قرآن و عترت کےمتعلق طرز فکرکی اصلاح
قرآن کریم سے استفادہ اور تلاوت کے لیے ہمارا طرز نگاہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اکثر غلط طرز نگاہ و نظریہ کے ساتھ کتاب خدا یا دیگر متون سے استفادہ کی کوشش کرتے ہیں جس کے سبب ہم وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپاتے جو کسی بھی تحریر کے مطالعہ سے حاصل کرنے چاہئیں۔ مطالعہ قرآن کریم، تدبر قرآن کے حوالے سے ہماری سوچ میں کونسی ممکنہ خامیاں ہوسکتی ہیں اور ان کی اصلاح کیسے ممکن ہے اسی عنوان سے تحریروں کا سلسلہ قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ البصیرہ کے صدر نشین ڈاکٹر علی عباس نقوی جو قرآنیات میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں اور گذشتہ پندرہ برس سے قرآنیات کے شعبے میں عملی خدمات سرانجام دے رہے ہیں نے اس سلسلے میں ’’قرآن کے متعلق طرز نگاہ کی اصطلاح‘‘،’’ طریقہ تلاوت کے متعلق طرز نگاہ کی اصلاح‘‘،’’دیگر نظریات سے قرآن کے مقائسہ کی روش کی اصلاح‘‘ ،’’قرآن فہمی کے حوالے سے اصلاحی نقطہ نظر‘‘ کے عناوین کے ذیل میں اس موضوع سے متلعق اپنی گذارشات کو قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ درج ذیل مضمون اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ امید ہے ان مضامین کے ذریعے ہمیں قرآن کے ذریعے ہمیں قرآن کریم کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کی اصلاح کی توفیق نصیب ہوگی اور ہم بہتر طریقے سے قرآنی معارف سے مستفید ہو سکیں گے۔
