وملت کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔
