امیر علی شاہ مرحوم
بات گذشتہ صدی کی ہے۔ 24 فروری 1986ء کو لاہور میں ایک اجلاس ہوا تھا، جس میں چالیس کے قریب ملازمین و مزدور رہنماء جمع ہوئے تھے۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے اس کی میزبانی کی تھی۔ گفتگو کے نتیجے میں ایک کمیٹی بنی اور مجھ بندہ ناچیز کو اس کا رکن بنایا گیا تھا۔ کمیٹی کے ایک دو اجلاس ہوئے، مگر پھر عملاً یہ کمیٹی یک رکنی بن گئی۔ امامیہ ایمپلائز ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام سے ملازمین سے رابطے کا کام شروع کیا گیا۔ 2۔دیو سماج کے دفتر کا منفرد مزاج تھا۔ یہ دفتر تقریباً چوبیس گھنٹے کھلا رہتا تھا۔ شام کے وقت خوب رونق ہوتی۔ پورے لاہور سے کارکن آتے رہتے۔ معلومات حاصل کرتے، ذمہ داریاں قبول کرتے اور چلے جاتے۔ گپ شپ بھی چلتی رہتی۔ نئے لوگ قافلے میں شامل ہوتے رہتے۔ ہر آنے جانے والے سے میرا تعارف کروایا جاتا اور تعاون کے لیے کہا جاتا۔
