Skip to content

استقامت زندہ باد ۔۔۔ ایران پائندہ باد

تحریر: سید اسد عباس

راقم نے اپنی 27 جنوری 2026ء کی تحریر بعنوان "جنگ روز اول سے جاری ہے” میں عندیہ دیا تھا کہ 12 روزہ جنگ میں ایران کو ایک شخص نے قدموں پر کھڑا کردیا، آئندہ حملے میں امریکہ اور اسرائیل نہیں چاہیں گے کہ وہ شخص دوبارہ ایسا کر سکے۔ اسی تحریر میں راقم نے لکھا تھا کہ ایران کو اپنی قیادت، نظام مواصلات اور رابطوں کو زندہ رکھنا ہے، اگر یہ زندہ رہے تو امریکہ نیز اسرائیل کی دوڑیں یقینی ہیں۔ جہاں تک اقوام عالم کا سوال ہے تو جنگ میں کوئی قریب نہیں آئے گا، ہاں آپ کو فتح یاب دیکھ کر سب آپ کے ساتھ تصاویر بنوانا پسند کریں گے۔ 

آج میں نہایت افسوس کے ساتھ یہ سطور لکھ رہا ہوں کہ اسلامی انقلاب کے روحانی رہبر آج ہم میں موجود نہیں ہیں۔ یہ فقط ایران کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور انسانیت کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ سید بزرگوار ظالموں، تسلط خواہوں، مجرموں کی اس دنیا میں حق کی آواز تھے، آپ کی بصیرت راہ کشا تھی، بہت سے مواقع پر آپ کا ایک جملہ مشکلات کو حل کرنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔ 12 روزہ جنگ کے ابتدائی ایام میں انھوں نے اپنی اس خصوصیت کا بھرپور اظہار کیا۔ آپ نے ایران کو خود انحصاری، علمی ترقی کی ڈگر پر ڈالا۔

شہید بزرگوار قرآن سے خصوصی انس رکھتے تھے اور اس کی تعلیمات کو امت کے مسائل کے حل کا ایک لازمہ سمجھتے تھے۔ آپ کی شخصیت کے بارے بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے اور یقیناً لکھا جائے گا تاہم آج ہم ان سے محروم ہیں، جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مکتب کربلا کا تربیتی نظام اس نوعیت کا ہے کہ یہاں "ایک ستارے کے غروب ہوتے ہی دوسرا ستارہ طلوع ہوتا ہے” بقول حکیم الامت علامہ محمد اقبال:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
یقینا رہبر انقلاب کو بارہ روزہ جنگ کے دوران یا اس سے بھی پہلے یہ اندازہ ہو چکا ہوگا کہ اسرائیل اور امریکی جارحیت کا اگلا ہدف ایران کا قیادتی، مواصلاتی نظام ہوگا، جس کی حفاظت کا انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اہتمام کر دیا۔ ملک کا آئین اگرچہ قیادت کے انتخاب کا واضح طریقہ کار رکھتا ہے تاہم وہ عرصہ جس میں یہ انتخاب عمل میں آنا ہے نہایت اہم تھا۔ الحمد للہ آج ایران میں کمانڈ اینڈ کنڑول نیز دفاع کی صلاحیت مربوط ہے اور امریکہ و اسرائیل ایران کے جوابی حملوں کے سبب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

ایرانی عوام کی بیداری اور قیام کو بھی داد دینی چاہیئے جو اس قدر بڑا صدمہ برداشت کرنے نیز مسلسل اسرائیلی و امریکی بمباری کے باوجود میدان عمل میں موجود ہے۔ وہ پرچم جو رہبر انقلاب اور دفاعی کمانڈ بلند کئے ہوئے تھی کو ایرانی عوام نے ایک لمحے کے لیے بھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ آج امریکہ کا رجیم چینج کا خواب ہوا ہو چکا ہے، اسرائیل پریشان ہے کہ ہم نے کلیدی اشخاص کو راستے سے ہٹا دیا ملک کون چلا رہا ہے، دفاع کیسے ہو رہا ہے۔ ایرانی قوم اور دفاعی ادارے اس وقت بپھرے ہوئے شیروں کی مانند امریکی و اسرائیلی ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں۔

خلیج والوں کو ایران سے گلہ ہے کہ ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا پاس نہیں رکھا جارہا۔ امت مسلمہ ان سے پوچھے کہ اپنی سرزمین کو غیروں کی افواج کے سپرد کرتے وقت آپ کی خودمختاری اور سالمیت کو ٹھیس کیوں نہ پہنچی؟ اپنا دفاع امریکہ و برطانیہ کے سپرد کرتے وقت آپ کی غیرت کہاں تھی؟ سامراجی ریاستیں ان مراکز سے پوری امت مسلمہ کو کنڑول کرتی ہیں اس وقت آپ کی عرب شناخت کیوں خاموش رہی؟ آ پ کو تو ایران کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ وہ ان سامراجی بدمعاشوں سے آپ کی سرزمین کو واگزار کروا رہا ہے۔

آج آپ کے پاس موقع ہے کہ ان تباہ شدہ عمارتوں میں امریکہ، برطانیہ کو واپس آنے کی اجازت مت دیں۔ وہ افواج جو آپ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع نہیں کر سکتیں انہیں اپنی سرزمین پر پالنے کا بھلا کیا مقصد ہے۔ یہ اڈے آپ کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ امت کو تقسیم کرنے اور آپ کے وسائل کو لوٹنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں جن کی اب خطے میں ضرورت نہیں ہے۔ ایران کی اگر آپ سے دشمنی ہوتی تو شاہی محلات پر میزائل برساتا، برج خلیفہ اور تجارتی مراکز کو نشانہ بناتا، اگر بدترین حالات میں اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔

گذشتہ پانچ ایام میں ایران نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے لیکن اس مزاحمت کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے، دشمن بوکھلایا ہوا ہےاور بوکھلاہٹ میں وہ کوئی بھی اقدام کر سکتا ہے۔ یقینا ایران کی جنگی قیادت یہ جان چکی ہوگی کہ دشمن کا مقصد قائدین کا خاتمہ ہے، آئندہ کچھ ماہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اعلی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد مجلس خبرگان کے دفتر پر حملہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ قیادت کے تسلسل سے خوفزدہ ہیں۔ عوامی بغاوت کی توقعات ناکام ہوئیں بلکہ معاملہ برعکس ہو چکا ہے، یہ وقت قیادت کے تحفظ اور معاشی دباؤ کو اس سطح پر لے جانے کا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل روس و چین سےمداخلت کی گزارش کریں ۔

خداوند کریم سے دعا ہے کہ وہ ایرانی قوم کو حوصلہ، جرات اور ہمت سے نوازے۔ سید کی شہادت نے خلیج کی سیاست میں ایک زلزلہ کو جنم دیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے اس زلزلے کو خطے کی آزادی کی تحریک میں بدل دیا جائے۔ ففتھ فلیٹ، بورڈ آف پیس، ابراہام اکارڈ جیسے دھوکوں سے نکلنے کی ضرورت ہے اور یہ کام خطے کے ممالک کے مابین سفارتکاری اور اعتماد سازی سے ممکن ہے۔ امریکی و اسرائیلی حملے میں دو اشخاص کی آمرانہ سوچ کے آفٹر شاکس امریکی و اسرائیلی معاشرے میں محسوس کیے جارہے ہیں اور یہ سب سید بزرگوار اور ایرانی قوم کی استقامت کے سبب ہے۔ یقیناً ایرانی قوم اور مزاحمتی گروہ اس امتحان میں سرخرو ہوں گے۔ ان شاء اللہ

بشکریہ : اسلام ٹائمز