Skip to content
syedasadabbas

شان سرورؐ بزبان حیدرؑ

بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی عظمت و رفعت کو سمجھنے کے لیے ہر دور میں محدثین، مفکرین اور قلمکاروں نے اپنے اپنے انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ تاہم، کسی ہستی کی حقیقی معرفت اور شان کا صحیح ادراک وہی شخصیت کرا سکتی ہے جو خود اس کی تربیت گاہ کی پروردہ ہو اور جس نے بچپن سے لے کر ظاہری حیات کے آخری لمحات تک اس کا قرب حاصل کیا ہو۔ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ والاصفات کی شناسا ترین اور اقرب ترین شخصیت امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ہے۔
زیرِ نظر مقالہ "شانِ سرورؐ بزبانِ حیدرؑ”، معروف محقق و مصنف سید اسد عباس کی ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جس میں انھوں نے نہج البلاغہ اور کلامِ امیر المؤمنینؑ کو محور بناتے ہوئے رسالت مآب ﷺ کے مقام، بعثت کے مقاصد، آپؐ کے اخلاق و شجاعت اور عظمتِ خانوادگی کو پیش کیا ہے۔
مضمون نگار نے نہج البلاغہ کے مختلف خطبات سے اقتباسات اور ان کے تراجم کو پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلام میں حضور اکرم ﷺ کو ایک الٰہی تسلسلِ نبوت، معیارِ حق اور مجسمہِ اخلاق و استقامت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ یہ مقالہ قارئین کو یہ دعوتِ فکر دیتا ہے کہ اگر ہم سرورِ عالم ﷺ کی حقیقی معرفت اور عشقِ رسولؐ سے اپنے قلوب کو منور کرنا چاہتے ہیں، تو اس کا بہترین اور مستند ذریعہ "نفسِ رسولؐ” یعنی حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات اور افکار پر غوروخوض کرنا ہے۔