قرآن اور رشد
“رشد” کو تاریکی سے نکل کر نور میں داخل ہونے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جو اللہ کی سرپرستی اور اس کی ولایت کو قبول کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔رشد کی اس تعریف کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان خدا پر بھروسا کرے اور اسے اپنی ضرورتوں کا پورا کرنے والا سمجھے تو وہ اس کی سرپرستی کو قبول کرلیتا ہے ا اور پوری رغبت کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرتا ہے۔اس صورت میں وہ رفتہ رفتہ ہر قسم کی تاریکی سے نکل جاتا ہے اور روز بروز زیادہ نورانی ہوتا جاتا ہے۔تاریکی سے نکل کر نور میں داخل ہونا یعنی جہالت سے نکل کر علم میں داخل ہونا،نا توانی سے نکل کر توانائی میں داخل ہونا، افسردگی سے نکل کر فرحت و مسرت میں داخل ہونا، بدحالی سے نکل کر خوشحالی میں داخل ہونا،گناہ اور آلودگی سے نکل کر طہارت اور پاکیزگی میں داخل ہونا۔اس طرح انسانی وجود میں پائی جانے والی تمام تر باطنی قوتیں دین خدا کے دائرے میں رہ کر روز بروز نکھرتی جاتی ہیں اور انسان کے سارے بالقوہ فضائل رفتہ رفتہ فعلیت کی منزل میں آجاتے ہیں اورانسان خداوند عالم سے جو کمال مطلق ہے نزدیک سے نزدیک تر ہوجاتا ہے۔یہی رشد کی حقیقت ہے۔
