Skip to content

جنگ روز اول سے جاری ہے؟

تحریر: سید اسد عباس
عالم اسلام کا درد رکھنے والے ہر انسان کے ذہن میں اس وقت ایک ہی سوال ہے، امریکہ خلیج فارس میں فوجیں کیوں اکٹھی کر رہا ہے؟ آیا وہ ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔؟ آیا ایران اور امریکہ کے مابین جنگ ہوگی۔؟ ان اہم سوالوں کے حوالے سے مختلف ماہرین اور مبصرین اپنی آراء پیش کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ فقط نفسیاتی حربہ ہے، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ حملہ ہوگا۔ حملہ کو ممکن قرار دینے والے تین طرح کے امکانات کا اظہار کر رہے ہیں۔ مؤثر محدود حملہ (جیسے کسی اہم شخصیت کا قتل یا خاص سکیورٹی آپریشن)، دوّم: علامتی محدود حملہ، جس کا مقصد سیاسی دباؤ بڑھانا ہو۔ سوّم: بحری جھڑپ یا حساس مقامات پر قبضہ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خبروں کے مطابق اس وقت ایک امریکی بحری لشکر جسے ٹرمپ آرمیڈا کہتے ہیں، خلیج فارس کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اس آرمیڈا میں شامل امریکی بحری بیڑہ ابراہام لنکن تو شائد سینٹکام کے پانیوں میں پہنچ چکا ہے، تاہم اس کے ہمراہ چلنے والے میزائلوں کو تباہ کرنے والے بحری جہاز اس وقت بحر ہند میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عراق میں امریکہ نے اپنے زیر قبضہ اڈہ عین الاسد خالی کر دیا ہے۔ اب امریکی افواج قطر میں العدید ائیر بیس، بحرین کے نیول بیس، کویت میں کیمپ عارفجان اور علی السالم ائیر بیس، متحدہ عرب امارت میں الظفرہ ائیر بیس، عراق اور شام میں مختلف مقامات، ترکی اور اردن کے فوجی مراکز میں موجود ہیں، جن کی تعداد چالیس سے پچاس ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان فوجیوں کے علاوہ امریکہ کو اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ گذشتہ برس کے آخری مہینوں اور رواں برس کے ابتدائی ایام میں ٹرمپ نے وینیزویلا کے ساحلوں کے قریب امریکی بحریہ کے چوتھے بیڑے (4th Fleet) کو تعینات کیا۔ بحیرہ کیریبین میں طیارہ بردار بحری بیڑوں اور ڈسٹرائرز (Destroyers) کی تعداد بڑھائی گئی، تاکہ وینیزویلا کی تیل کی سپلائی اور ممکنہ فرار کے راستوں کو روکا جا سکے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے جہازوں کو منشیات کی روک تھام کے بہانے وینیزویلا کی سمندری حدود کے بالکل قریب تعینات کیا گیا۔ امریکہ نے کولمبیا کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کیں۔ امریکی اسپیشل فورسز اور لاجسٹک یونٹس کو وینیزویلا کی سرحد کے قریب "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد” کے نام پر منتقل کیا گیا، جو درحقیقت زمینی کارروائی کی تیاری تھی۔

برازیل کے ساتھ فوجی تعاون بڑھایا گیا، تاکہ جنوبی سرحد سے بھی دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔ P-8 Poseidon اور جدید ڈرونز کے ذریعے وینیزویلا کے صدارتی محل (Miraflores Palace) اور فوجی اڈوں کی 24 گھنٹے نگرانی شروع کی گئی۔ وینیزویلا کے کمیونیکیشن سسٹم کو مفلوج کرنے کے لیے الیکٹرانک وارفیئر کے طیارے خطے میں بھیجے گئے، تاکہ آپریشن کے وقت وینیزویلا کی فوج کا رابطہ منقطع کیا جا سکے۔ اس تمام کارروائی کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ پہلا مرحلہ یا حربہ یقیناً نفسیاتی اور سیاسی دباؤ کا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مرکز سے دور کیا جاسکے، مخالف کو دباؤ میں لا کر تنہائی کا احساس دلوایا جا سکے۔ اطلاعات ہیں کہ ترکی ایران کے ساتھ ملنے والی اپنی سرحد پر بفر زون قائم کرنے کا سوچ رہا ہے، مختلف ائیر لائنز نے خلیج کی جانب جانے والی پروازوں کو کم کر دیا ہے۔

ایرانی معیشت اور تیل کی ترسیل کے نظام پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ  ایران کے لیے بحری راستہ بہت اہمیت کا حامل ہے، ایرانی تیل اسی ذریعے سے چین تک پہنچتا ہے، جس میں یقیناً مشکلات آسکتی ہیں، ایک جانب ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں ہیں تو دوسری جانب وہ ممالک جو ایران سے تجارت کر رہے ہیں، ان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایران میں حالیہ مظاہرے، ان مظاہروں کا پرتشدد ہونا سب اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ اس وقت اسرائیل اور امریکہ کا مین فوکس ایران ہی ہے۔ حماس، حزب اللہ اور انصار اللہ میں ردعمل کی وہ طاقت نہیں رہی، جو 2023ء سے قبل تھی، جسے امریکہ اور اسرائیل ایک مناسب موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ہم اپنے اہم سوال کی جانب لوٹتے ہیں، جنگ ہوگی یا نہیں۔؟

میرے خیال میں ایران اور امریکہ نیز اس کے لے پالک اسرائیل کی جنگ اس روز سے جاری ہے، جب سید روح اللہ خمینی نے امریکہ کو شیطان بزرگ اور اسرائیل کو غدہ سرطانی قرار دیا تھا۔ ایران کی پارلیمان میں دھماکہ اور بہت سے ممبران پارلیمنٹ کی شہادت، مجاہدین خلق جنھیں منافقین خلق بھی کہا جاتا ہے، کی دہشت گردانہ کارروائیاں، ایران عراق جنگ، ایران پر مختلف ادوار میں امریکہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ کی پابندیاں، انقلاب سبز کے نام پر عوام کو ورغلانا، ایران میں فسادات اور خلفشار کی کوششیں، ایران سے فکری و نظری ہم آہنگی رکھنے والے گروہوں خواہ فلسطین میں ہوں، لبنان میں ہوں، شام میں ہوں یا یمن پر حملے، ان کی اہم اور قد آور شخصیات کا قتل، گذشتہ برس ایران پر بارہ روزہ اسرائیلی و امریکی جارحیت سب جنگ نہیں تو اور کیا ہے۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب جنگ ایک فیصلہ کن معرکہ کی جناب بڑھ رہی ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ ایران دھونس دھمکی کو قبول نہیں کرے گا۔

مسلم دنیا میں کوئی بھی ملک ایران یا خطے میں جنگ نہیں چاہتا۔ وہ عرب ریاستیں جو پہلے ایران کو دشمن تصور کرتی تھیں، اب اس کے خلاف جارحیت کی مذمت کرتی دکھائی دیتی ہیں، تاہم ساتھ ساتھ وہ امریکہ سے اس قدر خوفزہ ہیں کہ ٹرمپ کی ایک کال پر باجماعت ڈیوس پہنچ گئے۔ وہ بورڈ جس کے چارٹر میں نہ فلسطین کا تذکرہ ہے، نہ اس کو حل کرنے کی بات یہ بے چارے مسلمان ٹرمپ کے حکم پر اس کا حصہ بن گئے۔ ان سے کسی اچھائی کی امید رکھنا بے سود ہے۔ میری نظر میں امریکہ اس وقت کسی طویل جنگ کو چھیڑنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اس کی معیشت بدحالی کا شکار ہے، مختلف ریاستوں میں ہنگامے اور فسادات ہو رہے ہیں، کرپٹو مارکیٹ گذشتہ پانچ ماہ سے شدید مندی کا شکار ہے۔ یورپ امریکہ پر اب ویسا اعتماد نہیں کرتا، جیسا یوکرین جنگ سے پہلے کرتا تھا۔

گرین لینڈ پر قبضے کی باتیں، کینیڈا کی توہین نے پورے خطے کو بے چینی سے دوچار کر رکھا ہے۔ چین اور روس سے امریکہ کی پہلے نہیں بنتی، ایسے میں ایک لمبی جنگ امریکہ کے فائدے میں نہیں، امریکا کی نظر ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر پر ضرور ہوگی اور یہ کام ایران میں بدامنی اور خلفشار پھیلا کر با آسانی کیا جا سکتا ہے۔ میرے ذاتی رائے میں جس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، امریکہ اور اسرائیل ایران پر ایک شدید ضرب لگائیں گے، جس میں ان کی خواہش ہوگی کہ ایران میں کلی طور پر نیز دفاعی شعبہ میں قیادت کا فقدان پیدا کیا جائے، تاکہ ایران کی جواب دینے کی قوت متاثر ہو۔ ساتھ ساتھ ملک میں موجود ایجنٹوں کو دوبارہ فعال کرکے انارکی اور فساد پھیلایا جا سکے۔ اگر ایران اپنی قیادت کے نظام، کمیونیکیشن نیٹ ورک اور عوام سے رابطے کو بحال رکھتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل کے لیے کسی ڈراونے خواب سے کم نہ ہوگا۔

بارہ روزہ جنگ نے ثابت کیا کہ ایک شخص نے ایران کو دوبارہ قدموں پر کھڑا کر دیا۔ چیف آف آرمی سٹاف، سپاہ کے چیف، انٹیلیجنس چیف، ائیرو سپیس کے چیف اور مختلف اہم عہدیداروں کی شہادت کے باوجود ایران نے شام سے پہلے جواب دینا شروع کیا اور میزائل تل ابیب میں گرنے لگے۔ امریکہ اور اسرائیل اگر اب حملہ کریں گے تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ ایک شخص دوبارہ ایسا نہ کرسکے۔ ایران کو اپنی قیادت، نظام مواصلات اور رابطوں کو زندہ رکھنا ہے، اگر یہ زندہ رہے تو امریکہ نیز اسرائیل کی دوڑیں یقینی ہیں۔ جہاں تک اقوام عالم کا سوال ہے تو جنگ میں کوئی قریب نہیں آئے گا، ہاں آپ کو فتح یاب دیکھ کر سب آپ کے ساتھ تصاویر بنوانا پسند کریں گے۔ رہا مذاکرات کا امکان تو ٹرمپ کے ذلت آمیز مطالبات کو تسلیم کرنا ایران کو پلیٹ میں رکھ کر اسکے سپرد کرنے کے مترادف ہے۔ ایرانی قوم ایسا کبھی نہیں کرے گی، خدا ہمارے ایرانی بھائیوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

بشکریہ اسلام ٹائمز