امام خمینی ؒ کی نظر میں فہم ِقرآن کریم کے اصول
امام سید روح اللہ موسوی الخمینیؒ کی عالم گیر شخصیت نہایت جامعیت کی حامل ہے۔آپ ؒ کی شخصیت کے جس پہلو کی جانب نظر کریں،آپ ؒ ہمیں بلندی پر فائز نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ان کی زندگی کے سیاسی و اجتماعی پہلو کو دیکھا گیا ہے، حالانکہ آپ ؒ کی شخصیت کے دینی ،عرفانی ، اخلاقی و ملکوتی ،علمی و اجتہادی پہلو آپ ؒ کی شخصیت کو کامل طور پر نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ ؒ کی شخصیت میں سے ایک اورنمایاں پہلو آپ کا قرآنیات میں متخصص و مفسر ہونا بھی ہے۔ آپ ؒ کی زندگی میں قرآن کریم ایک جزو لا ینفک ہی نہیں بلکہ ایک محور و مرکز کی حیثیت سے دکھائی دیتا ہے۔
ہم زیرِ نظر مضمون میں امام خمینیؒ کی نظر میں فہم قرآن کریم کے اصول و شرائط اور اس کو درپیش موانع اور رکاوٹوں کو زیر ِغور لائیں گے ۔آپ ؒ کے نزدیک فہم قرآن کریم آج کے دور کے بنیادی موضوعات و مسائل میں سے ہے چونکہ جس طرح دنیا نے ارتقاء و کمال کے زینوں کو عبور کیا ہے وہیں لوگوں کے ذہنوں میں ابہام و اشکالات و سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ان اشکالات و سوالات کا حقیقی جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں ِکتابِ خدا کے در پر دستک دینی پڑتی ہے اور اس کے لیے ہماری فہم قرآن کریم سے آگاہی ضروری ہے تاکہ ہم موجودہ دور میں قرآن کریم کے فیوض و برکات سے استفادہ کرتے ہوئے اشکالات کے جوابات بھی دے سکیں اور ابہام کو ختم کر کے معاشرتی ارتقاء کا سفر قرآن کریم کی رہنمائی میں طے کر سکیں۔
یہاں ایک اہم اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ کیا قرآن کریم سب کے لیے قابلِ فہم ہے یا فقط ائمہ،مراجع،علماء ،مجتہدین و مفسرین ہی اس کی رحمات کو سمیٹ سکتے ہیں اور اس کے علمی استعداد سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں ؟ اس سلسلے میں امام خمینی ؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے انوار و کرامات سے ہر انسان استفادہ کر سکتا ہے مگر اس کے لیے کچھ معیارات و شرائط ہیں چونکہ ہم علمی استعداد سے تو ظواہر قرآن کریم سے مستفید ہو سکتے ہیں مگر بطون قرآن کریم سے بہرہ ور ہونے کے لیے ہمیں باطنی پاکیزگی اور تہذیب ِنفس درکار ہے ۔پہلےہم امام خمینیؒ کی نگاہ میں فہمِ قرآن کریم کی اہمیت و ضرورت کو زیر بحث لائیں گےبعد ازاں اس کے سمجھنے کی شرائط کو بیان کریں گے نیزاسے سمجھنے کی راہ میں درپیش موانع کا ذکر بھی کیا جائے گا ۔ آخر میں آپ کے نزدیک تفسیر کے اصول و مبانی کو بیان کرتے ہوئے تفسیرکرنے کی صحیح روش و طریقہ کار اور قرآن کریم کےاغراض و مقاصد پر بھی روشنی ڈالیں گے۔
