Skip to content

کراکس پر امریکی حملہ، وینزویلا کا مستقبل

تحریر: سید اسد عباس

وینزویلا، جس کا سرکاری نام بولیویرین جمہوریہ وینزویلا ہے، جنوبی امریکہ کے شمالی ساحل پر واقع ایک ملک ہے۔ یہ ملک بحیرہ کیریبین میں واقع کئی جزائر پر مشتمل ہے۔ اس کا کل رقبہ 916,445 مربع کلومیٹر ہے اور 2022ء میں اس کی آبادی کا تخمینہ 29 ملین (2 کروڑ 90 لاکھ) لگایا گیا تھا۔ اس کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر کراکس ہے۔ وینزویلا کے شمال میں بحیرہ کیریبین اور بحر اوقیانوس، مغرب میں کولمبیا، جنوب میں برازیل، شمال مشرق میں ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو اور مشرق میں گیانا واقع ہے۔ وینزویلا 23 ریاستوں، دارالحکومت کے ضلع اور وفاقی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ لاطینی امریکہ کے سب سے زیادہ شہری آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں کی اکثریت شمالی شہروں اور دارالحکومت میں رہتی ہے۔ وینز ویلا 1522ء میں عوامی مزاحمت کے بعد ہسپانیہ کی نوآبادی بنا، 1811ء میں کولمبیا کے ہمراہ آزادی کا اعلان کیا، 19 ویں اور بیسویں صدی کے وسط تک وینزویلا معاشی عدم استحکام اور سیاسی افراتفری کا شکار رہا۔

موجودہ صدر مادورو سے قبل ہوگیو شاویز وینزویلا کے صدر تھے، یہ دونوں حکمران اپنی امریکہ مخالف پالیسیوں اور سوشلسٹ نظریات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔مغربی مبصرین ان دونوں افراد کے دور کو آمرانہ دور قرار دیتے ہیں، جس میں آزادیِ صحافت، شہری آزادیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی مبصرین، حکومتوں اور دانشوروں کا یہ رویہ ہر اس سربراہ یا سیاسی لیڈر کے بارے میں ہوتا ہے، جو امریکہ یا سرمایہ دارنہ نظام کے مخالف ہوتا ہے، تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہوتے ہیں۔ بیرونی سازشوں کے ماحول میں اقتدار کو قائم رکھنا، آسان کام نہیں، جس میں بعض سخت فیصلے اور اقدامات لینے پڑتے ہیں۔ وینزویلا کی 71 فیصد آبادی کیتھولک مسیحیوں پر مشتمل ہے، تقریباً 18 فیصد پروٹسٹنن جبکہ 8 فیصد اوینجیلیکلز ہیں۔

وینزویلا ایک ترقی پذیر ملک ہے، جس کے پاس دنیا کے تیل کے سب سے بڑے معلوم ذخائر موجود ہیں۔ یہ ملک پہلے کوکو اور کافی درآمد کرتا تھا، تاہم تیل کی دریافت کے بعد زرمبادلہ کا زیادہ حصہ تیل کی آمدن سے حاصل ہونے لگا۔ وینزویلا کا زیادہ تر تیل چین کو فروخت ہوتا ہے۔ امریکہ مخالف رژیم ہونے کے وجہ سے وینزویلا پر کئی  اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، جس میں تیل کی فروخت پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے سبب ملک میں مہنگائی، بنیادی اشیاء کی قلت، بے روزگاری، غربت، صحت کے مسائل اور جرائم کو فروغ ملا۔ موجودہ صدر مادورو سابق صدر ہوگیو شاویز کی سوشلست پارٹی کے رکن ہیں، جو پہلی مرتبہ 2013ء میں ملک کے سربراہ منتخب ہوئے۔ حزب اختلاف نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا، دوسری مرتبہ مادورو 2018ء میں 68 فیصد کے ساتھ صدر منتخب ہوئے، جسے لاطینی امریکہ کے ممالک سمیت کئی مغربی ممالک نے دھاندلی پر مبنی انتخاب قرار دیا۔ 2024ء کے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھنے کو ملی۔

وینزویلا اور امریکہ میں کشیدگی گذشتہ ایک ماہ سے شدت اختیار کرچکی تھی، ٹرمپ مسلسل مادورو کو دھمکیاں دے رہے تھے، گذشتہ ہفتے انھوں نے مادورو کو ہتھیار ڈالنے کو کہا، جسے مادورو نے قبول نہ کیا۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے گذشتہ رات وینزویلا کے صدر مقام پر ایک فوجی کارروائی کی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نے مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے اور انھیں امریکہ پہنچا دیا گیا ہے۔ فی الوقت ان دونوں افراد کے حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں ہے، وینزویلا کی نائب صدر نے مادورو اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگا ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مادورو اس وقت وینزویلا میں موجود نہیں ہیں۔ مادورو امریکی اشتہاری افراد کی فہرست میں شامل تھے، ان پر امریکہ میں منشیات اور ہتھیاروں  کی سمگلنگ کا الزام تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نکولس مادورو سختی سے ان الزامات کی تردید کرتے رہے۔ انھوں نے امریکہ پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ (امریکہ) اپنی "منشیات کے خلاف جنگ” کو انھیں اقتدار سے ہٹانے اور وینزویلا کے بڑے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

لاطینی امریکہ کے ممالک برازیل، میکسیکو، چلی اور کولمبیا نے امریکی حملے کی مذمت کی ہے۔ ان ممالک کے سربراہان اور سیاسی قائدین نے تقریباً ملے جلے الفاظ کے ساتھ اس حملے کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا، جس سے ملک اور خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا اور ایک بری مثال قائم ہوگی۔ لاطینی امریکہ میں اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مادورو کی عدم موجودگی سے وینزویلا کے سیاسی، سماجی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کے خطے کے دیگر ممالک پر کیا اثرات ہوں گے۔ اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اور حکومت کی تبدیلی خطے میں مزید بدامنی اور بے چینی کو جنم دے گی۔ وینزویلا میں جمہوریت کے احیاء اور امن و امان کے قیام کی توقعات کم ہیں، یہ تبدیلی بے چینی کے ایک طویل دور کا نقطہ آغاز ہے۔

وینزویلا کے کچھ سیاسی قائدین مزاحمت کی بات کر رہے ہیں، تاہم یہ سوال اہم ہے کہ کیا وینزویلا امریکہ پر جوابی حملہ کرنے کی حیثیت میں ہے۔ اس تبدیلی سے تیل کی صنعت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، جب تک وینزویلا میں حالات معمول پر نہیں آتے، چین کو اپنی تیل کی ضروریات کے لیے دوسرے فراہم کنندگان پر انحصار کرنا ہوگا۔ ایک نظر سے دیکھا جائے تو امریکہ کا یہ حملہ فقط وینزویلا پر نہیں بلکہ سوشلسٹ نظام، سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین اور امریکہ مخالف بلاک پر حملہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ بلاک اس حملے کے اثرات سے کیسے نمٹتا ہے اور اس کا کیا جواب دیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں چین کا جواب معاشی ہوگا، جبکہ خطے کے سوشلسٹ ممالک بیانات سے آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ افسوس کے ساتھ دنیا کے باقی ممالک بھی بیان بازی پر ہی اکتفا کریں گے، تاہم یہ حملہ اس تاثر کو تقویت دے گا کہ اگر آزادی درکار ہے تو طاقت کا دانشمندانہ حصول اور استعمال ناگزیر ہے۔ بہت امکان ہے کہ میڈیا اور عالمی توجہ کو بدلنے کے لیے اگلا حملہ مشرق وسطیٰ میں ہوگا، جو امریکا نہیں، اس کا پالتو انجام دے گا۔ سال نو کے آغاز پر یہ حملہ اچھا شگون نہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز